مفتی منیب الرحمان کو چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کے عہدے سے ہٹانے پر دینی جماعتوں کا شدید ردعمل

لاہور (آن لائن) مذہبی امور کے وفاقی وزیر کی طرف سے رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو کی آڑ میں مفتی محمد منیب الرحمن کو رویت حلال کمیٹی کی چیئرمین شپ سے ہٹانے کی شدید مزمت کرتے ہیں حکومتی فیصلہ اہل سنت سے دشمنی کے مترادف ہے۔عمران حکومت ہر ادارے میں جاہل کرپٹ اور نااہل لوگوں کو رکھتی ہے ایک ادارے میں اتنے قابل احترام عالم دین اور نیک ایماندار

چئیرمین تھے روئیت ہلال کے ان کو بلاوجہ ہٹانا حکومت کی سخت نااہلی ہے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان سنی تحریک کی اپیل پر مفتی منیب الرحمان کو عہدے سے ہٹائے جانے کے خلاف یوم مذمت کے موقع پرمساجد میں سنی تحریک علماء بورڈ کے ممبران نے حکومتی اقدام کے خلاف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے۔حکومتی فیصلے کے خلاف قراردایں بھی منظورکروائیں گئیں۔اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے محمد وسیم نقشبندی۔ مفتی شہباز علی سیال۔ علامہ غلام رسول رضوی۔ پیر اصغر علی سیفی۔ علامہ فیاض حسین چشتی۔سید ظفر اقبال شاہ۔علامہ ضیاء المرتضی۔حافظ ندیم ظفر۔ علامہ میاں خلیل جامی۔ علامہ عمر زمان صدیقی۔ علامہ عبدالستار صدیقی۔علامہ خلیل نقشبندی۔ علامہ رضوان قادری۔ مولانا وقاص ڈوگر۔علامہ سید نوید شاہ۔حافظ مقتدر نواز سمیت دیگر نے خطابات کرتے ہوئے کہا کہ مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان صاحب کو رویت ہلال کمیٹی کی چیئرمین کے عہدے سے ہٹانا ناقابل قبول فیصلہ ہے،اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،حکومت غیر ملکی کابینہ کے اسلام دشمن ایجنڈے کو پاکستان میں نافذ کرنے کے لئے پر تول رہی ہے۔مفتی منیب الرحمن کو رویت ہلال کمیٹی سے 19سال بعد ہٹادیا گیا،مفتی منیب الرحمان چاند کو سرکاری زاویہ کے بجائے شریعت کی روشنی میں دیکھنے کی اپنی بھرپور کوشش کرتے رہے ہیں،یہی وجہ ہے کئی بار سرکاری وزراء نے ان کے چاند دیکھنے

کے فیصلے کو متنازع بنانے کی بھی ماضی میں بہت کوششیں کی ہیں اور ہمیشہ سے ہی مفتی منیب الرحمن کا اس معاملے میں حکومتوں کیساتھ معاملہ گرم سرد رہاہے، اسی طرح دیگر کئی معاملات میں بھی وہ جراتمندی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں، موجودہ کلینڈر سرکار میں بھی فواد چوہدری کو مداخلت پرخوب سنائی تھی اور جرات کا مظاہرہ کیا تھا جسے تاریخ اچھے لفظوں میں یاد رکھے

گی، مفتی منیب الرحمن پاکستان کی بڑی علمی، سلجھی اور سنجیدہ شخصیات میں سے ہیں جن کو تقریبا تمام مسالک عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، یقینا ان کو ذمہ داری سے ہٹانے پر ہر صاحب رائے کا دل رنجیدہ ہے۔ملک بھر کی دینی جماعتوں جن میں جماعت اہلسنت پاکستان، انجمن طلباء اسلام، تحریک لبیک یارسول اللہ، تحریک صراط مستقیم،

انجمن نوجوانان اسلام، تحریک خدام العلما پاکستان،تحریک اصلاح شامل ہیں کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں مفتی منیب الرحمن کو رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کو غلط قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ مہنگائی کے طوفانوں سے عوام کا گلا گھونٹنے کے بعد دینی اداروں کوحکومت نے متنازعہ بنانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *