پھر کہتا عمران خان کھاتا ہے نہ کھانے دیتا ہے،عاصم سلیم باجوہ کااسکینڈل سنا ہے؟ پرویز الہٰی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا، ملتان کا وائرس کون ہے کہ عوام جانتی ہے ،اس وائرس کا نام ۔۔ مریم نواز ملتان جلسہ میں حکومت پر برس پڑیں

ملتان ( آن لائن ) مسلم لیگ (ن) کی نائب صدرمریم نواز نے کہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا وائرس عمران خان ہے ، حکومت کا خاتمہ کرکے تمام وائرس کا خاتمہ کرینگے ، جب گھر پر مشکل آئے تو عوام باہر نکلتی ہے ،22کروڑ عوام مشکل میں ہیں ، آصفہ بھٹو ک وخوش آمدید کہتی ہوں ، نواز شریف پر مشکل وقت پر شہباز شریف اور نواز شریف کی ماں رب العزت کو پیاری ہوگئی ہیں ،

نوازشریف نے کہا کہ میں اپنے گھر میں چھو کر جارہا ہوں، عوام کے دکھوں سے بڑے شریف فیملی کے دکھ نہیں ہیں ، ملتان کے شیر ہر گھر سے باہر نکلے ہیں ، نواز شریف نے کہا تھا کہ ملتان میں جا کر اپنے دکھوں کا اظہار مت کرنا ، ہم عوام کے دکھوں کا مدوا نئے الیکشن سے کرینگے ، عوام پر غربت مہنگائی ، بے روزگاری کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں بجلی گیس چینی آٹا اور اشیاء خوردونوش کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں ، رب العزت کی قسم کھاتی ہوں عوام کا ساتھ دونگی ، ملتان کے لوگ غیرت والے ہیں ہمیشں دشمن بھی کم ظرف ملا ہے ۔ ملتان میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملتان والوں کی بہادری کو سلام پیش کرتی ہوں، میں آپ بہادری کی قائل ہوگئی ہوں۔ہمارے نہتے کارکنوں اور عوام پر ظلم کیا جارہا ہے، تو میں نے کہا کہ جلسہ ہو یا نہ ہو، میں ملتان ضرور جاں گی۔ جب میں ملتان پہنچی ابھی ملتان داخل نہیں ہوئی تھی کہ گلی گلی ہر محلے میں جلسے ہورہے ہیں۔ملتان والو! شاباش تم نے آج عمران خان کو مارمار کربھگا دیا۔ میں پیپلزپارٹی کو یوم تاسیس پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ میں اپنی چھوٹی بہن آصفہ بھٹو کا خیرمقدم کرتی ہوں، جب گھر پر مشکل آئے تو بیٹیاں مائیں اور بہنیں نکلتی ہیں، جب پاکستان کی 22کروڑ عوام پر مشکل آئے تو پھر پاکستان کی یہ بیٹیاں عوام کیلئے نکلتی ہیں۔ آپ سب جانتے ہو،نوازشریف پر آج پھر مشکل وقت ہے، شریف فیملی پر

ایک اور قیامت ٹوٹی ہے، نوازشریف اور شہبازشریف کی ماں اللہ کو پیاری ہوگئی۔لیکن نوازشریف نے ٹیلی فون پر کہا کہ اپنے دکھوں کو گھر پر چھوڑ کرجانا، ہمارا دکھ چھوٹا، عوام کے دکھ بڑے ہیں۔نوازشریف نے مجھے کہا کہ ملتان کے عوام کے پاس جاکر اپنے دکھوں کا ذکر مت کرنا، کیونکہ تکلیف میں ہم ہیں اس سے زیادہ عوام تکلیف میں ہیں۔ عوام پر روز دکھوں اور غموں کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں،

ہم جانتے ہیں، کاروبار کو تالا لگ گیا، روٹی 30کی ، چولہے ٹھنڈے ہونے اور ادویات ، بجلی گیس کی قیمتیں پہنچ سے باہر ہوجانے کا غم ہے۔دوباتیں کروں گی ،اللہ کی قسم کھا کر کہتی ہوں،ان کا میرے غموں سے کوئی تعلق نہیں، کہتے ہیں دشمن بھی ظرف والا ہونا چاہیے، لیکن ہمیں دشمن بھی کم ظرف ملا، میری دادی کا انتقال ہوا تو میں پشاور جلسے میں تھی، لیکن مجھے اڑھائی گھنٹے گزر گئے،

مجھے جان بوجھ کر اطلاع نہیں دی گئی، جبکہ ان کو پتا تھا کہ انٹرنیٹ سروس بند ہے، میرے بھائی اور میرے بچے مجھے پاگلوں کی طرح فون کرتے رہے، جب میری ماں بسترمرگ پر تھیں، تو یہ پی ٹی آئی والے آئی سی یو کا دروازہ توڑ کر گھس گئے اور تصاویر بنائیں۔ایک وزیر نے کہا کہ انہوں نے اپنی ماں کی میت کو پارسل کردیا ہے۔ میں ان کو کہتی ہوں کہ نوازشریف جیسا بیٹا پورے پاکستان سے

ڈھونڈ کرلاکر دکھا، آخری وقت تھا تو میری دادی ان کی گود میں تھی، وہ دعائیں دیتی جان دے دی، لیکن وہ کانٹی کرکٹ نہیں کھیل رہے تھے کہ وہ ماں کے پاس نہ پہنچ سکا؟ذوالفقار بھٹو پھانسی چڑھایا گیا تو ان کے خاندان کو جنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی، اسی طرح بلوچستان میں اکبر بگٹی کو مارا جاتا ہے اس کے خاندان کو بھی جنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاتی، محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کیا جاتا ہے اور ان کے قاتلوں کو ملک سے باہر فرار کروادیا جاتا ہے۔میں گواہ ہوں جب جلاوطنی میں

میرے دادا کا نتقال ہوا، میرے والد کو جنازہ پڑھنے اور لحد میں اتارنے کی اجازت نہیں دی گئی۔یہ ذاتی دکھوں کی بات نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ ہمیشہ منتخب نمائندوں سے کیوں کیا جاتا ہے۔کیا مشرف کو کوئی ایک دن بھی جیل میں رکھ سکا ہے؟اس جیل ہی نہیں ہوئی بلکہ راتوں رات لندن پہنچا دیا گیا۔ کسی عدالت میں جرات نہیں کہ مشرف کو کھینچ کر پاکستان واپس لائے۔میرا سوال ہے کہ منتخب نمائندوں سے کیوں ایسا سلوک کیاجاتا ہے؟ یوسف رضاگیلانی، قاسم ، موسی ، حیدرگیلانی کا کیاقصور تھا؟

ان کو تالا اور دروازہ توڑنے کا کیس بنادیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتنا مظلوم ہے کہ کورونا کے پیچھے چھپ رہا ہے، کورونا نہیں ہے، یہ حکومت جانے کا رونا ہے، یہ کتنا سمجھدار کوروناہے، کہ اگر حکومتی جلسہ ہو تا باہر سے چلا جاتا ہے اگر اپوزیشن کا جلسہ ہو تو اندر چلا جاتا ہے۔جماعت اسلامی کے کورونا نہیں آتا، حکومتی وزرا کے جلسے میں کورونا نہیں آتا، پہلے وہ 300افراد کو گنتا ہے۔

یہ لاک ڈان اپوزیشن کے اوپر لاک ڈان کرنے کی کوشش ہورہی ہے، لیکن ملتان کا جم غفیر دیکھ کر مجھے پتا چل گیا پاکستان کی عوام عمران خان کا لاک ڈان کرنے والی ہے۔کوویڈ 19سے پہلے کوویڈ 18کو گھر بھیجنا بہت ضروری ہے۔ کوویڈ 18جائے گا تو کوویڈ 19بھی چلا جائے گا۔مہنگائی، لاقانونیت، نااہلی اور نالائقی کے وائرس کا علاج بہت ضروری ہے، کوروناوائرس کے پیچھے چھپنے والوجواب دو، عوام کے روزگار، ملکی معیشت، نظام عدل ، گندم کی چوری، چینی کی چوری، مہنگائی کو کونسا وائرس لگا ہے؟

ملتان کے عوام اس وائرس کا نام جانتے ہیں۔اس وائرس کا نام عمران خان ہے۔عمران خان کو وزیراعظم کی حیثیت سے نہیں کوویڈ 18کے نام سے یاد کریں گے۔جنوبی پنجاب بنانے کا وعدہ بھی جھوٹا تھا، میڈیا نے بہت چلایا کہ عمران خان بندہ ایماندار ہے،علیمہ باجی نے سلائی مشینوں سے اربوں روپے کمائے، فارن فنڈنگ کیس 6سال سے مفرور ہے، اسٹیٹ بینک نے23خفیہ اکانٹس پکڑ لیے، بشیرمیمن،

ساجد باجوہ نے گواہی دی، آٹا، چینی چوری کی، مالم جبہ اسکینڈل آگیا، بلین ٹری سونامی میں اربوں کی کرپشن لیکن بندہ پھر بھی ایماندار ہے۔کہتا میں کاروبار نہیں کرتا، بھئی کاروبارعزت سے کمانے والے کرتے ہیں، جب ساری زندگی دوسروں کی جیبوں پر گزارا کیا ہو، پھر کاروبار کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ پھر کہتا عمران خان کھاتا ہے نہ کھانے دیتا ہے۔

عاصم سلیم باجوہ کااسکینڈل سنا ہے؟پرویز الہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا، آج جب اقتدار کی کشتی ڈوبتی نظر آئی تو قدموں میں این آراولینے جابیٹھا، ان کے بڑے بھائی کو کہتا مجھے بھی پرویزالہی سمجھو،یہ این آراو بھی دیتے ہیں اور کھانے بھی دیتے ہیں۔ جو افسر کہتا آپ غلط کررہے ان کو اٹھاکر باہر کردیتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.