اب ہمارے پاس عذر نہیں ہے کہ ہم سیکھ رہے ہیں، کارکردگی کا وقت آ گیا ہے،کوئی لابی کسی وزیر کے ذریعے ہم پر دباؤ ڈالے یہ قابل قبول نہیں،کارکردگی بہتر بنائیں ورنہ یہ کام ہو گا، وزیراعظم نے سخت احکامات جاری کر دیے

اسلام آباد(این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے وزارتوں کو کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ہمارے پاس عذر نہیں ہے کہ ہم سیکھ رہے ہیں، کارکردگی کا وقت آ گیا ہے، حکومت میں آئے تو تین ماہ سمجھنے میں لگ گئے،نئی حکومت کو اقتدار سنبھالنے سے پہلے گورنمنٹ سسٹم سے متعلق پوری طرح بریفنگ دی جانی چاہیے،جب تک ساری وزارتیں کارکردگی

نہیں دکھائیں گی اس وقت تک ہم گورننس نہیں کر سکتے،ہماری حکومت کیلئے اولین چیلنج توانائی کا ہے، اس میں کئی عوامل ہمارے کنٹرول میں ہیں اور کئی ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں،سبسڈیز کو ہمیں مواقع پیدا کرنے لیے استعمال کرنا چاہیے،ماحولیات کی وزارت صوبوں کے پاس چلی گئی ہے اسے وفاق کے پاس ہونا چاہیے، سی پیک میں چین سے زراعت پر بھی توجہ دے رہے ہیں،ملک کے اہم مسائل کی فہرست بنا کر ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے اور اگر اس میں کہیں بھی رکاوٹ آتی ہے تو وزارتوں پر جرمانہ کیا جائیگا،کوئی لابی کسی وزیر کے ذریعے ہم پر دباؤ ڈالے یہ قابل قبول نہیں۔ منگل کو وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں 12 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، کابینہ اجلاس میں سیاسی، معاشی اورسیکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، کابینہ کو کورونا کی حالیہ صورت حال سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، اس کے علاوہ پی ڈی ایم کی تحریک اور سینیٹ انتخابات کی تیاریوں پر بھی تفصیلی مشاورت ہوئی۔وفاقی کابینہ نے ٹربائن فیول ایوی ایشن ہائی فلیش کی درآمد، سی ڈی اے آرڈیننس 1980 میں ترمیم، یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن کے ملازمین پر لازمی سروسز ایکٹ کی توسیع، ڈی جی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بحری سائنس،زرعی ترقیاتی بینک کے بورڈ کی تشکیل نو اور ایس ٹی ای ڈی ای سی کے ایم ڈی کی تقرری کی منظوری دے دی۔ اس کے علاوہ الیکٹرک وہیکل

اور موبائل مینوفیکچرنگ پالیسیوں کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی کابینہ کا ہر فیصلہ اجتماعی حیثیت میں ہوتا ہے، کوئی لابی کسی وزیر کے ذریعے دباؤ ڈالے یہ قابل قبول نہیں، کسی وزیر کو کوئی لابی تنگ کرے تو وہ کابینہ کو یا مجھے الگ سے بتائے، ہم فیصلے کسی لابی کے دباؤ میں نہیں بلکہ شفاف اور میرٹ پر کریں گے۔ذرائع کے مطابق

وفاقی کابینہ نے مردم شماری پر وزراء کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی، ایم کیو ایم پاکستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر امین الحق نے رپورٹ کو مسترد کردیا، وفاقی کابینہ نے ایم کیو ایم کے اختلافی نوٹ کے ساتھ رپورٹ کو منظور کرلیا، اختلافی نوٹ میں ایم کیو ایم کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نئی مردم شماری فوری طور پر کروائی جائے۔وفاقی کابینہ میں ساتویں مردم شماری

کرانے کے لئے بھی بات چیت کی گئی جس پر وزرا کی جانب سے رائے دی گئی کہ آئین کے تحت حکومت کسی بھی وقت مردم شماری کروا سکتی ہے، آئندہ مردم شماری میں مرکزی کردار نادرا کا ہونا چاہیے، وفاقی کابینہ نے مردم شماری کے معاملے پر مزید مشاورت کے لئے وزارتی کمیٹی قائم کر دی۔بعد ازاں یہاں وزارتوں کی کارکردگی سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے

وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا میں صدارتی انتخاب کے بعد جو بائیڈن کو ٹیم سلیکڈ کرنے کیلئے ڈھائی مہینے ملے ہیں،ہم تو اپنے نمبر پورے کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ جس دن الیکشن ختم ہوا ہے اسے تیاری، ٹیم کے انتخاب کیلئے ڈھائی مہینے ملے ہیں، بریفنگ مل رہی ہیں اور بیورو کریٹس انہیں بتا رہے ہیں کہ ہر چیز کی کیا صورتحال ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اس نظام پر نظرثانی

کرنی چاہیے اور جب آپ کی ٹیم بن جائے اس کے بعد آپ کو حکومت سنبھالنے سے پہلے پورا وقت ملنا چاہیے تاکہ آپ خصوصی طور پر حکومت کی تیاری کریں کہ آپ نے گورننس کیسے کرنی ہے۔انہوں نے کہاکہ آپ کو بجلی، ریلوے، گیس اور مالیات کے حوالے سے بریفنگ ملنی چاہئیں تاکہ جب آپ دفتر سنبھالیں تو آپ کو پوری طرح پتہ ہو کہ میں نے کس ایجنڈے پر عملدرآمد کرنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں تو تین مہینے صرف سمجھنے میں لگ گئے، ہر چیز جو ہم باہر سے بیٹھ کر دیکھ رہے تھے، جب حکومت آئی تو وہ بالکل مختلف تھی۔عمران خان نے کہا کہ خصوصاً توانائی سمیت کئی شعبوں میں ڈیڑھ سال تک اصل اعدادوشمار کا ہی پرہ نہیں چل رہا تھا، کبھی وزارت سے کوئی اعدادوشمار آ جاتی تھی، ہم سمجھتے تھے کہ بڑا اچھا کررہا ہے، پتہ چلتا تھا کہ کوئی

اور اعدادوشمار آ گئے اور ہم اتنا اچھا نہیں کررہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی نئی حکومت کو اس طرح اقتدار میں نہیں آنا چاہیے، اس کی پوری تیاری ہونی چاہیے، اس کو اس طرح پوری بریفنگ دینی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ جس طرح ہم دیکھ کر سیکھتے رہے اسی طرح وزارتوں کا بھی معاملہ ہے، کچھ وزارتوں نے زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی ہے، کئی نے نہیں دکھائی اور کئی

سیکھ رہے ہیں جس سے ان کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد جو اختیارات تقسیم کیے گئے ہیں تاہم مجھے لگتا ہے کہ ابھی پورے ملک کو اس 18ویں ترمیم کی پوری طرح سمجھ نہیں ہے، مثلاً فوڈ سیکیورٹی وفاقی حکومت کے پاس ہے تاہم اختیارات صوبائی حکومتوں کے پاس چلے گئے ہیں، اب اگر ایک صوبہ مرکز کے ساتھ نہیں چلتا

اور اپنی الگ پالیسی بناتا ہے جس سے قیمتوں میں فرق آ جاتا ہے تو تمام قیمتوں کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ماحولیات کی وزارت صوبوں کے پاس چلی گئی ہے تاہم اسے وفاق کے پاس ہونا چاہیے کیونکہ سارے ملک کی ماحولیات ہے، اسی طرح ہم کئی چیزیں سیکھتے جا رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ آج برا اچھا قدم اٹھایا ہے کہ ہر وزارت کی کارکردگی کی جانچ ہو گی، یہ

بالکل درست سمت میں قدم ہے، جب تک ساری وزارتیں کارکردگی نہیں دکھائیں گی اس وقت تک ہم گورننس نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہاکہ ماحولیات کی وزارت صوبوں کے پاس چلی گئی ہے تاہم اسے وفاق کے پاس ہونا چاہیے کیونکہ سارے ملک کی ماحولیات ہے، اسی طرح ہم کئی چیزیں سیکھتے جا رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ آج برا اچھا قدم اٹھایا ہے کہ ہر وزارت کی کارکردگی

کی جانچ ہو گی، یہ بالکل درست سمت میں قدم ہے، جب تک ساری وزارتیں کارکردگی نہیں دکھائیں گی اس وقت تک ہم گورننس نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ ہم اب اپنے اوپر دباؤ ڈالیں گے تاکہ جتنا بھی باقی وقت رہ گیا ہے اس میں ہمیں گورننس کی کارکردگی کو بہت آگے لے کر جانا ہے کیونکہ اب ہمارے پاس عذر نہیں ہے کہ ہم سیکھ رہے ہیں، ہم نئے ہیں یا تجربہ نہیں ہے، اب

کارکردگی کا وقت آ گیا ہے۔انہوں نے وزرا ء کو کہا کہ وہ اپنے اوپر دباؤ ڈالیں اور جو کنٹریکٹ سائن کیے ہیں ان پر وزارتوں کی جانچ پڑتال کی جائیگی، ہر وزارت اپنے اوپر بھی دباؤ ڈالے گی کہ ہمیں اہداف پورے کرنے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج وزارت توانائی کا نظر آ رہا ہے، یہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج ہے اور وزارت توانائی کے بارے میں سوچ کر کئی دفعہ رات

میں نیند بھی نہیں آتی۔انہوں نے کہاکہ بجلی کا شعبہ اتنا پیچیدہ ہے کہ مختلف چیزوں کا انضمام کرنا ہے تاکہ ہم عوام کو ایک ایسی بجلی دے سکیں جو ان کی استطاعت میں ہو اور ساتھ ساتھ ہم گردشی قرضوں کے پہاڑ کو بھی کم کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کیلئے اولین چیلنج توانائی کا ہے، اس میں کئی عوامل ہمارے کنٹرول میں ہیں اور کئی ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں۔وزیراعظم

نے سبسڈیز کو بھی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم تقریباً ڈھائی ہزار ارب روپے کی سبسڈیز دے رہے ہیں، ہر ملک میں سبسڈیز ہوتی ہیں جس کا مقصد کمزور طبقے کی مدد کرنا ہوتا ہے اور دوسرا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو علاقے پیچھے رہ گئے ہیں انہیں مراعات دی جائیں۔انہوں نے کہا کہ سبسڈیز کو ہمیں مواقع پیدا کرنے لیے استعمال کرنا چاہیے تاکہ لوگوں کو روزگار ملے لیکن کئی

سبسڈیز ایسی ہیں جو غریب آدمی کو بھی مل رہی ہیں اور عمران خان، صنعت کار اور پیسے والے کو بھی وہ مل رہی ہے، تو ہم نے ان سبسڈیز کو غریب لوگوں کیلئے ہدف بنانا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جب تک ہم اپنے ملک کو برآمدات پر نہیں لگاتے تو ہم کبھی بھی اس صورتحال سے نہیں نکلیں گے، ہمیں برآمدات پر زور دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں زراعت کے شعبے پر توجہ دینی ہے،

روزگار میں اگر ہم پیداوار بڑھاتے ہیں تو یہ ناصرف ہمیں روزگار فراہم کرتا ہے بلکہ فوڈ سیکیورٹی اور ملک کو بہتر بنا سکتے ہیں، اس سلسلے میں ہمیں چین کا بہت فائدہ ہے یونکہ ہم سی پیک میں چین سے زراعت پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم اب ملک کے اہم مسائل کی فہرست بنا کر انہیں

ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے اور اگر اس میں کہیں بھی رکاوٹ آتی ہے تو وزارتوں پر جرمانہ کیا جائے گا۔عمران خان نے کہا کہ ہم نے اب پر چیز کو ترجیح دینی ہے جس سے ڈالر بچتے ہیں یا ملک میں ڈالر آتے ہیں کیونکہ ہمیں ڈر یہ ہے کہ ہمارے کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ پڑنا شروع ہو جائے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.