پنجاب میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ بچھاڑ عمر شیخ کے بعد آئی پنجاب اور چیف سیکرٹری کی تبدیلی کا امکان

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک /آئن لائن ) پنجاب میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متوقع ، وزیراعلی پنجاب کو تجویز پیش کر دی گئی ۔ نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں اعلیٰ سطح پر اکھاڑ بچھاڑ کے بعد نئے چہروں کو سامنے لایا جائے گا ۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سی سی پی او لاہور کے بعد آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کے بھی تبدیل ہونے کا امکان ہے اس حوالے سے

تجاویز وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کو پیش کر دی گئیں ہیں جبکہ پنجاب میں بیورو کریسی میں تبدیلیاں زیر غور ہیں ۔ خیال رہے کہ آج سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا تبادلہ کر دیا گیا ہے ۔ قبل ازیں معروف صحافی و تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے نجی ٹی وی چینل پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں سیاسی مقاصد پورے نہ ہونے پر سی سی پی او لاہور کو ہٹایا گیا، معروف صحافی نے کہاکہ ان کے ساتھی کہتے ہیں کہ ان کے نامناسب رویے کی وجہ سے انہیں تبدیل کرنا پڑا، وزیراعلیٰ پنجاب کو کئی لوگوں نے جا کر کہا کہ آپ نے عمر شیخ کو لاہور کا سی سی پی او لگا دیا ہے ان کی رپوٹیشن یہ ہے، آئی بی کی رپورٹ کی وجہ سے عمر شیخ کو ترقی نہیں دی گئی تھی، وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو لاہور کے بہت سے سینئر افسران نے جا کر کہا کہ کرائم میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے، عمر شیخ عموماً صبح کے وقت دفتر نہیں ہوتے بلکہ زیادہ تر رات کے وقت دفتر ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ نئے سال کے آغاز پر ہی لاہور کے کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) لاہور عمر شیخ کو انکے عہدے سے ہٹا کر غلام محمود ڈوگر کو نیا سی سی پی لاہور تعنیات کرنے کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا گیا جبکہ عمر شیخ کو ڈپٹی کمانڈنٹ پنجاب کانسٹیبلری تعنیات کیا گیا ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق گریڈ 20 کے عمر شیخ کو

اسی تنخواہ پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس/ڈپٹی کمانڈنٹ پنجاب کانسٹیبلری فاروق آباد کے عہدے پر تعینات کردیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے عمر شیخ کو شہر میں جرائم کنٹرول نہ کرنے اور خراب کارکردگی پر تبدیل کیا جبکہ وزیراعلیٰ معذور شخص کو سیکورٹی اسکواڈ میں شامل کر نے پر بھی ناراض تھے۔ عمر شیخ کو عہدے سے ہٹانے سے قبل ایوان وزیر اعلیٰ میں غلام محمود ڈوگر کا انٹرویو کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ عثمان بزادر نے عمر شیخ کو تبدیل کرکے انہیں ڈپٹی کمانڈنٹ پنجاب کانسٹیبلری فاروق آباد تعینات اور ان کی جگہ غلام محمود ڈوگر کو سی سی پی اور لاہور تعینات کرنے کی منظوری دیدی۔ عمر شخ اپنی تقرری سے ہی آئی جی پنجاب کے خلاف بیانات اور موٹروے کیس میں متنازع جانے جا تے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ نئے سی سی پی او لاہور تعنیات ہونے والے غلام محمو د ڈوگر فیصل آباد کے آر پی او کے علاوہ کیپٹل پولیس افسر (سی پی او) لاہور کے عہدے پر اپنے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔دوسری جانب 2020ء کو بیوروکریسی میں اتھل پتھل کا سال قرار دینا بے جا نہ ہوگا۔ پنجاب بھر میں ریکارڈ توڑ تقرر و تبادلے کیے گئے۔ چیف سیکرٹری، آئی جی، سیکرٹریز، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، آر پی اوز اور ڈی پی اوز سمیت متعدد افسران کوادھر ادھر کیا گیا۔2020ء کے دوران پنجاب میں اتنے بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ نے نہ صرف بیوروکریسی میں بددلی پھیلا دی بلکہ محکمانہ امور بھی بری طرح متاثر ہوئے، سرکاری محکموں کے اعدادوشمار کے مطابق 2020ء میں 3872 تبادلے کئے گئے۔ سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب شمائل احمد خواجہ نے کہا کہ آئے روز کے تبادلے انتظامی خرابی کا سبب بننے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *