ٹرمپ نے عراقیوں کے قاتل بلیک واٹر اہلکاروں کو صدارتی معافی دیدی

واشنگٹن (این این آئی ،مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراقیوں کے قتل عام میں ملوث 4 بلیک واٹر اہلکاروں کو عام معافی دے دی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بلیک واٹر اہلکاروں نے 2007 میں 14 عراقیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

بلیک واٹر گارڈز کا موقف تھا کہ انہوں نے یہ کارروائی شدت پسندوں کے خلاف اپنے دفاع میں کی تھی۔بعدازاں 2014 میں عدالت نے پال سلو، ایون لیبرٹی، دسٹن ہرڈ کو30، 30 سال قید کی سزا سنائی تھی جب کہ نیکولس سلیٹن نامی بلیک واٹر سیکیورٹی گارڈ کو قتل کے جرم میں عمرقید کی سزا ہوئی۔وائٹ ہائوس کے بیان میں کہا گیا کہ یہ چاروں افراد سابقہ فوجی ہیں جو ملک کی خدمت کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں۔دوسری جانب ٹرمپ نے اپنی مدت کے آخری دنوں میں مبینہ طور پر سیاسی اتحادیوں کیلئے عام معافی کا اعلان کیا ہے، عام معافی پانے والوں میں ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا کے شوہر جیئرڈ کشنر کے والد چارلس کشنر بھی شامل ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عام معافی پانے والوں میں ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا کے شوہر جیئرڈ کشنر کے والد چارلس کشنر بھی شامل ہیں جو ٹیکس چوری سمیت دیگر جرم کا ارتکاب کر چکے ہیں۔ٹرمپ نے اپنے داماد جیئرڈ کشنر کے والد چارلس کشنر کی عام معافی میں نیو جرسی سے تعلق رکھنے والے سابق

امریکی وکیل کرس کرسٹی کے بجائے یوٹاہ سے تعلق رکھنے والے سابق امریکی وکیل کی حمایت کا حوالہ دیا ہے۔چارلس کشنر پر ٹیکس چوری، گواہی میں رد و بدل اور غیر قانونی مہم کا عطیہ جمع کرنے کے الزام میں ان پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔اس کے علاوہ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے سابق

مشیر جارج پاپاڈوپولس کو بھی مکمل معافی دی گئی ہے، جنہوں نے روسیوں کے ساتھ اپنے روابط کے بارے میں وفاقی اداروں سے جھوٹ بولنے کا اعتراف کیا تھا۔وائٹ ہائوس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ٹرمپ نے مجموعی طور پر 15 افراد کو معافی دی ہے جن کو 5 سال کی

سزائیں دی گئی تھیں۔ٹرمپ کی مہم کے سابق مشیر جارج پیپاڈوپولوس کو مکمل معافی دی گئی ہے جنہوں نے وفاقی تحقیق کاروں کے سامنے روس سے رابطوں کے حوالے سے جھوٹ بولنے کا اعتراف کیا تھا۔سابق مشیر 2016 میں صدارتی مہم کے دوران ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے مشاورتی پینل میں شامل تھے اور انہیں اکتوبر 2017 میں ایف بی آئی کے سامنے روس سے رابطے کے لیے ایک پروفیسر کے وعدے کے حوالے سے جھوٹ بولنے کے جرم میں سزا دی گئی تھی۔ٹرمپ کے سابق انتخابی مشیر سزا کے بعد 12 دن جیل میں رہے تھے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.