مولانا خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد تحریک لبیک پاکستان کا نیا امیر کون ہوگا؟2نام سامنے آگئے ،مشاورت شروع

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن)مولانا خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد تحریک لبیک کے نئے امیر کے نام پر بھی مشاورت شروع کردی گئی ہے ، روزنامہ ایکسپریس کے مطابق مولانا خادم حسین رضوی کے بڑے بیٹے ، تحریک کے نائب ناظم سعد رضوی اورتحریک کے مرکزی رہنما مولانا ڈاکٹر شفیق امینی کے ناموں پر غور کیا جارہا ہے اور دونوں میں سے کسی ایک کو ٹی ایل پی کا نیا امیر بنائے جانے کا امکان ہے ، ڈاکٹر شفیق امینی مولانا خادم حسین رضوی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی گرفتاری کے دوران تحریک

لبیک کے قائم مقام امیر بھی رہ چکے ہیں۔دریں اثناتحریک لبیک کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد ان کے انتقال کی خبر سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئی، لاکھوں افراد تعزیت کرتے ہوئے ان کے بارے میں کمنٹس سوشل میڈیا پر دیے، تحریک لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ مولانا خادم رضوی کے وفات کی خبر جیسے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو سوشل میڈیا پر ہر طرف ٹویٹر یوٹیوب فیس بک دیگر اکانٹس پر یہ خبر لمحوں ہی میں اتنی شیئر اور وائرل ہوئی کہ سوشل میڈیا پر ہر طرف ان کی انتقال کی خبر ہی زیر بحث رہی، وزیراعظم وزیر اعلیٰ اور وزرا سمیت ملک کے نامور اینکرز صحافیوں نے بھی اپنے فیسبک پیج پر مولانا رضوی کی وفات کے حوالے سے ان کی زندگی کے بارے میں اور عالمی میڈیا بی بی سی سمیت دیگر پر شائع اور نشر ہونے والی ان کے دھرنوں کی خبروں کو لگا دیا، اسی طرح مولانا رضوی کی وفات کے بعد بعد الیکٹرونک میڈیا نے بھی ان کی وفات کی خبربریکنگ نیوز کے طور پر چلائیں، سوشل میڈیا پر علامہ رضوی کی وفات اور پھر سانس بحال ہونے کی خبریں بھی یکے بعد دیگرے سامنے آتی رہیں اور بڑے بڑے صحافیوں نامور کالم نگاروں نے بھی ان کی وفات اور دوبارہ سانس بحالی کو معجزہ بھی قرار دیا تاہم ضلع سرگودھا سمیتدیگر اضلاع میں ان کی جماعت سے وابستہ افراد نے ان کی وفات کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات کو صدیوں یاد رکھا جائے گا ،تحریک لبیک کے سربراہ مولانا علامہ خادم رضوی نے ختم نبوت کے معاملہ پر اور گستاخانہخاکوں کے خلاف احتجاج کر کے انٹرنیشنل سطح پر شہرت حاصل کی اور میڈیا کی زینت بنے رہے اور ان کی وفات کے بعد ان کی سابقہ تقریروں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہی اور لوگ اس کو بڑی تعداد میں دیکھتے سنتے رہے اور میڈیا پر وائرل ہوتی رہی ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *