جاوید مرتضی اور سجاد اعوان کا استعفوں سے انکار اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنا فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/آئن لائن )پاکستان مسلم لیگ ن2 ارکان اسمبلی کا استعفوں سے انکار ، معاملہ سنگین ہوگیا، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے استعفوں کا آڈٹ کرنے کا عندیہ دیدیا ۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ ن لیگ کے اراکین نے انکار کیا اور مجھے بتایا کہ یہ استعفے ہمارے نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں اراکین نے استعفے سے انکار کر دیا کہ

یہ استعفے ہمارے نہیں ہیں بلکہ یہ جعلی استعفے ہیں لہٰذا منظور نہ کیے جائیں ۔ اسد قیصر نے دونوں رہنمائوں کے استعفوں کا آڈٹ کرانے کاعندیہ جاری کیا ہے ۔ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما و رکن قومی اسمبلی جاوید مرتضی عباسی اور سجاد اعوان اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے سامنے مکر گئے ۔ نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ذرائع کہا ہے کہ ن لیگ دونوں رہنمائوں نے اسپیکر قومی اسمبلی کے سامنے اپنے استعفوں کا واپسی کا مطالبہ کیا ہے کہ اور تحریری درخواست دی ہے کہ ہمارے استعفے نہ قبول کیے جائیں سجاداعوان اور مرتضیٰ جاوید کی درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ ہمارے استعفے منظور نہ کئے جائیں، اس کے علاوہ ن لیگی ایم این اے مرتضیٰ جاوید عباسی نے اسپیکر قومی اسمبلی سے ان کے چیمبر میں ملاقات بھی کی۔واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو استعفیٰ بھجوانے والے دو اراکین مرتضی جاوبد عباسی اور محمد سجاد نے استعفوں کی واپسی کیلئے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے رابطہ کیا ہے ۔قومی اسمبلی شعبہ قانون سازی کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مرتضی جاوید عباسی اور محمد سجاد اپنے استعفے واپس لینا چاہتے ہیں تاہم یہ زبانی نہیں ہوگا ہم نے ان پر واضح کیا ہے کہ وہ استعفوں کی واپسی کیلئے سپیکر کے نام ہی تحریری درخواست دیں ورنہ یہ استعفے واپس نہیں ہونگے ۔ ذرائع نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے قاعدہ 43کے تحت استعفوں کی منظوری کا عمل مکمل کیا جائیگا اور اسی کے تحت دونوں اراکین کو سات دن کے اندر سپیکر کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے ۔اگر وہ پیش نہیں ہوتے تو پھر ان کے استعفے منظور تصور ہونگے لیکن اگر وہ استعفے واپس لینا چاہتے ہیںتو پھرانہیں اس کیلئے تحریری طورپر درخواست دینا ہوگی ۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں اراکین کے استعفے سپیکر آفس کو باضابطہ موصول ہوئے جس کا تمام ریکارڈ بھی موجود ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ استعفوں کے اندر انہوں نے پارٹی قیادت کے حوالے استعفے کرنے کی بات کی ہے لیکن چونکہ ان استعفوں کا مخاطب سپیکر قومی اسمبلی ہے تو لحاظہ اسی وجہ سے سپیکر نے دونوں کیخلاف کارروائی کو آگے بڑھانے کیلئے نوٹس جاری کئے ہیں

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.