خیبرٹیچنگ اسپتال واقعہ، حکومت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کو10،10لاکھ روپے دینے کا اعلان کر دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)صوبائی حکومت خیبر پختونخواہ نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں آکسیجن کی عدم فراہمی کے سبب دم توڑ جانے والے 6افراد کے لواحقین کو 10، دس لاکھ روپے دینے کا اعلان کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق مشیراطلاعات خیبرپختونخوا کامران بنگش اور وزیرصحت تیمورسلیم جھگڑا نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ آکسیجن کی کمی ہی واقعے کا سبب بنی۔

بدقسمتی سے آکسیجن وافر مقدار میں سپلائی نہیں ہوئی۔دوسری جانب خیبرٹیچنگ ہسپتال میں 8 مریضوں کے جاں بحق ہونے کاواقعہ کی ابتدائی انکوائری رپورٹ تیار، انکوائری کے بعد ہسپتال ڈائریکٹر سمیت7 ملازمین معطل کر دیئے گئے۔انکوائری رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ٹینک میں آکسیجن نہ ہونے کے باوجودوقت پر دھیان نہ دیاگیا ،ہسپتال کے پاس آکسیجن کاکوئی بیک اپ موجود نہیں تھا، فیلسیٹی مینجر نے وقت پر ملازمین کی غیرحاضری رپورٹ نہیں کی ،سپلائی چین نے مطلوبہ آکسیجن بروقت مہیا نہیں کیا، ہسپتال کے پاس ایمرجنسی ریسکیوسکواڈ موجود نہیں ،آکسیجن پلانٹ سٹاف کو مزید تربیت کی ضرورت ہے ۔معطل ہونے والوں میں ہسپتال ڈائریکٹر طاہر ندیم خان ، فیسیلٹی منیجر طاہر شہزاد،منیجرسپلائی علی وقاص، بائیو میڈیکل انجینئر بلال بابک، آکسیجن پلانٹ اسسٹنٹ نعمت شامل ہیں ، ان کے علاوہ آکسیجن پلانٹ کے 2 ڈیوٹی ملازمین کو بھی معطل کردیاگیا۔یاد رہے کہ خیبر پختون خوا کے دارالخلافہ پشاور کے خیبر ٹیچنگ اسپتال میں آکسیجن سلنڈر بروقت نہ پہنچنے کے باعث کورونا وائرس کے 8 مریض جاں بحق ہو گئے۔خیبر ٹیچنگ اسپتال کے حکام کے مطابق واقعہ گزشتہ شب پیش آیا، جس میں آکسیجن کی مسلسل فراہمی نہ ملنے سے مریض دم توڑ گئے۔ اسپتال کے حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ آکسیجن سلنڈر بر وقت نہپہ نچنے سے دیگر وارڈز کے مریض بھی متاثر ہوئے۔دریں اثنا

خیبر ٹیچنگ اسپتال کے ترجمان کا موقف ہے کہ اسپتال کو روال پنڈی سے آکسیجن سلنڈر فراہم کیئے جاتے ہیں، راولپنڈی سے آکسیجن کے سلنڈر بروقت نہیں پہنچے۔ ترجمان خیبر ٹیچنگ اسپتال کا مزید کہنا ہے کہ سردیکے سبب مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت زیادہ رہتی ہے۔خیبر ٹیچنگ اسپتال کے ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آکسیجن سلنڈر کی پہنچنے میں تاخیر پر معلومات بھی لی جا رہی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.