زبردست خوشخبری ، زرمبادلہ ذخائر 3سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک/آئن لائن)وزیراعظم نے زرمبادلہ ذخائر بارے بڑی خوشخبری دیدی ۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان نے ایک پیغام جاری کیا کہا کہ کرونا کے باوجود ماشا اللہ معیشت سے متعلق اچھی خبر آئی کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 13ارب ڈالر تک پہنچ گئےجو تین سا ل کی بلند سطح ہے۔وزیراعظم نے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ

نومبر میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 447 ملین ڈالررہا، مالی سال میں اب تک کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 1.6 بلین ڈالر رہا، جو گزشتہ سال اسی عرصےمیں1.7بلین ڈالرخسارے میں تھا۔اس سے قبل وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا تھا کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس 792 ملین سرپلس ہوگیا ہے، پہلے دوسالوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20سے کم کرکے 3ارب ڈالر پر لائے، اب روپیہ مستحکم ہوچکا ہے، ہماری معیشت کہاں کھڑی ہے، معیشت میں بہتری کے فوائد کس طرح عوام تک پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں، جب حکومت آئی تو معاشی بدحالی تھی، جس کے لیے ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، آئی ایم ایف کے اس وقت ہی جایا جاتا ہے جب معیشت میں بحرانی کیفیت ہو۔ٹیکسز میں 17فیصد اضافہ ہوا، آمدنی اور اخراجات میں فرق کو سرپلس کیا گیا، کاروباری طبقات کو مراعات دی گئیں، معاشی صورتحال میں بہتری اور برآمدات میں اضافہ ہوا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اس وقت ہماری بیرونی معاشی ترقی میں بہتری آئی ہے، پہلے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20ارب ڈالر تھا، اس کو گرا دو سالوں میں 3ارب کیا گیا، اب 792ملین کا سرپلس ہے، اندرونی خسارہ ہمارے اخراجات آمدن سے زیادہ تھے، لیکن ہم نے اخراجات میں کمی کی ، ٹیکسز میں اضافہ کیا، جس کے باعث قرضہ نہیں لیا۔اسی طرح عمران خان کی حکومت کو5ہزار ارب روپے ماضی کے قرضوں پر سود کی مد میں دینا پڑے۔ اگر یہ پانچ ہزار ارب نہ دینے پڑتے تو مزید ترقی ہوسکتی تھی۔ پاکستان کے 30جون سے 30اکتوبرتک پاکستان کے قرضوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، 30جون تک پاکستان کا قرض 36.4ٹریلین تھا، اب 30 اکتوبر کوبھی 36.4ٹریلین ہے، یعنی 4ماہ سے قرضہ نہ لینا بڑی کامیابی ہے۔ہماری معیشت بڑھ رہی ہے، بڑی کمپنیوں کی گروتھ میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے، سیمنٹ 16سے بڑھ کر20ملین ٹن ہے، اس میں برآمدات بھی شامل ہے، گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی فروخت میں بھی اضافہ ہورہا ہے، ہمارا روپیہ بالکل مستحکم ہوچکا ہے، اسٹیٹ بینک کے ذخائر بھی 13بلین ڈالر کی حد تک پہنچ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے پہلے چار ماہ میں ایک ہزار40ارب جمع کیے،جو کہ ہدف سے زیادہ ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.