3 طرح کے عذاب الٰہی سے تباہ ہونے والی حضرت شعیبؑ کی قوم کی باقیات دریافت

ریاض (این این آئی) سعودی عرب میں بہت سے مقامات قدیم تاریخی کردار کے حامل ہیں جومرور زمانہ اور وقت کے ساتھ رونما ہونے والی تبدیلیوں کے سامنے لمبے عرصے سے کھڑے ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت اور اس کے مجاز اداروں کی طرف سے ان تاریخی مقامات کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور انہیں قدیم تاریخی ورثے کے طور پر مٹنے سے بچانے کے

لیے ہرممکن کوشش کی جا رہی ہے۔سعودی عرب کے شمال مغرب میں ایسے کئی مقامات ہیں جو قدیم انسانی تہذیبوں کی عظمت رفتہ کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ ایک مقامی سعودی فوٹو گرافر نے ان تاریخی مقامات کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا ہے۔عرب ٹی وی سے بات کرتے ہوئے صحافی اور فوٹو گرافر محمد الشریف نے بتایا کہ تبوک کے علاقے کے مغربی جانب واقع مغایر شعیب کے مقام پر ایک عظیم تاریخی ورثہ ہے جو اپنی خوبصورتی اور قدیم پتھروں کی تعمیرات کے اعتبار سے مدین صالح سے کم اہم نہیں ہیں۔فوٹو گرافر نے مزید کہا مغایر شعیب ایک قدیم نخلستان ہے جہاں پر پتھروں پر نقش کاری کے کے پرانے نمونے موجود ہیں۔ پتھر سے بنے گھروں کے ڈھانچوں کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ نبطی تہذیب کی باقیات ہیں۔ یہاں پر ایک قدیم شہر کی باقیات بھی معلومات بھی ملتی ہیں جو ابتدائی اسلامی دور کی یادگار بتایا جاتا ہے۔تبوک کی مشہور وادی عفال کے مشرق میں واقع اس شہر کا “الملقطہ” کا نام دیا جاتا ہے۔ اسی طرح شعیب قبرستان اسی وادی کے مغربی کنارے پر ہے۔ مشرقی کنارے پر” بئر موسی “یا مدین پانی ہے۔ مداین شعیب ایک تاریخی مقام ہے جس پرحضرت موسی علیہ السلام سے پہلے ایک قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تھا۔ماہرین آثار قدیمہ اور محققین کا کہنا تھا کہ مغایرشعیب میں موجود پتھروں کے ڈھانچوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں پر کوئی

قوم آباد رہی ہے۔ ان پتھروں پر زمانہ قدیم کی کندہ کاری اور مختلف نقشوں اور تصاویر کا بھی پتا چلتا ہے۔واضح رہے کہ قوم شعیبؑ تین طرح کے عیوب میں مبتلا تھی اور اللہ تعالیٰ نے اُسے تین طرح کے عذاب سے نیست و نابود کیا۔ قرآنِ کریم میں تین طرح کے عذاب کا تذکرہ ہے، جو قومِ شعیبؑ پر آیا۔ (1) زمینی بھونچال یا زلزلہ (2) چنگھاڑ (3) آگ کے بادل۔ سورہ الاعراف میں ہے کہ

”اُن کو بھونچال نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔“ سورہ عنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”اُنہوں نے ان (شعیبؑ) کو جھوٹا سمجھا، سو اُن کو زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔“ سورہ ھود میں چنگھاڑ کے ذریعے عذاب کا ذکر آیا، کیوں کہ یہ لوگ اپنے نبی کا مذاق اور تمسخر اڑایا کرتے، پھبتیاں کستے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک

فرشتے کے ذریعے اس قوم پر ایک چیخ لگوائی، جس سے اُن کے کلیجے پھٹ گئے۔ قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے”اور جو ظالم تھے، اُن کو چنگھاڑ نے آ دبوچا، تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (سورہ ھود 94)سورہ الشعراء میں بادل کے عذاب کا تذکرہ ہے، جو اُن کی اپنی خواہش کا نتیجہ تھا۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ ”تم اُن میں سے ہو، جن پر جادو کردیا جاتا ہے اور تم

تو صرف ہماری طرح کے آدمی ہو اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔ اگر تم سچّے ہو، تو ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا لا گراؤ۔“ (سورۃ الشعراء 187-185) چوں کہ ”اُنہوں نے جھٹلایا تھا، تو اُنہیں بادل والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا۔ وہ بڑے بھاری دن کا عذاب تھا۔“ (سورۃ الشعراء 189) علّامہ ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُن پر پہلے تو سخت گرمی مسلّط فرمائی اور سات دن

مسلسل اُن پر ہَوا بند رکھی، جس کی وجہ سے پانی اور سایہ بھی اُن کی گرمی نہ کم کر سکا اور نہ ہی درختوں کے جُھنڈ کام آئے، چناں چہ اس مصیبت سے گھبرا کر بستی سے جنگل کی طرف بھاگے، وہاں اُن پر بادلوں نے سایہ کرلیا۔ سب گرمی اور دھوپ کی شدّت سے بچنے کے لیے اُس سائے تلے جمع ہوگئے


اور سُکون کا سانس لیا۔ لیکن پھر چند لمحوں بعد ہی آسمان سے آگ کے شعلے برسنے شروع ہوگئے، زمین زلزلے سے لرزنے لگی اور پھر آسمان سے ایک سخت چنگھاڑ آئی، تو اُس نے اُن کی روحوں کو نکال دیا (کلیجے پھٹ گئے) اور جسموں کو تباہ و برباد کردیا اور سب اوندھے گرے پڑے رہ گئے۔“

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.