وزیراعظم کی چوہدری برادران سے ملاقات کے بعد عثمان بزدار اور پرویز الٰہی کے درمیان ناراضی کا انکشاف لیکن دراصل وجہ کیا بنی؟ سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی سہیل وڑائچ اپنے کالم اِٹ کھڑکا میں لکھتے ہیں کہ تصادم ہو تو پنجابی اسے اِٹ کھڑکّا کہتے ہیں۔ ایک طرف اپوزیشن اور حکومت کا اِٹ کھڑکّا جاری ہے تو دوسری طرف اتحادیوں اور تحریک انصاف میں بھی اِٹ کھڑکے کا امکان ختم نہیں ہوا اور تو اور وفاقی کابینہ میں پورٹ فولیوز بدلنے سے اندر کی لڑائیاں اور اِٹ کھڑکّا بڑھنے کا اندیشہ دوچندہو گیا ہے۔ وزیراعظم گزشتہ دنوں لاہور میں چودھری شجاعت حسین کی عیادت کے لئے آئے، مقصد ق لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان اِٹ کھڑکے کو ختم کرناتھا، چودھری پرویز

الٰہی اور خان کی ملاقات بڑی مفید رہی۔ وفاقی حکومت اور ق لیگ کے درمیان بڑی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا،مگر اس ملاقات کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب بزدار اور چودھری پرویز الٰہی میں اِٹ کھڑکے کے حالات پیدا ہوگئے۔ اس ملاقات کے بعد سپیکر چودھری، بزدار پر شدید ناراض ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم بزدار سے جو ملاقاتیں کرتے رہے اور جو جو باتیں کرتے رہے انہوں نے وزیراعظم کو وہ اس طرح سے نہیں بتائیں بلکہ تاثر اس کے الٹ دیا جس کی وجہ سے ق لیگ اور وزیراعظم خان کے درمیان غلط فہمیاں بڑھیں۔ بڑوں کی ملاقات میں کھل کر باتیں ہوئیں تو پتہ چلا کہ چودھریوں کا معاملہ خراب کرنے میں وزیر اعلیٰ بزدار کا ہاتھ ہے حالانکہ چودھری تو بزدار کی اعلانیہ حمایت کرتے رہے اور یہاں تک کہتے رہے کہ جب تک بزدار ہے ٹھیک ہے اگر بزدار کو ہٹایا گیا تو ہم یعنی چودھری خود وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہوں گے۔ میری کل ہی وزیر اعلیٰ بزدار سے اتفاقی طور پر گورنر ہاؤس لاہور میں ملاقات ہوئی، میں نے ان کے اور چودھریوں کے درمیان پیدا ہونے والی نئی غلط فہمی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مسکر ا کر کہا سب ٹھیک ہو جائے گا۔ چودھری پرویز الٰہی کا میرے مرحوم والد سے تعلق تھا،مجھ سے بھی ان کا خاص تعلق ہے میں جلد ہی مل کر غلط فہمی دور کر دوں گا۔کہا جاتا ہے کہ چودھری کافی عرصے سے پریشان تھے کہ وہ تو پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں مگر وزیراعظم خان ہر ملنے والے سے گلہ کرتے تھے کہ بے چارا بزدار صبح سے لے کر رات تک محنت کرتا ہے مگر 3صوبائی وزیر، گورنر اور سپیکر چودھری، بے چارے بزدار کو چلنے نہیں دے رہے۔ چودھری پریشان تھے کہ ان کے بارے میں یہ کنفیوژن کون پیدا کر رہا ہے؟کہنے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ خان اور چودھری ملاقات میں کہیں یہ بات بھی کھل گئی ہے کہ بزدار چودھریوں کی حمایت سے مطمئن نہیں اور وہ اس حوالے سے خان کو مسلسل آگاہ کرتے رہے ہیں۔ اس انفارمیشن پر چودھری سٹپٹا اٹھے ہیں کہ ان کی بے تحاشا اور اندھی حمایت کے باوجود بزدار نے ان کی خان سے شکایتیں کیوں کیں؟یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ چودھری خان سے ملاقات کے بعد مطمئن ہیں ان کے خلاف نیب میں جو کارروائیاں ہورہی تھیں، ان کو رکوانے کے لئے بھی کوششیں شروع ہو چکی ہیں البتہ دیکھنا ہوگا کہ بزدار اور چودھری کے درمیان نئے اِٹ کھڑکے کا انجام کیا ہوگا؟

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.