800سال بعد آج شام 2سیاروں کا ملاپ دنیا میں نئے دورکے آغاز کی پیشگوئی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 21 دسمبر کی رات کو نظام شمسی کے دو بڑے سیاروں مشتری اور زحل کا ایسے ملاپ ہو گا کہ یہ انسانی آنکھ سے ڈبل سیارے کی طرح دکھائی دیں گے۔یہ منظر پاکستان سمیت دنیا بھر میں 21 دسمبر کی رات کو دیکھا جا سکے گا۔

بشرطیکہ موسم صاف ہواور اس مرتبہ یہ ملاپ ایسے وقت میں ہونے جا رہا ہے جس کی وجہ سے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ 2000 سال قبل آسمان میں نظر آنے والی تیز روشنی کا ہی ذریعے ہو جسے اب ستارہِ بیت اللحم کے طور پر جانتا ہے۔یہ دونوں سیارے ایک دوسرے کے قریب مدار مکمل کرتے ہوئے 21 دسمبر کی رات کو انتہائی قریب نظر آئیں گے۔بی بی سی کے مطابق کچھ ماہرین فلکیات اور مذہبی زعما یہی سمجھتے ہیں کہ یہ ستارہ بیت اللحم کی واپسی ہے۔ورجینیا کے فِروم کالج میں مذاہب کی استاد پروفیسر ایرک ایم وینڈن ایکل کے ایک آن لائن مضمون کے مطابق ان دو سیاروں کے ملاپ کے وقت نے بہت سی قیاس آرائیوں کو بھی جنم دیا ہے کہ کیا یہ وہی فلکیاتی منظر ہے جس کے بارے میں بائبل میں بھی ذکر ملتا ہے کہ اس ستارے کی وجہ سے دانا لوگ حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت مریم علیہ السلام اور ان کے نوزائیدہ بچے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب متوجہ ہوئے۔یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ قدیم قیاس آرائی ہے۔

یہ نظریہ کہ مشتری اور زحل کا ملاپ دراصل ایک معجزاتی ستارہ ہو سکتا ہے پہلی بار 17 ویں صدی میں جرمنی کے ایک ماہر فلکیات اور ماہر ریاضی دان جوہانس کیپلر نے پیش کیا تھا۔ڈاکٹر کیرولین کرافورڈ کے مطابق 2000 سال قبل لوگ رات کے وقت آسمان پر ہونے والے واقعات

سے متعلق خبر رکھتے تھے۔ لہذا یہ کوئی ناممکن بات نہیں ہے کہ بیت اللحم کا 2000 سال پرانا معجزاتی ستارہ سیاروں کا اسی قسم کا ملاپ ہو۔چونکہ سیارے سورج کے گرد اپنے مدار میں سفر کرتے ہیں تو ایسے ملاپ کوئی انہونی بات نہیں، تاہم ان دو سیاروں کا ملاپ ایک خاص موقع ہے۔

مانچسٹر یونیورسٹی کے ایسٹرو فزکس کے پروفیسر ٹم او برائین نے بی بی سی کو بتایا کہ سیاروں کے ملاپ کا نظارہ ایک خاص بات ہوتی ہے۔ اور ایسا ملاپ اکثر ہوتا رہتا ہے تاہم ان دو سیاروں کا ایک دوسرے سے ملاپ ایک بہت قابل ذکر بات ہے۔یہ دو سیارے جو درحقیقت ہمارے نظامِ شمسی کے

سب سے بڑے اور سب سے چمکدار اجسام میں سے ہیں، 800 سال سے ایک دوسرے کے اتنے قریب نہیں آئے ہیں۔ برطانیہ میں موسم کی پیش گوئی کرنے والوں کے مطابق یہ ستارہ بینی کے لیے زیادہ سازگار موسم نہیں ہو گا مگر اس میں تبدیلی بھی واقع ہو سکتی ہے۔پروفیسر ٹم او برائین

کے مطابق یہ صورتحال گھنٹوں میں تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ یہ برطانیہ کا موسم ہے اور یہی آپ کے لیے علم فلکیات ہے۔یہ سیارے جنوب مغرب میں غروب ہوں گے لہذا آپ کو سورج غروب ہوتے ہی جلد از جلد باہر نکلنا ہوگا۔ان کے مطابق ہم میں سے کوئی بھی مزید چار سو سال تک زندہ نہیں رہے گا لہذا موسم پر نظر رکھیں اور اگر آپ کو موقع ملے تو اس معجزاتی ستارے کے نظارے کے لیے گھر سے باہر ضرور نکلیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.