شیخ رشید کے وزیر داخلہ بنتے ہی حکومت کا 13دسمبر لاہور جلسے کے بارے میں بڑا فیصلہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک/آئن لائن/این این آئی )شیخ رشید کے وزیر داخلہ بننے کے فوراً بعد پنجاب حکومت نے پاکستان ڈیمو کریٹ موومنٹ کو 13دسمبر کو مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں موجود ہ کرونا وائرس کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر حکومت پنجا ب نے اپوزیشن جماعتوں کے کو تیرہ دسمبر کے جلسے کی

اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلے میں صوبائی انٹیلی جنس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ ہوا ہے کہ کرونا وباءکے بڑھتے کیسز کو مدنظر رکھتے ہوئے جلسے کی اجازت نہیں دے سکتے ، جلسہ کرنے کی صورت میں تمام پی ڈی ایم رہنمائوں پر مقدمات درج کیے جائیں گے ۔ مزید بتایا گیا ہے کہ 13دسمبر کو راستوں کو بند نہیں کیا جائےگا جبکہ ضروری ہوا تو 2 مختلف مقامات پر کنٹینرز بھی لگائے جاسکتے ہیں ۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز سمیت200 ن لیگی رہنماؤں کیخلاف مختلف تھانوں میں مقدمات درج کر لیے گئے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق مریم نوازکے خلاف گزشتہ روز ریلی نکالنے پر تھانہ لوہاری گیٹ، گوالمنڈی، مزنگ اوراچھرہ میں مقدمات درج ہیں۔مقدمے میں ایس اوپیزکی خلاف ورزی، اشتعال انگیزتقاریراور دیگردفعات شامل کی گئی ہیں۔ ایس اوپیزکی خلاف ورزی پرہوٹل مالکان کیخلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا جنہوں نے مریم نوازاوردیگرلیگی رہنماؤں کو کھانا فراہم کیا تھا۔پولیس نے کورونا ایس  او پیز کی خلاف ورزی ، روڈ بلاک، اشتعال انگیز تقاریر کی دفعات کے تحت  مقدمہ درج کیا۔لاہوری گیٹ تھانے مین مقدمہ پٹواری ملک مبشر کی درخواست پر درج کیا گیا۔  مقدمے میں ساؤنڈ سسٹم فراہم کرنے والے عبدالرحمان کو بھی نامزدکیا گیا ہے۔لیگی رہنما  کامران کاشف گجر محمد طارق اور محمد جاوید کو نامزد کیا گیا ہے۔

مزنگ تھانے میں مقدمہ مریم نواز  لیگی رہنما سمیت دو سو سے زائد کارکنوں کے خلاف درج ہے۔  پولیس نے مقدمہ پٹواری شاہ نواز کی درخواست پر در ج کیا ہے۔قبل ازیں پنجاب حکومت نے 13 دسمبر کو مینار پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والے پی ڈی ایم کے احتجاجی جلسے کے حوالے سے سرکاری حکمت عملی مرتب کرلی ہے اور اس حوالے سے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے حکمت عملی پر

مبنی سفارشات منظوری کے لئے وزیراعلیٰ  کو پیش کردیں۔ سفارشات کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی سفارشات میں سفارش کی گئی ہے کہ جلسے سے قبل پی ڈی ایم کے متحرک کارکنوں سمیت پاکستان مسلم لیگ ن کی بی کلاس قیادت کو گرفتار کرلیا جائے۔ سفارشات میں پی ڈی ایم کی جانب سے بغیر اجازت جلسے کے انعقاد کی صورت میں پی ڈی ایم کی قیادت اور منتظمین کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ سفارشات میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.