بھارت کی پاکستان مخالف سینکڑوں نیوز ویب سائٹس پکڑیں گئیں ،انڈین کرونیکلز بارے تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد (این این آئی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کی جانب سے انڈین کرونیکلز کے نام سے شائع دستاویز کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا دائرہ 116 ممالک تک پھیلا رکھا تھا،750 ایسی نیوز ویب سائٹس کی نشاندہی ہو چکی ہے جنہیں ہندوستان استعمال کرتا رہا،بھارت کا مقصد اپنے ملک کے بارے میں سوچ کو

مضبوط اور پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنا ہے تھا ،ہندوستان پاکستان کے خلاف ایک ہائبرڈ وار میں ملوث ہے اور پاکستان کئی سالوں سے اس کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کررہا ہے ، اقوام متحدہ میں کام کرنے والے انٹرنز کو ان جعلی این جی اوز میں استعمال کیا گیا اور اخبارات میں بھی چھپا کہ فری بلوچستان کے بینرز اور پوسٹر لگائے گئے، اے این آئی بھارتی نیوز ایجنسی جعلی معلومات پھیلانے میں ملوث ہے، جعلی بھارتی این جی اوز اور فیک میڈیا کے نیٹ ورک کے ذریعے اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے پاکستان کے خلاف استعمال پر تحقیقات کی جائے ،ہندوستان بین الاقوامی نظام کو غلط طور پر استعمال کر کے جعلی فورمز تشکیل دے رہا ہے جس کی فوری تحقیقات اور ان کے خلاف ایکشن کی ضرورت ہے ۔ وہ قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے صحافیوں سے کہا کہ آپ کو اس لیے تکلیف دی ہے کیونکہ آپ سے مزید تفصیلات شیئر کی ہیں جنہوں نے جنم لیا ہے اس دستاویز سے جو انڈین کرونیکلز کے نام سے آپ کے سامنے آ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ شائع ہو چکی ہے، یہ یورپی یونین ڈس انفو لیب کی تحقیق کے بعد یہ حقائق سامنے آئے ہیں اور یہ حقائق نشاندہی کرتے ہیں کہ پچھلے 15سالوں سے آن لائن اور آف لائن ہندوستان پاکستان کے تشخص کو متاثر، اپنی اچھائیوں اور سوچ کو جھوٹا سچا کرنے کیلئے کیا کر رہا تھا اور پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر متاثر کرنے کے لیے

جو ان کا کردار تھا وہ بھی آپ سامنے ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ جعلی حکمت عملی اپنے اسٹریٹیجک مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے کی جا رہی تھی۔انہوںنے کہاکہ بھارت کا مقصد اپنے ملک کے بارے میں سوچ کو مضبوط کرنا اور پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنا ہے تھا اور یہ جو کارروائی ہوئی اس کا دائرہ 116 ملکوں تک پھیلا ہوا تھا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جعلی نیوز ویب سائٹس ترتیب دیں

اور ان کا استعمال کرتے ہوئے 750 ایسی نیوز ویب سائٹس کی نشاندہی ہو چکی ہے جنہیں ہند وستان استعمال کرتا رہا۔انہوںنے کہاکہ 10 کے لگ بھگ جعلی این جی اوز جو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل سے منسلک تھیں، بھارت ان کو استعمال کرتا رہا اور ان پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتا رہا، جعرلی تھنک ٹینکس بنائے جن کو استعمال کیا جاتا رہا۔انہوںنے کہاکہ جعلی مظاہرے کیے گئے

جس کی بنیاد پر یہ کہتے تھے کہ دیکھیں برسلز میں کیا ہو رہا ہے، ہندوستان کا کیمپ لگا دیا، یہ سب اصل نہیں ڈرامہ تھا، ناٹک تھا اور فنڈ پر چل رہا تھا اور ہندوستان کی ریاست اور ادارے اس میں ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین میں غیررسمی پارلیمانی گروپس ترتیب دیے گئے، مثلاً ساؤتھ ایشیا پیس فورم، فرینڈز آف گلگت بلتستان اور جب ہم 14نومبر کو بات کررہے تھے تو میں نے کہا تھا کہ

یہ الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے بعد یہ وہاں قومیت کو ہوا دینے کی کوشش کرتے رہیں گے، آج اس جعلی پارلیمانی گروپ سے ظاہر ہوا کہ یہ کیا کررہے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نے بلوچستان کا بھی حوالہ دیا تھا کہ کس طرح خاص طور پر سی پیک کا منصوبہ آگے بڑھنا شروع ہوا، بلوچستان میں بالخصوص دہشت گرد سرگرمیاں بڑھتی چلی گئی، فرینڈز آف بلوچستان ایک

جعلی آرگنائزیشن اور گروپ بنایا گیا ہے تاکہ پراپیگنڈے کا پرچار کیا جا سکے۔وزیرخارجہ نے کہاکہ یہ جعلی نیوز آؤٹ لیٹس نہ صرف بھارت نے بنائے بلکہ بھارت انہیں فنڈ بھی کرتا ہے جس کا مقصد یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے نظام کو غلط معلومات دینا اور ان غلط معلومات کے ذریعے سے اپنے غلط مقاصد حاصل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان پاکستان کے خلاف ایک ہائبرڈ وار میں ملوث ہے

اور پاکستان کئی سالوں سے اس کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کررہا ہے لیکن اب کیونکہ حقائق سامنے آئے ہیں تو ہم نے مناسب سمجھا کہ آپ کے ذریعے پاکستان کے لوگوں اور عالی برادری کے ساتھ شیئر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو ہم گاہے بگاہے اپنے انداز میں سفارتی ذرائع سے آگاہ کرتے رہے کہ ہندوستان یہ کررہا ہے، یہ اس کے ڈیزائن اور ارادے ہیں اور آج جو ای یو ڈس انفو لیب کی

جو تفتیشی رپورٹ سامنے آئی ہے، اس نے ہمارے مؤقف کی تائید کردی اور اس پر مہر لگا دی۔انہوںنے کہاکہ یورپین پارلیمنٹ ٹوڈے ڈاٹ کام کے نام سے ایک یورپین پارلیمنٹ کی جعلی آن لائن میگزین بنائی گئی، اس کے ذریعے غلط معلومات کا بہاؤ جاری رکھا گیا اور یہ ہندوستان سے چلتی تھی، اس میگزین نے جعلی تھنک ٹینس اور این جی اوز کے ذریعے اس کو آگے بڑھاتے رہے۔انہوں نے کہا کہ

یورپی یونین کی غلط معلومات کے خلاف جو آرگنائزیشنز ہیں ان کی تحقیق جب مکمل ہوئی تو انہوں نے اس میگزین کو جعلی قرار دیا اور کہا کہ یہ سب تو دونمبر کام ہے اور اس کو بند ہونا چاہیے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہندوستان کی اعلیٰ نیوز ایجنسی اے این آئی کو پاکستان کے خلاف اس پراپیگنڈا کو پھیلانے کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور پھیلایا جا رہا ہے، یہ ایجنسی مختلف ذرائع سے

جعلی خبریں پھیلاتی ہے اور بھارت کے مین اسٹریم میڈیا کو لقمے دیتی ہے اور مواد فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے انتہائی پریشان کن ہے کیونکہ اے این آئی جیسی تنظیمیں رائٹرز جیسی معتبر نیوز وائرز کو خبریں دیتی ہیں جن کی ایک ساکھ ہے اور ان کی ان کے ساتھ ایک شراکت داری بنی ہوئی ہے اور رائٹرز والے کئی مرتبہ چیزوں کی گہرائی میں جائے بغیر ان سے چیزیں اٹھا لیتے ہیں

اور وہ شائع ہو جاتی ہیں، رائٹرز کو بھی ان انکشافات کے بعد محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ دنوں یورپی پرلیمنٹرینز کا مقبوضہ کشمیر کا دورہ ہوا تھا، وہ کیسے ہوا تھا، کس نے کروایا تھا اور اس کو فنڈ کس نے کیا تھا، اس قسم کی جعلی آرگنائزیشنز نے ہندوستان میں ریاست کے پیسے پر یہ دورے کرائے اور تاثر یہ دینا تھا کہ 5اگست 2019 کے بعد اب جو مقبوضہ جموں و کشمیر کی

صورتحال وہ بالکل درست ہو گئی اور حالات معمول کی طرف لوٹ آئے ہیں اور پاکستان جو دنیا میں اجاگر کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے غلط ثابت کرنا مقصود تھا۔وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ اقوام متحدہ میں کام کرنے والے انٹرنز کو ان جعلی این جی اوز میں استعمال کیا گیا اور اخبارات میں بھی چھپا کہ فری بلوچستان کے بینرز اور پوسٹر لگائے گئے، یہ کون کر رہا تھا، یہ بلوچستان کے لوگ نہیں کررہے تھے

یہ بھارتی فنڈنگ پر چلنے والی اس قسم کی آرگنائزیشنز کر رہی تھیں۔انہوںنے کہاکہ اگر میں کہوں یا دفتر خارجہ کہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ تو روایتی پاکستان کا رونا دھونا ہے لیکن اب یہ پاکستان نہیں بلکہ ایک آزاد پارٹی تحقیق کے بعد دوسری رپورٹ اس صورتحال کو اجاگر کررہی ہے جہاں پہلی رپورٹ 2019 میں پیش کی گئی تھی۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ فاٹف میں ہم نے 21 نکات پر مکمل عمل کیا تاہم ہمیں

بھارت مسلسل بدنام کرنے کی کوششیں کرتا رہا ، ہندوستان نے پاکستان مخالفت بیانیے کی ترویج کیلئے کس طرح پرائیویٹ فنڈز کے ذریعے بعض یورپی ممبران پارلیمنٹ کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزٹ کروائے ۔معید یوسف نے کہاکہ بھارت نے EPtoday.com کے جعلی میگزین کے ذریعے غلط معلومات پھیلانا شروع کیا تحقیقات سامنے آنے پر انہوں نے اسے EPtoday.com کے نام سے بدل دیا، مادی شرما، 39 ممبر یورپی

وفد کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کروانے میں پیش پیش تھیں تاکہ یہ تاثر دیا جائے کہ مقبوضہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے ،انہوں نے یورپی پارلیمنٹرینز کو دھوکہ دہی سے اس نیٹ ورک میں الجھایا ،پہلے یہ جعلی نیٹ ورک 65 ممالک میں تھا جو بعد میں 116 ممالک تک پھیلا دیا گیا ،آپ دیکھیں کہ یہ ریاست کس طرح جعلی بیانیے کی تشہیر میں میں

مصروف ہے ،رائٹرز ایجنسی نے کہا کہ ہمارا ANI کے ساتھ معاہدہ ہے لہذا وہ ایسا مواد شائع کریں گے جو اے این آئی بھجوائے گی معید یوسف نے کہاکہ فوت شدگان کے نام استعمال کر کے ان سے پاکستان کے خلاف تقاریر کروائی گئیں ،یہ ہم نہیں کہہ رہے آج یہ غیر جانبدار رپورٹ کہہ رہی ہے معید یوسف نے کہاکہ یورپی پارلیمنٹ کے لیٹر ہیڈز کو جعلی طور پر استعمال کیا گیا ،اس 80 صفحات پر

مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ رپورٹ تمام عوامل کو کور کرنے سے قاصر ہے ۔ انہوںنے کہاکہ سری واستوا نامی بھارتی شخص اس ساری جھوٹی کمپین کے روح رواں ہیں ،افسوسناک بات یہ ہے کہ کچھ پاکستانی بھی ان کے پروگراموں میں شمولیت اختیار کرتے رہے ،لوگوں کی شناخت چوری کی گئی جعلی کاغذات اور بین الاقوامی اداروں کے نام استعمال کیے گئے جو بین الاقوامی قوانین کے

تحت قابلِ مواخذہ ہیں ۔معید یوسف نے کہاکہ گلگت سے جو آوازیں اٹھ رہی تھیں وہ ہم نے آپ کو پہلے بتایا کہ یہ آوازیں ان نیٹ ورکس سے اٹھاء جا رہی تھیں ،میں وزیر خارجہ کے کردار کو سراہتا ہوں کہ وہ بھارت کے ان عزائم کو بے نقاب کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارا مقصد امن اور معاشی سیکورٹی ہے جبکہ یہ بھارتی نیٹ ورک ایسا جال بن رہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر

پاکستان کو اتنا بدنام کیا جائے تا کہ کوئی ہماری بات ماننے کیلئے تیار نہ ہو ،ہم اقوام متحدہ مشینری اور ہیومن رائٹس کونسل سے گذارش کرتے ہیں کہ وہ ان حقائق کو دیکھیں کہ کس طرح عالمی اداروں کو غلط طور پر استعمال کر کے جھوٹا بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے ۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ بھارت، کی پالیسیوں اور ہندوتوا سوچ کے خلاف آوازیں بھارت کے اندر سے آٹھ رہی ہیں ،اس رپورٹ نے بھارت کے گھناؤنے عزائم کی قلعی کھول دی ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.