تیر چلا اور نشانے پر لگا کہ پاش پاش ہوگیا، پی ڈی ایم کو تلاش کرنا چاہیے ان کے ساتھ کس نے ہاتھ کردیا، حیران کن انکشاف

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی ورزراء نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کسی صورت مستعفی نہیں ہونگے ،اپوزیشن 31جنوری کا انتظار کیوں کررہی ہے ،اپنا فیصلہ کر ے ،پیپلز پارٹی استعفیٰ نہیں دینا چاہتی اور نہ ہی لانگ مارچ کے لئے تیار ہے ،پی ڈی ایم کا بیانیہ پی ڈی ایم کی جماعت نے ہی دفن کردیا اور تیر چلا اور نشانے پر لگا کہ پاش پاش ہوگیا، پی ڈی ایم کو تلاش کرنا چاہیے

ان کے ساتھ کس نے ہاتھ کردیا،قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کی گرفتاری پر وہ خود ہی وضاحت دے سکتے ہیں،نیب قوانین اور اس کے چیئرمین کے انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کا کوئی دخل نہیں ، مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کس کی جرات ہے ہم سے سوال کرے ،احتساب کے عمل سے تحریک انصاف اور عمران خان پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ بدھ کو وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز اور وزیراعظم عمران خان سے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب قوانین اور اس کے چیئرمین کے انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کا کوئی دخل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ لگتا یہ ہے کہ خواجہ آصف نیب کو مطمئن نہیں کرسکے اور اگر وہ منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات کا تسلی بخش جواب دیتے تو گرفتاری کی نوبت نہیں آتی۔انہوںنے کہاکہ جب ہم اپوزیشن سے فیٹف پر قانون سازی کی بات کررہے تھے تب وہ نیب کے قانون میں ترمیم کی بات کررہے تھے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں اس امر پر تعجب ہوتا تھا کہ یہ دونوں ادارے الگ الگ ہیں لیکن اپوزیشن فیٹف کو ڈھال بنا کر نیب قوانین میں ترمیم چاہتے تھے۔انہوںنے کہاکہ ہمارے اصرار پر اپوزیشن نے موقف اختیار کیا کہ نیب کے قوانین میں رعایت ملے گی تو فیٹف پر ووٹ دیں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ

نیب قوانین میں ترمیم کا تقاضہ اس لیے زور پکڑ گیا تھا کہ انہیں آنے والے وقتوں میں کچھ مشکلات نظر آرہی تھیں۔انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے کہا کہ وہ کہتے تھے کہ کس کی جرات ہوتی ہے کہ ہم سے سوال کرے جبکہ مولانا فضل الرحمن اور ان کے رہنماؤں کو ثبوت پیش کرتے ہوئے کہنا چاہیے تھا کہ نیب کے الزامات میں وزن نہیں ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان سے جب یہی سوال پوچھا گیا تو انہوں نے 40 سال پرانا ریکارڈ اور سارے شواہد عدالت میں پیش کردئیے، عدالت نے شواہد تول کر خان صاحب کو صادق اور امین ڈکلیئر کیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کا یہ راستہ سب کے سامنے ہے، سب کو یہ راستہ اپنانا چاہیے، خواجہ آصف سے پوچھا گیا وہ ثبوت دیں، کوئی سوال بھی نہ کرے آپ جواب بھی نہ دیں،

یہ ممکن نہیں ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ احتساب کے عمل سے تحریک انصاف اور عمران خان پیچھے نہیں ہٹ سکتے، اپوزیشن کہتی ہے مذاکرات پر تب آئیں گے، جب عمران خان مستعفی ہوں گے، یہ ایسی شرط ہے جس کا مقصد وہ مذاکرات سے کترارہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے مستعفی ہونے کی اپوزیشن کی شرط دراصل ان کے اس ارادے کو ظاہر کرتی ہے کہ

وہ مذاکرات پر آمادہ نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن 31 جنوری کا اتنظار کیوں کررہی ہے، میں واضح کردیتا ہوں کہ وزیر اعظم عمران خان مستعفی نہیں ہوں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ڈی ایم کا بیانیہ پی ڈی ایم کی جماعت نے ہی دفن کردیا اور تیر چلا اور نشانے پر لگا کہ پاش پاش ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی سے باہر جانا چاہتے ہیں تو ضمنی و سینیٹ انتخابات کی تیاری کیوں کررہے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ اپوزیشن نے لانگ مارچ کو نواز شریف کی واپسی کے ساتھ مشروط کردیا تو اس کا مطلب ہے کہ پی ڈی ایم کے بنیادی نقطے تھے جس پر ساری مہم تیار کی اور درحقیقت دفن کردی گئی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ڈی ایم کو تلاش کرنا چاہیے کہ ان کے ساتھ کس نے ہاتھ کردیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پیش کردہ دو استعفوں کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے انہیں بلایا لیکن انہوں نے آنے سے انکار کردیا، اب صورتحال یہ ہے کہ وہ استعفیٰ دیتے ہیں لیکن قرار بھی نہیں کرتے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ

ان کی اپنی پارٹی کی نائب صدر مریم نواز کہتی ہیں کہ ان کے استعفیٰ منظور کرلیے جائیں لیکن وہ تصدیق کے لیے ہی نہیں آتے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر وہ واقعی مستعفی ہونا چاہتے ہیں تو ابتدا کرلیں، پیپلز پارٹی نے واضح کردیا کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے اور لانگ مارچ کے لیے بھی تیار نہیں ہیں، مسلم لیگ سنجیدگی دکھائی دیتی ہے کہ اس لیے ان کی پارٹی کو چاہیے کہ وہ دو رکن اسمبلی کو مستعفی ہونے کا کہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان سے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے اپنے والد نواز شریف کو اقامہ میں دی گئی سزا کو نا جائز قرار دیالیکن وہ بھول گئیں کہ اقامہ ایک رہائشی اجازت نامے کو کہتے ہیں جس کی بنیاد پر بیرون ملک بینک اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت مل جاتی ہے‘بابر اعوان نے کہا کہ مزدور اقامہ لیتے ہیں

اور وہ روزگار کے حاصل آمدنی ملک بھیجتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اقامہ کی مد سے ناجائز کمائے گئے پیسے پھر بیرون ملک جاتے ہیں اور کچھ پیسے باہر نکال دیتے انہیں آف شور کمپنی میں رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چینی والا، پاپڑ والا سنا ہوگا اب میں چاول والا بتا رہا ہوں، خواجہ آصف والے کیس میں بغیر کسی بزنس کے کروڑوں روپے کا سودا چاول کی ایکسپورٹ طریقے سے کیا گیا۔بابر اعوان نے کہا کہ ایک سال میں بغیر کسی بزنس کے 10 کروڑ روپے پہلے یہاں سے ادھر گئے اور پھر ادھر سے

منی لانڈرنگ کے ذریعے یہاں آگئے،یہ پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدیدار تھے انہیں اقامہ کی کیا ضرورت تھی۔بابر اعوان نے کہا کہ خواجہ آصف نے عدالت میں کہا کہ باہر جس کمپنی میں کام کیا وہ تصدیق کیلئے آئیں گے،خواجہ آصف نے کہا کمپنی کا مالک لبنانی ہے وہ مجھے تنخواہ دینے کی تصدیق کیلئے آئیگا، یہ معاملہ بھی قطری خط کی طرح ہے۔اس موقع پر وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ بد قسمتی سے ماضی کے حکمرانوں نے اداروں کواپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا اور انہی کے

ذریعے ناجائز دولت کو ملک سے باہر لے گئے ، ملک اور عوام کو غریب کیا ۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں مہنگائی سمیت کئی مسائل ہیں کیونکہ ماضی کے حکمرانوں نے ان مسائل پر توجہ ہی نہیں دی ۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ سینٹ کا اجلاس اپوزیشن کی ریکوزیشن پر ہورہا ہے اور چھ نکاتی ایجنڈا بھی اپوزیشن کا ہے ہمارا کوئی ایجنڈا نہیں ۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ اپوزیشن کی جانب سے پھر کوشش کی گئی کہ

پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم کو اپنی سیاہ کاریوں کو چھپانے کیلئے استعمال کیا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ سینٹ میں ہماری تعداد کم ہے مگر ہم اپوزیشن سے سوالات کرینگے اور ان کے جوابات دینے ہونگے انہوںنے کہاکہ اپوزیشن سے ہمارے سوالات کا جواب ملنا کم ہے مگر امید رکھتے ہیں کہ ہمارے سوالوں کے جوابات ملیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے سوالات تو اپنی جگہ ہیں مگر اپوزیشن کو عدالتوں ، قانونی اداروں کے سوالات کاجواب دینا پڑے گا ۔ انہوںنے کہاکہ قانون کسی کا ماتحت نہیں ،سب قانون کے ماتحت ہیں ،آپ نے جو کام کئے ہیں اس کا عام شہری کی طرح جواب دینا پڑیگا ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.