وزیراعظم عمران خان نے صدارتی نظام نافذ کرنے کی تجویز دے دی

اسلام آباد(مانیٹرنگ +این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے وزارتوں کو کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ہمارے پاس عذر نہیں ہے کہ ہم سیکھ رہے ہیں، کارکردگی کا وقت آ گیا ہے، حکومت میں آئے تو تین ماہ سمجھنے میں لگ گئے،نئی حکومت کو اقتدار سنبھالنے سے پہلے گورنمنٹ سسٹم سے متعلق پوری طرح بریفنگ دی جانی چاہیے،جب تک ساری وزارتیں

کارکردگی نہیں دکھائیں گی اس وقت تک ہم گورننس نہیں کر سکتے،ہماری حکومت کیلئے اولین چیلنج توانائی کا ہے، اس میں کئی عوامل ہمارے کنٹرول میں ہیں اور کئی ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں،سبسڈیز کو ہمیں مواقع پیدا کرنے لیے استعمال کرنا چاہیے،ماحولیات کی وزارت صوبوں کے پاس چلی گئی ہے اسے وفاق کے پاس ہونا چاہیے، سی پیک میں چین سے زراعت پر بھی توجہ دے رہے ہیں،ملک کے اہم مسائل کی فہرست بنا کر ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے اور اگر اس میں کہیں بھی رکاوٹ آتی ہے تو وزارتوں پر جرمانہ کیا جائیگا،کوئی لابی کسی وزیر کے ذریعے ہم پر دباؤ ڈالے یہ قابل قبول نہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا اس موقع پر امریکی نظام کی طرح پاکستان میں بھی نظام لانے اور موجودہ نظام پر نظرثانی کی تجویز دیتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی حکومت سنبھالنے سے پہلے وقت ملنا چاہیے کہ گورننس کیسے کرنی ہے،انہوں نے کہا کہ امریکہ میں صدارتی انتخاب کے بعد جو بائیڈن کو ٹیم سلیکٹ کرنے کے لیے اڑھائی ماہ ملے ہیں جبکہ ہم تو اپنے نمبر پورے کر رہے تھے،وزیراعظم عمرا ن خان نے کہا کہ اس طرح کے نظام میں آنے والی حکومت کو موقع ملتا ہے کہ وہ اقتدار سنبھالنے سے پہلے تمام حکومتی امورسے آگاہ ہو، جوبائیڈن کو اڑھائی ماہ ملے ہیں کہ وہ اپنی ٹیم تیار کریں بیوروکریسی انہیں وزارتوں، محکموں اور پالیسیوں کے حوالے سے بریفنگ دے

رہی ہے،وزیراعظم نے کہا کہ حلف اٹھانے تک وہ تیار ہو جائیں گے، وزارتوں کے اعدادوشمار سمجھنے میں ہمارے ہاں سالوں لگ جاتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں 12 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، کابینہ اجلاس میں سیاسی، معاشی اورسیکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، کابینہ کو کورونا کی حالیہ صورت حال سے متعلق

تفصیلی بریفنگ دی گئی، اس کے علاوہ پی ڈی ایم کی تحریک اور سینیٹ انتخابات کی تیاریوں پر بھی تفصیلی مشاورت ہوئی۔وفاقی کابینہ نے ٹربائن فیول ایوی ایشن ہائی فلیش کی درآمد، سی ڈی اے آرڈیننس 1980 میں ترمیم، یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن کے ملازمین پر لازمی

سروسز ایکٹ کی توسیع، ڈی جی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بحری سائنس،زرعی ترقیاتی بینک کے بورڈ کی تشکیل نو اور ایس ٹی ای ڈی ای سی کے ایم ڈی کی تقرری کی منظوری دے دی۔ اسکے علاوہ الیکٹرک وہیکل اورموبائل مینوفیکچرنگ پالیسیوں کی بھی منظوری دی گئی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.