پاکستان نے برطانوی دھمکی کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے غیر قانونی تارکین کا طیارہ اسلام آباد اتارنے کی اجازت

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی حکومت کی جانب سے پاکستان کو سخت قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دیے جانے کے بعد جس چارٹرڈ پرواز کی وجہ سے سفارتی تنازع پیدا ہوا تھا وہ پرواز پاکستانی تارکین وطن کو لندن سے لیکر بالآخر اسلام آباد پہنچ گئی ۔روزنامہ جنگ میں مرتضیٰ علی شاہ کی شائع خبر کے مطابق برطانوی حکومت نے پاکستان کو یورپی یونین ری ایڈمشن ایگریمنٹ (ای یو آر اے) کے قانون کے تحت قانونی کارروائی کی دھمکی دی کہ پاکستان اور برطانیہ نے ایسے غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری کا معاہدہ کر رکھا ہے جنہوں نے برطانیہ اور یورپ

میں قیام کی خاطر اپنے تمام تر قانونی آپشن استعمال کر لیے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ چارٹرڈ پرواز 16 دسمبر کو تقریبا ًدو ماہ بعد اسلام آباد پہنچ گئی، اس سے قبل پاکستانی حکومت نے پرواز کو پاکستانی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ پرواز کو 20 اکتوبر کو اسلام آباد میں اترنا تھا۔ پاکستان کو بتایا کہ اگر اس نے پرواز کو اترنے کی اجازت نہ دی تو اس کیخلاف کارروائی کی جائے گی، ذریعے کے مطابق پاکستان کو معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا جا سکتا تھا۔ پاکستانی حکومت کے ایک ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ درست ہے کہ پاکستان معاہدے پر کاربند رہنے کا پابند ہے اور پرواز کو اترنے کی اجازت نہ دینے کی وجہ سے اس کیخلاف قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔ تاہم، ذریعے نے کہا کہ یورپی یونین کے ری ایڈمشن ایگریمنٹ کی معیاد رواں ماہ کے آخر میں ختم ہو جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اب برطانیہ کے ساتھ نئی شرائط پر مذاکرات کرے گا اور پرواز کو اترنے کی اجازت نہ دینا برطانوی حکام کیلئے ایک اشارہ تھا کہ اگر برطانیہ چاہتا ہے کہ وہ مزید غیر قانونی تارکین کو پاکستان بھیجے تو اسے پاکستان کو سہولتیں دینا ہونگی۔ اگرچہ برطانیہ نے تکنیکی لحاظ سے 31 جنوری 2020 کو یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کر لی تھی لیکن اس یورپی یونین کے ساتھ اس کے تعلقات مکمل طور پر 31 دسمبر کو ختم ہونگے اور یکم جنوری 2021 سے معاہدے کے حوالے سے برطانیہ اور پاکستان کی شرائط بھی ختم ہو جائیں گی کیونکہ برطانیہ اس وقت یورپی یونین کا حصہ نہیں ہوگا۔ ذریعے کے مطابق دو ماہ قبل تقریبا ً36 لوگوں کو پاکستان بھیجا جا رہا تھا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.