2020ءمیں چینی کی قیمتوں میں اضافے سے عوام کی جیبوں پر 65ارب روپے کا ڈاکا، سرکاری ادارہ شماریات کی رپورٹ میں انکشاف ‎

اسلام آباد (این این آئی)2020 کاپورا سال مہنگائی کا راج رہا اور سب سے زیادہ اضافہ کھانے پینے کی اشیاء میں ہوا۔وفاقی حکومت کو پیش کی گئی سرکاری ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ اضافہ روزمرہ کی کھانے پینے کی اشیاء میں ہوا جن میں  سب سے زیادہ مہنگا مٹن ہوا  جس کی قیمت میں 98 روپے اضافہ ہوا ، بیف 43 روپے 89 پیسے فی کلو مہنگا ہوا۔

سرکاری دستاویز کے مطابق انڈے76 روپے فی درجن، مرغی 60 روپے فی کلو اور چینی 30 روپے فی کلو مہنگی ہوئی، اکتوبر میں چینی سال کی بلند ترین سطح 103 روپے 47 پیسے تک پہنچ گئی۔سرکاری ذرائع کے مطابق 2020 میں چینی کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر 65 ارب روپیہ اضافی بوجھ پڑا۔دستاویز کے مطابق گھی 32 روپے فی کلو، آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 130 روپے سے زائد، دودھ ساڑھے 11 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا ، جنوری تا دسمبر 2020 آلو 4 روپے 22 پیسے، دہی ساڑھے13 روپے اور  چاول سوا 7 روپے کلو مہنگے ہوئے۔دستاویز کیمطابق دالوں کی قیمتوں میں بھی پورا سال اضافہ جاری رہا جس میں دال ماش ساڑھے 31 روپے فی کلو، دال مسور 11روپے 64 پیسے اور دال مونگ ساڑھے 6 روپے کلو مہنگی ہوئی۔دستاویز میں کہاگیا کہ گڑ 10 روپے کلو اور کیلے3 روپے درجن مہنگے ہوئے جب کہ ٹماٹر سال کیآغاز پرپہلے مہنگے اور آخر میں 95 روپے فی کلو سستے ہوئے،اس کے علاوہ پیاز 16 روپے، لہسن 35 اور دال چنا 7 روپے فی کلو سستی ہوئی ، ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 450 روپے سستا ہوا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.