ڈار صاحب گورے سے مرعوب ہو گئے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حامد میر اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں کہ حکومت کے وزیر اور مشیر بی بی سی کے ایک صحافی سٹیفن سیکر سےبڑے خوش نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں اس برطانوی صحافی نے اپنے پروگرام ’’ہارڈ ٹاک ‘‘ میں پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو کلین بولڈکردیا ۔’’ہارڈ ٹاک‘‘ میں صاف نظر آ رہا تھا کہ سٹیفن سیکر کے سامنے لکھے

ہوئے سوالات پڑے تھے اور اس نے بڑی تیاری کر رکھی تھی جبکہ اسحاق ڈار کی کوئی تیاری نہیں تھی۔شائد وہ اکانومی پر بات کرنے آئے تھے لیکن ’’ہارڈ ٹاک ‘‘میں انہیں ان کی جائیداد میں الجھا دیا گیا حالانکہ ماضی میں اسحاق ڈار سےکئی پاکستانی صحافی اس قسم کے سوالات کئی مرتبہ کر چکے ہیں۔زیادہ پرانی بات نہیں‘معروف پاکستانی صحافی نسیم زہرہ نے لندن میں اسحاق ڈار سے ایک تفصیلی انٹرویو کیا جو ایک نجی چینل پر نشر ہوا۔اس انٹرویو میں نسیم زہرہ نے اسحاق ڈار سے ہر قسم کے سوالات کئے اور سابق وزیر خزانہ کو بتانا پڑا کہ ان کا خانساماںکس نے اغواء کیا تھا ۔اس انٹرویو کے بعد نسیم زہرہ اور ان کے ٹی وی چینل کیلئے مشکلات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ۔متذکرہ چینل کی انتظامیہ کو حکم دیا گیا کہ نسیم زہرہ کو نوکری سے نکال دیا جائے ۔ چینل کی انتظامیہ نے یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا جس کے بعد اس چینل کے خلاف پیمرا نے بار بار کارروائی کی ۔پیمرا نے ایک طرف اسحاق ڈار کے انٹرویوز اور بیانات نشر کرنے پر پابندی لگا دی، دوسری طرف مذکورہ چینل کو بند کر دیا۔پچھلے اڑھائی سال میں اس چینل کو چار مرتبہ بند کیا جا چکا ہے ۔آخری بندش 90دن تک جاری رہی اور یہ بندش لاہور ہائیکورٹ کے حکم سے ختم ہوئی ۔یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں بھی یہ چینل زیرِ عتاب رہتا تھا ۔اس چینل کی انتظامیہ نسیم زہرہ کو فارغ کردیتی تو چینل کیلئے

کوئی مشکل کھڑی نہ ہوتی لیکن اسحاق ڈار کا ایک انٹرویو اس چینل کو بہت مہنگا پڑا۔یہ صرف ایک پاکستانی چینل کی کہانی نہیں ہے ۔پچھلے اڑھائی سال میں ایک نہیں‘ کئی پاکستانی ٹی وی چینلز سے منسلک متعدد صحافیوں کو نوکری سے فارغ کرنے کے لئے دبائو ڈالا گیا ۔کچھ چینلز نے دبائو قبول کر لیا، کچھ نے دبائو قبول نہیں کیا ۔جنہوں نے دبائو قبول نہیں کیا انہیں جھوٹے مقدمات میں الجھا کر

عبرت کی مثال بنانے کی کوشش کی گئی۔سٹیفن سیکر اور ان کا ادارہ خوش قسمت ہے کہ انہیں کبھی ایسے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا جن حالات کا سامنا نسیم زہرہ اور ان کے چینل کو کرنا پڑا۔ برطانیہ میں صحافت آسان‘ پاکستان میں مشکل ہے ۔ایک برطانوی صحافی کاغذ پر لکھے ہوئے سوالات پڑھتا جا رہا تھا اور اسحاق ڈار اٹک اٹک کر جواب دے رہے تھے ۔مجھے یاد ہے کہ جب وہ وزیر

خزانہ تھے اور جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں انہیں سخت سوال کیا جاتا تو وہ فوراً مجھے طعنہ مارتے کہ عمران خان آپ کا دوست ہےاور پھر 1993ء کا ایک واقعہ بھی یاد دلاتے ۔اس وقت ڈار صاحب لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر تھے اور انہوں نے عمران خان کو شوکت خانم کینسر اسپتال کی امداد کیلئے چیمبر میں بلایا۔یہاں عمران خان نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے بارے میں

کچھ گفتگو کی جو میں نے رپورٹ کر دی ۔اگلے دن عمران خان نے اسحاق ڈار سے کہا کہ اس خبر کی تردید کرو لیکن ڈار صاحب نے تردید کرنے سے انکار کردیا ۔ڈار صاحب مجھے بار بار یہ واقعہ یاد دلاتے اور کہتے کہ آپ کا دوست عمران خان اپنی کہی بات پر قائم نہیں رہتا ۔عمران خان آج جب وزیر اعظم بن چکے ہیں تو وہ مجھے اپنا نہیں بلکہ نواز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل

الرحمان اور اختر مینگل سمیت حکومت کے ہر مخالف کا دوست سمجھتے ہیں ۔جب سٹیفن سیکر بار بار اسحاق ڈار سے کاغذ پر لکھے سوالات پوچھ رہا تھا تو ڈار صاحب بھی اس سے یہ پوچھ سکتے تھے کہ آپ کو یہ سوال کس دوست نے لکھ کر دیئے ؟ ڈار صاحب یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ آپ نے تو مجھے اکانومی پر گفتگو کیلئے بلایا تھا، آپ مجھ سے میری جائیدادوں کے علاوہ بھی کوئی

سوال پوچھ لیں لیکن ڈار صاحب نے اس کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کی ۔ شائد اس لئے کہ وہ گورا تھا‘ گورے سے ڈار صاحب بھی مرعوب ہو گئے اور عمران خان کے وزیر و مشیر بھی اس کی عظمت کےگن گا رہے ہیں ۔چلیں ڈار صاحب نے تو اپنے آپ کو ’’ہارڈ ٹاک‘‘میں پیش کر دیا ۔کیا موجودہ حکومت کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ میں اتنی ہمت ہے کہ ’’ہارڈ ٹاک ‘‘میں آئیں ؟

جواب آپ کو معلوم ہے ۔موجودہ حکومت کے کچھ غیر منتخب مشیروں کی نوکری صرف یہ ہے کہ جو اینکر حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھا دے یا تھوڑی سی تنقید کر دے، اس کے خلاف سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دو ۔پھر اس طوفان بدتمیزی کو فائلوں میں سجا کر وزیر اعظم کے نوٹس میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ مارچ 2021ء میں سینٹ کی ٹکٹ مل جائے ۔آپ کو

حکومت کے کچھ غیر منتخب مشیروں کے لب ولہجے میں جو ضرورت سے زیادہ تلخی اور نفرت نظر آتی ہے، وہ اسی نفرت کو بیچ کر سینٹ کا ٹکٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس نفرت کا جواب بھی نفرت سے آتا ہے لہٰذا آج پاکستان کی سیاست میں ہمیں سیاسی اختلاف کم اور ذاتی انتقام زیادہ نظر آتا ہے۔حکومت اور اپوزیشن دونوں ریڈلائن کراس کر چکے ہیں ۔شہباز شریف پہلے بھی مفاہمت کی

بات کرتے تھے‘ اب بھی ڈائیلاگ کی بات کرتے ہیں لیکن ان کا بیانیہ ناکام ہو چکا۔ان کی دوسری مرتبہ گرفتاری کے بعد پاکستانی سیاست میں کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔13دسمبر کو لاہور میں پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد اس کشیدگی میں مزید اضافے کا خطرہ ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دسمبر کے آخر یا جنوری کے شروع میں اپوزیشن کی طرف سے اسلام آباد کا گھیرائو ہو گا اور

پھر گھیرائو کے خاتمے کیلئے ایک ڈائیلاگ شروع ہو گا۔فی الحال ایسے کسی ڈائیلاگ کے آثار نہیں ۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اپنے اتحادیوں پر واضح کر چکے ہیں کہ جب تک عمران خان وزیر اعظم ہیں،کسی سے کوئی ڈائیلاگ نہیں ہو گا ۔صرف ہارڈ ٹاک ہو گی۔ یہ ہارڈ ٹاک پاکستان کی سیاست کو پوری دنیا

کی توجہ کا مرکز بنا دے گی ۔پی ڈی ایم کی قیادت سٹیفن سیکر کی طرح کچھ اہم سوالات بار بار دہرائے گی۔ یہ سوالات کسی کی جائیدادوں کے متعلق نہیں ہونگے بلکہ کشمیر سے شروع ہو کر فلسطین کی طرف جائیں گے اور کسی نہ کسی کو ان کے جوابات تو دینے پڑیں گے ورنہ یہ ہارڈ ٹاک اتنی جلدی ختم نہیں ہو گی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.