اب لوگ میرا فون بھی نہیں سنتے اور نہ مجھ سے ملنا پسند کرتے ہیں ارشد ملک کی وفات سے کچھ دن قبل دوست سے کی جانیوالی گفتگو میں حیران کن انکشافات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی اور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے حالیہ کالم میں لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک دوست کے توسط سے میری ارشد ملک سے ملاقات ہوئی تو وہ پریشان تھے، مجھ سے دعا کا کہا، جس پر میں نے انہیں کہا میں بھی دعا کروں گا اور ہمارے ایک بزرگ حافظ صاحب ہیں۔

ان سے بھی آپ کو پڑھنے کیلئے کچھ لے کردوں گا، اللہ فضل کرے گا، پھر میں نے حافظ صاحب کا مختصر سا تعارف کروایا، تسبیحات کی اہمیت بتائی تو ارشد ملک کے چہرے پر پہلی بار زندگی نظر آئی، کہنے لگے، پلیز آپ نے یاد سے پڑھنے کے لیے کچھ لے کر دینا ہے، یہ کہہ کر ارشدملک نے اپنی جیب سے موبائل نکالا، مجھ سے میرا نمبر لیا، اپنے موبائل میں میرا نمبر سیو کیا اور جب ہم ایک دوسرے کو خدا حافظ کہہ رہے تھے تب بھی مجھ سے کہا پلیز حافظ صاحب سے مجھے پڑھنے کیلئے ضرور لے کر دینا ہے، میں نے کہا جی ان شا اللہ۔اس کے بعد دو مرتبہ انہوں نے رابطہ کیا لیکن بات نہ ہو سکی اور نہ ہی میرا حافظ صاحب سے رابطہ ہوا۔ ارشاد بھٹی نے کہا کہ ارشد ملک کے انتقال کی خبر سنتے ہی میں نے بے یقینی کے عالم میں ارشد ملک اور اپنے مشترکہ دوست کو فون کیا، وہ اتنا دکھی تھا کہ اس سے بات ہی نہیں ہو پا رہی تھی، بتانے لگا، ارشد ہر ہفتے کہتا، بھٹی صاحب سے کہیں مجھے پڑھنے کے لیے لے کر دیں۔

میں نے اپنے دوست سے پوچھا، ارشد ملک کو ہوا کیا، دوست بولا، بظاہر کورونا ہوا، کورونا جاتے جاتے پھیپھڑوں کو بہت نقصان پہنچا گیا، کورونا گیا تو ہارٹ اٹیک ہو گیا لیکن اصل میں اسے تنہائی، ڈپریشن نے مار ڈالا ہے۔صورتحال یہ تھی کہ میرے پنڈی والے گھر میں بجلی میٹر کا مسئلہ تھا۔

میں نے ارشد ملک سے کہا یار کسی کو کہہ کر بجلی میٹر تو چالو کروا دو، چنددن بعد اسے پھر سے یاد کروایا، جب پھر بھی کام نہ ہوا تو میں نے کہا، یار اتنا چھوٹا سا کام کہا ہے، کیوں نہیں کروا رہے؟ یہ سن کر ارشد ملک کی آنکھوں میں آنسو آگئے، گلو گیر لہجے میں بولا یار تمہیں کیا بتائوں۔

اب لوگ میرا فون بھی نہیں سنتے، مجھ سے ملنا پسند نہیں کرتے، مجھے دیکھ کر لوگ رستہ بدل جاتے ہیں۔اپنے کالم میں ارشاد بھٹی نے مزید لکھاکہ میرا دوست بتا رہا تھا کہ کس طرح ارشد ملک کے خاندان نے مشکل کاٹی، کس طرح دو بیٹوں اور دو بیٹیوں والا ارشد ملک پرامید تھا کہ جب میں

پٹیشن دائر کروں گا تو عدالت مجھے کم از کم وکالت کرنے کی اجازت دے دے گی، جب دوست یہ سب بتا رہا تھا تب میں سوچ رہا تھا، ہمارے سسلین مافیا، گاڈ فادر کتنے ظالم، کیا چالیں چلیں، پہلے ارشد ملک کی 2005 کی اخلاق باختہ ویڈیو خریدی، پھر اسے احتساب عدالت کا جج لگوایا۔

پھر اس کے پاس اپنے کیس لگوائے، پھر مبینہ طور پر اخلاق باختہ ویڈیو کے زور پر مقدموں کے فیصلے اپنی مرضی کے کروانے کی کوشش کی، ناکامی ہوئی تو پلان بی کے تحت ارشد ملک کے دوستوں کے ذریعے اخلاق باختہ ویڈیو کے زور پر من مرضی کی ویڈیوز بنائی گئیں، اسے

بلیک ملیک کرکے جاتی امرا نواز شریف کے دربار میں پیش کیا گیا، مدینے میں حسین نواز سے ملاقاتیں کروائی گئیں، دوستوں کے ذریعے پیسے، غیرملکی شہریت کی آفریں کی گئیں، کہا گیا، استعفیٰ دے دو، خاندان کے ساتھ باہر آجائو، بس ایک پریس کانفرنس کردو کہ میں نے سب فیصلے فلاں فلاں کے دبائو میں کئے، جب ارشد ملک یہ بات نہ مانا تو پھر مریم نواز کی پریس کانفرنس ہو گئی، سوچ رہا ہوں، ارشد ملک مر گیا، سب نے مرنا لیکن گاڈ فادر، سسلین مافیا اوپر جا کر اللہ تعالی اور ارشد ملک کا کیسے سامنا کریں گے؟

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.