کینیڈا میں کریمہ بلوچ کی موت کا معاملہ 2 افراد گرفتار کرلئے گئے‎

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان عوامی پارٹی کی رہنما و پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات بشریٰ رندنے کہا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی اور صوبائی حکومت میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں خائف عناصر من گھڑت پرویپگنڈہ کرتے رہتے ہیں بلوچستان عوامی پارٹی نے سینٹ انتخابات کی بھر پور تیاری شروع کردی ہے پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں سینٹ انتخابات سے

قبل جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفیٰ ہوں کورونا وائرس کی صورتحال خطرناک ہورہی ہے اگر پی ڈی ایم 2ماہ تک جلسے ملتوی کردے توکوئی حرج نہیں،کریمہ بلوچ کی موت پرافسوس ہے صوبائی اور وفاقی حکومتیں کینیڈین حکومت سے رابطے میں ہیں کریمہ بلوچ کی میت کو انکے آبائی علاقے ذمہ داری کے ساتھ پہنچائیں گے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو بی اے پی کی رہنما شانیہ خان،درچین مری اور دیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے سینٹ کے انتخابات پر کام شروع کردیا ہے گزشتہ شب وزیراعلیٰ نے پارٹی کے پارلیمانی ارکان کا اجلاس بلایاتھا جس میں مختلف امور پر مشاورت کی گئی جلد ہی پارٹی اپنے امیدواروں کافیصلہ کرلے گی گزشتہ شب عشائیے میں کچھ ارکان کوئٹہ شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے نہیں آسکے ایسی کوئی بات نہیں کہ پارٹی میں کوئی اختلاف ہے حکومت مستحکم ہے اوراسے ابتک کوئی خطرہ نہیں پارٹیوں میں اختلافات ہوتے ہیں لیکن بی اے پی جس جمہوری انداز میں معاملات لے کرچل رہی ہے ہم سب وزیراعلیٰ کے سامنے کھل کر خیالات کا اظہارکرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اے این پی فی الحال حکومت کا حصہ ہے انکے حکومت سے علیحدہ ہونے کی کوئی خبرنہیں البتہ کسی دوسری سیاسی جماعت کے موقف کی میں وضاحت نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ کریمہ بلوچ کی کینیڈا میں موت المناک واقعہ ہے اس حوالے سے وزارت خارجہ نے کینیڈین حکومت سے رابطہ کیا ہے جبکہ اطلاعات ہیں کہ دو مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے ان سے تحقیقات کی جارہی ہیں انہوں نے کہا کہ کریمہ بلوچ نے سیاسی پناہ لے رکھی تھی انکے تحفظ کی ذمہ داری کینیڈین حکومت پر تھی لیکن وہ ایک پاکستانی شہری اور بلوچستان کی بیٹی تھیں انکی میت کو آبائی علاقے مکران لانے کے لئے مکمل تعاون اور کینیڈین حکومت سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کورونا وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی انکی قیادت بلٹ پروف گاڑیوں اور ماسک پہن کرآتی ہے جبکہ لوگوں کو بیمار ہونے کے لئے چھوڑ رکھا ہے لاہورکا جلسہ بھی ناکا م ہوگیاہے اب پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں صرف سینٹ انتخابات کے لئے رکی ہوئی ہیں کہ وہ سینٹ میں کچھ نشستیں حاصل کرلیں پی ڈی ایم کو مشورہ ہے کہ وہ انتظار نہ کریں اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے استعفیٰ دیں انہیں معلوم ہوچکا ہے کہ وہ اب دوبارہ منتخب نہیں ہوسکتے عوام نے انہیں مسترد کیا باریاں لینے کا نظام اب ختم ہوچکا ہے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ڈی ایم اپنے جلسے دو ماہ کیلئے ملتوی کردے پڑھے لکھے لوگوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ حساس معاملے میں غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں مکمل لاک ڈاون ہوچکا ہے صوبائی اوروفاقی حکومت بھی مائیکرو لاک ڈاون کی طرف جاسکتی ہیں انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت آنے سے پہلے بھی ٹماٹر،آٹا اورچینی مہنگے ہوتے تھے کوروناکی وجہ سے مہنگائی بڑھی ہے جبکہ گزشتہ دس سالوں کی نسبت موجودہ حکومت کے دورمیں معیشت کا گراف بہتر ہوا ہے ہم بھی مہنگائی محسوس کرتے ہیں حکومت پوری کوشش کررہی ہے کہ مہنگائی کو قابو کرکے عوام کوریلیف دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کریش پلانٹ،ڈیری فارم،آئرن،ٹمبر ڈپو،بس اڈے شہر سے باہر منتقل کئے جارہے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.