اعلی افسران اور حکومتی ارکان کے ساتھ سیلفیاں بنا کر نوسر باز نے لوگوں کو مبینہ طور پر کروڑوں روپے کا چونا لگا ڈالا

وہاڑی(آن لائن )وہاڑی سے تعلق رکھنے والے بین الاضلاعی مبینہ نوسر باز گروہ کا انکشاف،83ڈبلیو بی کے رہائشی شمشاد علی نے اعلی افسران اور حکومتی ارکان کے ساتھ سیلفیاں بنا کر لوگوں کو مبینہ طور پر کروڑوں روپے کا چونا لگا ڈالا،پولیس نوسر باز سے مبینہ طور پر ساز باز متاثرین کا احتجاج وزیراعلی پنجاب اور آئی جی پنجاب سمیت دیگر اعلی حکام سے نوٹس لینے کا

مطالبہ پیر محل،ٹوبہ ٹیک سنگھ اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والینزاکت علی،چوہدری اجمل،محمد یار پنوں،محمد ساجد،محمد طاہر اور ارشد علی نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ احتجاج کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ وہاڑی کے چک نمبر 83 ڈبلیو بی کا رہائشی رانا شمشاد علی اپنے بھائی نسیم،بیٹے نوید اور ساتھی رمضان کے ساتھ مل کر پنجاب کے مختلف اضلاع کے لوگوں کو بڑے افسران اور حکومتی اراکین کے ساتھ سیلفیاں دکھا کر نوکریاں دلوانے کا جھانسہ دیتے ہوئے کروڑوں روپے کا فراڈ کرچکا ہے لوگوں سے بچنے کیلئے الٹا وہاڑی پولیس سے مبینہ طور پر ساز باز ہوکر انہی لوگوں کے خلاف جھوٹی ایف آئی آرز درج کرواتا ہے ملزم شمشاد اور اس کے ساتھیوں نے ارشد،ساجد اور نزاکت علی کو پیر محل جاکر جان پہچان بناتے ہوئے کورٹ میں نوکریاں دلانے کا جھانسہ دے کر 20 لاکھ روپے سے زائد رقم لے لی رقم کا تقاضہ کرنے پر ملزمان نے ایس ایچ او ٹھینگی عبدالستار گجر کے ساتھ ساز باز ہوکر ہمارے خلاف 2جھوٹے مقدمات252/20اور287/20درج کروائے جس میں شمشاد علی نے ہمارے جعلی اسٹامپ پیپرز پیش کئے جس پر شمشاد علی کے خلاف تھانہ دانیوال میں مقدمہ نمبر445/20درج کروایا پولیس ملزمان کے مقامی ہونے کے باعث ان سے ساز باز ہوکر ان کا ساتھ دے رہی ہے ہمیں انصاف کے تقاضے پورے ہوتے دکھائی نہیں دے متاثرین نے بتایا کہ شمشاد علی اور اس کے ساتھیوں کے خلاف پنجاب کے مختلف تھانوں میں فراڈ کی متعدد ایف آئی آرز درج ہیں جن میں تھانہ پیر محل میں مقدمہ نمبر1073/20اسی تھانہ میں مقدمہ نمبر516/20تھانہ صدر چیچہ وطنی میں مقدمہ نمبر234/20تھانہ دانیوال کا445/20 سمیت دیگر قابل ذکر ہیں ملزمان منظم طور پر فراڈ کا کام کرتے ہیں ہم سمیت سینکڑوں افراد ان کے فراڈ کا شکار ہوچکے ہیں ہماری وزیراعلی پنجاب،آرپی او ملتان اور ڈی پی او وہاڑی سے درخواست ہے کہ ملزمان کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.