مولانا خادم حسین رضوی کو رات کو کتنے بجے شیخ زید ہسپتال لایا گیا ؟ سینئرصحافی حامد میر نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا

اسلا م آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان کے نامور عالم دین مولانا خادم حسین رضوی گزشتہ رات انتقال کر گئے ہیں ان کی نماز جنازہ مینار پاکستان گرائونڈ میں ادا کی جائے گی ۔ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ سامنے آگیا ہے ۔ نامور سینئر صحافی حامد میر نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مولانا خادم حسین رضوی کا شیخ زید کی جانب سے جاری کیا جانے والا ڈیتھ سرٹیفکیٹ سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے

جس میں بتایا گیاہے کہ ان کی عمر 55 سال تھی جنہیں 19 نومبر 2020 کو رات 8 بج کر 48 منٹ پر ہسپتال لایا گیا تو وہ وفات پا چکے تھے ۔واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی 54برس کی عمر میں انتقال کرگئےہیں۔فیملی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ خادم حسین رضوی کو گزشتہ چند روز سے بخار تھا اور وہ جمعرات کو انتقال کرگئے ہیں۔ٹی ایل پی کے دوسرے گروپ کے سربراہ آصف جلالی نے بھی خادم حسین رضوی کے انتقال کی تصدیق کی۔تفصیلات کے مطابق خادم حسین رضوی نے گزشتہ دنوں فیض آباد میں ہونے والے ٹی ایل پی کے دھرنے کی بھی قیادت کی تھی اور اسی دوران انہیں بخار ہوا تھا۔طبیعت بگڑنے پر خادم حسین رضوی کو شیخ زاید ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کا انتقال ہوگیا۔خادم حسین رضوی کی میت ہسپتال سے ان کے گھر منتقل کردی گئی ہے ، گھر کے باہر بڑی تعداد میں ٹی ایل پی کے کارکن اور ان کے عقیدت مند پہنچے ۔ یاد رہے کہ خادم حسین رضوی کا تعلق ضلع اٹک سے تھا، وہ 22 جون 1966 کو ’نکہ توت‘ میں پیداہوئے ان کے والد کا نام حاجی لعل خان تھا۔ خادم حسین رضوی نے جہلم ودینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجویدکی تعلیم حاصل کی اور جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور سے درس نظامی کی تکمیل کی،وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث اور فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔ عرصہ قبل علامہ خاد م حسین کا ٹریفک حادثہ ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ معذور تھے اور چل نہیں سکتے تھیپاکستان علماء کونسل کے سربراہ علامہ طاہر محمود اشرفی نے علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اسے سانحہ قرار دیا ہے۔تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے بھی خادم حسین رضوی کے موت کی تصدیق کرتے ہویے دعا کی ہے کہ اللہ تعالی خادم حسین رضوی کو جنت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *