’’ لانگ مارچ ہو گا یا استعفے ؟ن لیگ انتہائی قدم اٹھانے کیلئے تیار‘‘ انتظامیہ بنی گالہ کے احکامات پر کان نہ دھرے ورنہ ۔۔ انتباہ جاری

فیصل آباد ( آ ن لائن ) مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے لانگ مارچ ہو گا یا استعفے آئیں گے فیصلہ 8دسمبر کو پی ڈی ایم کے جلسے میں ہو گا، حکومت سیاسی مقدمات درج کرنے کا ورلڈ ریکارڈ قائم کر رہی ہے ، نواز شریف کو مشورہ دیا کہ اپنا اور اس نااہل ٹولے کا بھی علاج کریں، شہباز شریف کے 15 روزہ پرول کی درخواست کی تھی، حکومت نے پرول کے معاملے پر

انسانیت سوز اقدام کیا، حکومت نے گرفتاریاں کیں تو اس کے اثرات گہرے ہوں گے۔ فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے اندازے سے پی ڈی ایم رہنمائوں اور کارکنوں کے خلاف جعلی مقدمات بنا رہی ہے جلسے ہو ں گے اور اگر جلسوں میں کسی قسم کی گڑبڑ کی گئی تو اس کی ذمہ دار انتظامیہ کی نہیں بنی گالہ کی ہو گی ہم انتظامیہ کو خبر دار کر تے ہیں کہ وہ بنی گالہ کے احکامات پر توجہ نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ ملتان جلسے میں گرفتار کارکنوں کے خلاف جعلی مقدمات ختم کر کے گرفتار کارکنوں کو فوری طور پر رہا کرے۔ شبلی فراز اور پنڈی کا شیطان شیخ رشید کہتا ہے کہ پی ڈی ایم کے جلسے نا کا م ہو ئے ہیں تو میں ان کو بتانا چاہتا ہوں ملتان میں انتظامیہ کی پکڑ دھکڑ کے باوجود اتنا کامیاب جلسہ ہوا ہے ۔ راناثناء اللہ کا کہنا تھا کہ 13دسمبر کو لاہور کا جلسہ ہر صورت ہو گا اگر ملتان کی طرح لاہورمیں بھی حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو کوئی تصادم ہو سکتا ہے جس کی تما م تر ذمہ داری حکومت کی ہو گی مقدمات درج ہونے کی جہاں تک بات ہے تو پی ٹی آئی حکومت جعلی اور جھوٹے مقدمات میں عالمی ریکارڈ قائم کر رہی ہے حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چایئے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق راناثناء اللہ نے کہا کہ میاں نواز شریف کی علاج معالجے کی غرض سے لندن میں رکے ہوئے ہیں اپنا علاج مکمل کر کے

وطن واپس آئیں ہیں پارٹی نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے علاج کے ساتھ ساتھ اس نااہل اور کرپٹ ٹولے کا علاج بھی مکمل کر کے واپس آئیں ۔ سابق صدر آصف علی زرداری کے نواز شریف سے رابطے کے ایک سوال پر جواب دیتے ہوئے رانا ثنا ء اللہ نے کہا کہ میاں نواز شریف کو کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے فیصلہ جو بھی ہو ا پارٹی نے یا میاں نواز شریف نے کر نا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ

مسلم لیگ ن نے شہباز شریف اور حمزہ کی پیرول رہائی کیلئے 15روز کی درخواست کی تھی کیونکہ ملک بھر سے پارٹی کارکنوں نے ان کی والدہ کی تعزیت کیلئے آنا تھا اور ایک دو روز کی مدت کا فی کم تھی لیکن حکومت نے ظلم کی انتہا کی ہے ،انسانیت سوز رویئے کا مظا ہر ہ کیا ہے جس کی ہم مذمت کر تے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 8دسمبر کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہو گا مریم نواز کی شہباز شریف سے ملاقات ہو گئی ہے اب دیکھیں کیا فیصلہ ہو تا ہے لانگ مارچ ہو گایا استعفے آئیں گے فیصلہ 8دسمبرکو پی ڈی ایم کے اجلاس میں ہی ہو گا ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.