استعفوٰں کا معاملہ ،پی ڈی ایم جماعتوں میں پھوٹ پڑ گئی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک / این این آئی) پاکستان ڈیمو کریٹ موومنٹ میں شامل اپوزیشن جماعتوں کا استعفوں اور تحریک عدم اعتماد بارے نکتہ نظر مختلف ہے ۔ ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے بعد سٹینڈنگ کمیٹی اور مولانا فضل الرحمن کے گھر ہنگامی کھانے کے اہتمام کا مقصد دراصل بلاول بھٹو کو قائل کرنا تھا کہ وہ استعفوں کے آپشن سے پیچھے نہ ہٹیں۔ اس حوالے سے

آصف زرداری نواز شریف سے ٹیلی فون پر ایک سے زائد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے ، اکثریتی جماعت کی بنیاد پر شہباز شریف کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کیا جائے تاہم نواز شریف کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن وزارت عظمیٰ کی خواہش مند نہیں، تحریک عدم کامیاب بھی ہوجاتی ہے تو نیا وزیراعظم ان حالات میں کچھ نہیں کر سکے گا۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی طرح یہ کوشش ناکام ہوگئی تو پی ڈی ایم تحریک فارغ ہوجائے گی۔ مذکورہ ایشوز مولانا کے گھر کھانے پر زیر بحث آئے بعد ازاں سٹیئرنگ کمیٹی میں بھی ان پر بات ہوئی۔ تاہم پیپلزپارٹی استعفوں بارے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے مشاورت اور اعتماد میں لینے کا موقف اختیار کئے ہوئے ہے جبکہ ایک طویل عرصہ سے پی پی نے کسی بھی اہم ترین ایشو پر سنٹرل ایگزیکٹو کا اجلاس بلایا نہ اعتماد میں لیا۔‎دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر خرم شیر زمان اوررکن سندھ اسمبلی شہزاد قریشی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پیپلزپارٹی سندھ اسمبلی سے استعفیٰ دے کر پی ڈی ایم تحریک میں غازی کا کردار ادا کرے۔پی پی استعفیٰ دے سندھ کی عوام ویلکم کرے گی۔استعفیٰ دیکر سندھ میں الیکشن کرائیں بلاول کو لاڑکانہ سے بھی شکست دیں گے۔ وزیر اعلیٰ سندھ ہمت کریں سندھ کی عوام شکرانے کے نوافل ادا کرے گی۔مولانا کے ذریعے ملک میں اداروں اور جمہوریت کو یرغمال بنانے کی کوشش ناکام ہوگی۔سندھ سمیت پورے ملک کی عوام موروثی سیاست کو

پہچان چکی ہے۔اپنے جاری کردہ بیان میں رہنماوں کا مزید کہنا تھا کہ استعفوں کے معاملے پر اپوزیشن میں پھوٹ پڑ چکی ہے ۔اپوزیشن جماعتوں نے مولانا فضل الرحمان کو استعفے نہ دے کر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ اپوزیشن کا اتحاد اپنے مفاد کے لئے ہے ، ان میں کوئی نظریاتی ہم آہنگی نظر نہیں آتی۔ اگر اپوزیشن جماعتوں نے استعفے دینے ہیں تو اسپیکر قومی اسمبلی کو پیش کریں۔

ہم منتظر ہیں کہ اپوزیشن اراکین رکنیت سے مستعفی ہوں تاکہ دوبارہ الیکشن کروائے جائیں ۔پی ٹی آئی کی حکومت اپوزیشن کی گیدڑ بھبکیوںسے گھبرانے والی نہیں، ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ اپوزیشن جماعتیں صرف اپنے مفادات کے لئے عوام کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے۔ کورونا کی صورتحال پر اپوزیشن رہنماوں کا غیر سنجیدہ رویہ انتہائی افسوسناک ہے ۔وزیر اعلیٰ سندھ نے

ایک طرف لاک ڈاون لگایا ہوا ہے تو دوسری طرف سیاسی سرگرمیوں کی حمایت کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم کی قیادت کی آخری منزل اڈیالہ جیل ہوگی، اپنے والدین کی کرپشن کو بچانے کے لئے نکلنے والے بچے ناکام واپس لوٹیں گے۔ کرپشن کرنے والے کسی شخص کو این آر او نہیں ملے گا۔ وزیر اعظم عمران خان ایک طویل

جدوجہد کے بعد عوامی مینڈیٹ لے کر منتخب ہوئے ہیں۔ معاشی محاذ پر آج دنیا پاکستان کی پالیسیوں کی معترف ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا ثمر اب آنا شروع ہوگیا ہے۔ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ملک کو اندرونی طور پر کمزور کرنے والے ملک دشمن ایجنڈے پر کام کررہے ہیں ۔ا نشاء اللہ بہت جلد اس پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.