ایسی نالائق ، نااہل ، نکمی ، کرپٹ ، ڈس آنسٹ اور سلگش حکومت شیخ رشید جوش خطابت میں اپنی ہی حکومت پر چڑھ دوڑے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، اے پی پی)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی ہی پریس کانفرنس میں جوش خطابت میں حکومت کو ہی ہدف تنقید بنا گئے۔ وزیرداخلہ بننے کے بعد راولپنڈی میں کی جانے والی اپنی پہلی پریس کانفرنس میں شیخ رشید احمد کی طرف سے اپوزیشن پر تنقید نشتر چلائے جارہے تھے کہ اس دوران ان کی زبان ایسی پھسلی کہ اپنی ہی حکومت کو نالائق ، نااہل ، نکمی ، کرپٹ ، ڈس آنسٹ اور سلگیش حکومت کہہ گئے تاہم فوراً ہی انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا جس پر شیخ رشید

نے اسی وقت تصیح کرتے ہوئے حکومت کی جگہ اپوزیشن کہہ دیا۔دریں اثناانہوں نے کہا کہ وہ امن و امان کو بہتر بنائیں گے، جدید ترین بارڈر مینجمنٹ سسٹم لے کر آئیں گے اور غریب لوگوں کو پاسپورٹ کی سہولت ملے گی اور امیگریشن نظام کو بہتر کیا جائے گا، ملک میں لوٹ مار اور منی لانڈرنگ کا دور ختم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسلام کے سپاہی اور ختم نبوت کے مجاہد ہیں اور عمران خان کے دور میں اللہ اور نبی کے علم کو بلند کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں اقتدار کے بھوکے اور اتوار بازار سجانے والوں سے کہتا ہوں کہ ملک سب سے زیادہ اہم اور عزیز ہے، جلسوں سے عمران خان نہیں جائے گا، اپوزیشن کو جلسے کرنے کی کھلی اجازت ہے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز شاہدرہ میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک پکڑا گیا ہے، اصل طاقت میڈیا کی ہے، اس سے پورے پاکستان میں پیغام جاتا ہے، میں سب سے سینئر سیاسی کارکن ہوں، سیاست دان وہ نہیں ہوتا جسے گلی گلی جا کر جلسوں کے دعوت نامے دینا پڑیں، بڑا لیڈر وہ ہوتا ہے جس میں سیاسی فہم اور بصیرت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم دو ماہ سے گلی گلی کوچے کوچے جا کر کیمپین چلا رہی ہے، ان کی امیدیں بر نہیں آئیں گی، یہ عمران خان کے مینار پاکستان والے جلسے کی نقل نہیں کر سکتے، مینار پاکستان پر جلسے سے عمران خان اوپر گیا یہ نیچے جائیں گے، انہوں نے اپنے بچوں کو بچانے کے لئے ساری جدوجہد کی، بیرون ملک شہریتیں حاصل کیں، غریب کے بچے کے لئے ان کے دل میں درد نہیں لیکن جب ان کے اپنے بچے کی بات آتی ہے تو ان کا کلیجہ پھٹتا ہے، یہ ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ مدارس اسلام کے مینار ہیں اور ملک کو باہر سے نہیں اندر سے خطرہ ہے، بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لئے فوج پوری مستعد اور چوکس ہے، ملک کے اندر انتشار پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس مقصد کے لئے فنڈنگ کی جا رہی ہے، یہ عمران خان کی سچائی کی سیاست کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پی ڈی ایم عمران خان سے بات نہیں کرنا چاہتی تو دل کی بات بتائے کہ کس سے بات کرنا چاہتی ہے، یہ اپنی لوٹی ہوئی دولت بچانے اور مقدمات سے نجات کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں عمران خان کے لئے خوشخبریاں اور ان کے لئے ناکامیاں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی خصوصی ٹاسک نہیں دیا گیا، پی ڈی ایم کے رنگ پسٹن بیٹھے ہوئے ہیں، یہ چوچوں کا مربہ ہے، اپوزیشن کی یہی صورتحال رہی تو عمران خان آئندہ الیکشن بھی جیتیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو بیرون ملک سے لانے کے لئے پوری کوشش کی جا رہی ہے، اس راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اطلاعات شبلی فراز زبردست انداز سے اپنا کام کر رہے ہیں، ان سے بھرپور تعاون جاری رہے گا۔ ریلوے کی کارکردگی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ریلوے میں، میں نے اپنا کام کر دیا ہے، ملازمین کے مسائل حل ہو رہے ہیں، اب اعظم سواتی ریلوے میں کام کو آگے بڑھائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں ہی کام کرنے کا مزہ آتا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ میری پندرھویں وزارت ہے، وزارت داخلہ مجھے پہلی بار دی گئی ہے، یہ وزارت میرا بھی امتحان ہے، مشکل وقت میں، میں نے یہ وزارت سنبھالی ہے، اس وزارت کو بھی میں چار چاند لگائوں گا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے آج ہی وزیراعظم نے بلا کر یہ وزارت سونپنے کا بتایا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم جیسا کرے گی ویسا بھرے گی، ملک میں غریب آدمی کورونا وائرس کا شکار ہے، اللہ کی مدد سے اسے بچانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ پنجاب میں پکڑ دھکڑ کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ صوبائی مسئلہ ہے جب مولانا فضل الرحمن جب اسلام آباد آئیں گے تو وہ میرے پیر بھائی ہیں، ان کی کشمیری سبز چائے سے تواضع کروں گا۔ انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ عوام کو مہنگائی میں کمی کے بارے میں بھی خبریں دے، چینی کی قیمت میں 25، 30 روپے کمی آئی ہے، آٹے کی قیمت بھی کم ہوئی ہے، میڈیا کو اس بارے میں بھی خبریں دینی چاہئیں۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے، میں اس مسئلے کو بھی حل کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جمہوریت کی بہتری کے لئے جو ممکن ہوا کروں گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.