کورونا نام کی کوئی بیماری نہیں، لاہور ہائی کورٹ نے کورونا کو نہ ماننے والے شہری کو سخت سزا سنا دی

لاہور(این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے کورونا وائرس کا وجود نہ ہونے کا دعوی کرنے والے درخواست گزار پر بے بنیاد درخواستیں دائر کرنے پر دولاکھ روپے کا جرمانہ عائد کردیا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے کورونا وائرس کا وجود نہ ہونے سے

متعلق شہری اظہر عباس کی دائر درخواست پرسماعت کی۔دوران سماعت ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ  کورونا وائرس سے متعلق تمام دستاویزات آئندہ سماعت پر پیش کردیں گے۔اس موقع پر درخواست گزار نے کہا کہ میں نے درخواست دائر کررکھی ہے کہ کورونا وائرس کا کوئی وجود نہیں ہے۔عالمی ادارہ صحت کو بھی لکھا ہے کہ کورونا وجود نہیں، میرا موقف سنا جائے۔ہاتھ لگانے سے یا کسی کو ملنے سے کورونا نہیں پھیلتا اور یہ ثابت کرنے کو تیار ہوں۔چیف جسٹس قاسم خان نے درخواست گزار کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ موجودہ وبا ء کا علاج نہ ہو، جس پر شہری نے جواب دیا کہ ایسی بات نہیں ہے، کہتا ہوں کہ کورونا کا وجود ہی نہیں ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی بات نہیں مانی جاسکتی کسی ماہرکی بات کریں۔سرکاری وکیل نے بتایا کہ انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ درخواست دائر کی تھی لیکن وہاں سے بھی ان کی کورونا کے متعلق درخواست خارج ہوئی ہے۔چیف جسٹس قاسم خان نے کہا کہ آپ کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے دو لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے رہا ہوں۔چیف جسٹس نے بے بنیاد درخواستیں دائر کرنے پر درخواست گزار پر دولاکھ روپے کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے حکم دیا کہ جرمانہ ریونیو ایکٹ کے تحت وصول کیا جائے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.