کس قانون کے تحت ڈی جے بٹ کو گرفتار کیا ؟ سوشل میڈیا پر وزیراعظم عمران خان کا پرانا ٹوئٹ وائرل

اسلام آباد،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن)پی ڈی ایم کے لاہور جلسے سے قبل آج پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے ڈی جے بٹ کو گرفتار کرلیا گیا،یاد رہے کہ آج سے 6سال قبل جب نون لیگ کی حکومت تھی تو 13 ستمبر 2014 کو ڈی جے بٹ کی پنجاب پولیس کے ہاتھوں گرفتاری پر

سخت رد عمل دیتے ہوئے عمران خان نے ٹویٹر پیغام میں کہا تھا کہ کس قانون کے تحت پولیس ہمارے پر امن احتجاج کرنے والے کارکنان کو گرفتار کر رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ صرف ہمارے جلسے میں لائٹس اور میوزک کا انتظام کرنے پر ڈی جے بٹ کو گرفتار کیا جانا مسلم لیگ ن کی جانب سے ظلم کی انتہا ہے۔جبکہ آج عمران خان کی حکومت میں ہی اسی ڈی جے بٹ کو گرفتار کرلیا گیا، سوشل میڈیا صارفین حکومت کی اس حرکت پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، یاد رہے کہ مینار پاکستان پر 13 دسمبر کو منعقد ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے کے انعقاد میں رکاوٹیں ڈالنے کے لئے پنجاب حکومت نے شہر بھر کے کیٹرز، سائونڈ سسٹم اور ٹینٹ سروس کا کاروبار کرنے والے افراد کو سہولت کار قرار دے دیا ہے اور شہر بھر میں واقع 343کیٹرز اور سائونڈ سسٹم ہولڈرز کے خلاف کریک ڈائون کا آغاز کرتے ہوئے ملک کے معروف سائونڈ سسٹم فراہم کرنے والے ڈی جے بٹ کو گرفتار کرلیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ڈی جے بٹ کی

گرفتاری ماڈل ٹائون پولیس کے ہاتھوں بینک سکوائرز سے اس وقت عمل میں آئی جب وہ اپنی گاڑی میں سوار ہو کر وہاں سے گزر رہے تھے۔ ڈی جے بٹ نے پی ڈی ایم کے جلسہ کے موقع پر سائونڈ سسٹم فراہم کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پولیس نے ڈی جے بٹ کے خلاف سہولت کار ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ شہر میں واقع اس قسم کا کاروبار کرنے والے دیگر کاروباری لوگوں کی خفیہ نگرانی بھی شروع کردی گئی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.