ملکی خزانے میں لوٹ مار کیسے ہوئی؟ کون کون ملوث تھا؟ اہم وفاقی وزیر کے کنٹریکٹرز بھی پیسہ بھجوانے میں ملوث،نواز شریف اور آصف زرداری کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس سے متعلق بھی تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر قائم قرضہ کمیشن کی ابتدائی رپورٹ مکمل ہو گئی، رپورٹ میں ملکی خزانے میں لوٹ کرنے والوں سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات کیے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق قرضہ کمیشن نے ابتدائی تحقیقات کے بعد حتمی تحقیقات کے لیے اہم کیسز نیب کے حوالے کر دیے، آصف زرداری کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس سے

متعلق بھی تہلکہ خیز انکشافات ہوئے ہیں، وزارت مواصلات کے کنٹریکٹرز بھی جعلی اکاؤنٹس میں پیسہ بھجوانے میں ملوث نکلے۔وفاقی وزیر مراد سعید نے اے آر وائی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ قرضہ کمیشن میں بھیجے گئے کیسز کی ابتدائی رپورٹ ملی ہے، جو کیسز میں نے بھیجے تھے ان میں 5 قومی شاہراہوں کے منصوبے شامل تھے، سابق سربراہان مملکت کے نجی دوروں اور کیمپ آفسز کی تفصیلات بھی بھیجی گئی تھیں۔مراد سعید نے بتایا کہ آصف زرداری کے دبئی اور نواز شریف کے زیادہ تر دورے لندن کے تھے، ان نجی دوروں پر خرچ ہونے والی رقم ملکی خزانے سے ادا کی جاتی رہی، یہ کیسز نیب کو بھجوائے گئے ہیں۔مراد سعید کا کہنا تھا کہ یوسف گیلانی، نواز شریف، شہباز شریف سمیت دیگر نے اپنے گھروں کو کیمپ آفس بنایا، میں نے احسن اقبال، ان کے بھائی کو دیے گئے ٹھیکوں کی تفصیل بھی بھیجی تھی، تمام دستاویزی ثبوت موجود ہیں، فائلز کی شکل میں جن کی کاپیاں کرا کر رکھ لی ہیں۔انھوں نے بتایا کہ جعلی اکاؤنٹس میں پیسہ ڈالنے والے وزارت مواصلات کے کنٹریکٹر ہی تھے، جو لوگ ملوث تھے ان کے نام بھی قرضہ کمیشن کو بھیج چکا ہوں، نواز شریف نے اپنے دور میں وزارت مواصلات کا ناجائز استعمال کیا، انھوں نے بغیر بڈنگ مختلف کمپنیوں سے غیر قانونی ٹھیکے کیے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ جس منصوبے کی بڈنگ 2 سال بعد ہوئی، نواز شریف نے وہ ٹھیکہ پہلے ہی دے دیا تھا، احسن اقبال کے بھائی کو بھی نوازنے کی پوری پوری کوشش کی گئی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.