”آپ چیف جسٹس پاکستان پر الزام لگار ہی ہیں،آپ لمٹ کراس کر رہی ہیں، آپ اپنی حد تک باہر نہ جائیں“ سرینا عیسیٰ نے سپریم کورٹ سے معافی مانگ لی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جسٹس قاضی فائزعیسیٰ دیگرکی نظرثانی درخواستوں پرسماعت کے دوران سرینا عیسیٰ نے سپریم کورٹ سے معافی مانگ لی ۔سیرینا عیسیٰ نے کہاکہ میرا مقصد کسی معزز جج کی دل آزاری نہیں تھا، اگر کسی جج کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معذرت چاہتی ہوں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ دیگرکی نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی ،جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ سیریناعیسیٰ نے 6رکنی بینچ کے روبروبینچ کی تشکیل پرکہاکہ سپریم کورٹ کارول 26 اے کہتاہے درخواستیں وہی بینچ سن سکتاہے جس نے پہلے سماعت کی ہو،سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے6رکنی بینچ تشکیل دے کرغلطی کی،6 رکنی بینچ کیسے7رکنی بینچ کے فیصلے پرنظرثانی درخواست سن سکتاہے،کیا6 رکنی بینچ 7رکنی بینچ کے فیصلے کی نظر ثانی سن سکتا ہے؟ ۔سیریناعیسیٰ نے عدالت کے6رکنی بینچ کے ججزکے نام لےکرسب سے الگ الگ سوال کیا،سیرینا عیسیٰ نے کہاکہ چیف جسٹس پاکستان اس کیس میں فریق ہیں، رسپانڈنٹ ہیں، جسٹس عمرعطابندیال نے سیریناعیسیٰ پراظہاربرہمی کرتے ہوئے کہاکہ آپ چیف جسٹس پاکستان پرالزام لگارہی ہیں،آپ لمٹ کراس کررہی ہیں آپ اپنی حدسے باہرنہ جائیں،ایساکبھی نہیں ہواکہ سماعت میں چیف جسٹس پاکستان پرالزام لگایاجائے،آپ ادارے اوراس کے سربراہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے محتاط

رہیں،چیف جسٹس بینچ بنا سکتا ہے یہ اس کا آئینی اختیار ہے۔سیرینا عیسیٰ نے عدالت سے معافی مانگ لی، سیرینا عیسیٰ نے کہاکہ میرا مقصد کسی معزز جج کی دل آزاری نہیں تھا، اگر کسی جج کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معذرت چاہتی ہوں، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ آپ قوانین سے واقف نہیں ہیں ، اسی لیے وکلا کو سنتے ہیں ، آپ ایک فیملی کی طرح ہیں صرف اپنے قانونی نقطے تک محدود رہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.