ن لیگ کے اراکین اسمبلی کو استعفے دینے سے روکو عمران خان نے گورنر پنجاب کو اہم ٹاسک سونپ دیا

اسلام آباد،کرمانوالہ (مانیٹرنگ ڈیسک ،این این آئی)وزیر اعظم عمران خان اور گورنر پنجاب چوہدری سرور کے درمیان ہونیوالی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ، نجی ٹی وی بول نیوز کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے گورنر پنجاب کو ن لیگ کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے استعفے روکنے کا ٹاسک دیدیا ہے ،وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اگر ن لیگ کے اراکین پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونا چاہیں تو انہیں خوش آمدید کہا جائیگا،ذرائع کے مطابق گورنر پنجاب ن لیگی اراکین اسمبلی سے رابطے کریں گے اور انہیں استعفے دینے سے روکیں گے ، دریں اثنا

پاکستان مسلم لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم لاہور کے جلسے سے حکومتی مشینری بے حد پریشان دکھائی دے رہی ہے ، اگرلاہور یوں نے حکومت کے خلاف نعرہ بلند کردیا تو پھر پورا پاکستان کھڑا ہو جاتا ہے ،وزارتوں میں تبدیلی سے بھی تبدیلی سرکار نہیں بچ سکتی جن مقاصد کیلئے تبدیلی لائی گئی ہے وہ تبدیلی بھی بے سود ثابت ہو گی ۔ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے ضلعی صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) اوکاڑہ و سابق ایم پی اے میاں محمد منیر سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم لاہور کے جلسے سے حکومتی مشینری بے حد پریشان دکھائی دیرہی ہے کیونکہ اگر لاہور یوں نے حکومت کے خلاف نعرہ بلند کردیا تو پھر پورا پاکستان کھڑا ہو جاتا ہے انہوں نے کہا کہ عوام موجودہ حکومت سے بے حد پریشان ہیں ان کی پریشانی کا ا یک ہی حل ہے کہ اس عوام دشمن غریب دشمن کسان دشمن تاجر دشمن وکلاء دشمن حکومت سے جتنی جلدی ہو سکے عوام کی جان چھوٹ جائے ۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ گرفتاریوں مقدمات اور چھاپوں لاہور جلسہ کو نہیں روکا جاسکتا ۔ا نہوں نے کہا کہ کل مینار پاکستان کے سائے میں عوام کرپٹ سلیکٹڈ اور نا اہل حکومت کے خلاف اپنا فیصلہ دیگی ۔انہوں نے کہا کہ تمام تر رکاوٹوں کو عبور کر کے مسلم لیگی کارکنان مینار پاکستان لاہور پہنچیں یہ ایک تاریخی شہر میں ایک تاریخ ساز اور فیصلہ کن معرکہ ہو گا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت کی چولیں ہل چکی ہیں اور لاہور جلسے سے مزید کھوکھلی ہو جائیں گی ۔اس موقع پر میاں محمد منیر نے رانا ثناء اللہ کویقین دلایا کہ لاہور جلسہ میں ضلع اوکاڑہ کی بھرپور شرکت ہو گی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.