شیخ رشید کیہوشیاریپکڑی گئی کراچی سرکلر ریلوے کا افتتاح محض دکھاوا، ٹرین تو پہلے سے ہی چل رہی تھی، حقائق سامنے آگئے

اسلام آباد،کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)کراچی سرکلر ریلوے کا افتتاح محض ایک دکھاوا ہے۔روزنامہ جنگ میں اعظم علی کی شائع خبر کے مطابق دھابیجی سے سٹی ریلوے اسٹیشن تک سرکلر ریلوے پہلے سے چل رہی تھی وہاں صرف نئی بوگیوں کی ٹرین چلا کر افتتاح

کردیا گیا ہے جبکہ کراچی کے ڈویژنل کمرشل آفیسر ناصر نذیر کا کہنا ہے کہ سٹی ریلوے اسٹیشن سے اورنگی ٹائون تک کے ٹریک پر سرکلرٹرین چلانے کے لئے ابھی کا م جاری ہے اور کچھ ماہ درکار ہونگے۔کراچی کے دیگر سرکلر ریلوے اسٹیشنز تک ریلوے ٹریک کی بحالی کا معاملہ جوں کا توں ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اورنگی ٹائون ریلوے اسٹیشن تک ٹریک بحال کرنے کے لئے حکام کو دو ماہ کا عرصہ دیا گیا ہے مگر یہ حالات پر منحصر ہے کہ ریلوے ٹریک کی بحالی کس طرح کی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق جمعرات کو کو کیا گیا افتتاح صرف عدالتی دبائو کی وجہ سے کیا گیا ہے ۔دوسری جانب وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے سرکلر ریلوے کا کریڈٹ چیف جسٹس پاکستان کو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت جدید اربن ٹرانسپورٹ مکمل کریں گے جس میں عوام کو ساری سہولت دیں گے۔ ایک انٹرویومیں شیخ رشید نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے 25 سال بعد شروع ہورہی ہے، 40 کلومیٹر ٹریک

مکمل کیا ہے اور 13 اسٹاپ کے ساتھ سروس شروع کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرکلر ریلوے کا سارا کریڈٹ چیف جسٹس کو جاتا ہے، کے سی آر کا کریڈٹ عمران خان کو بھی جاتا ہے اور ٹرین چلنے پر سندھ حکومت بھی اس کا مکمل کریڈٹ لے سکتی ہے۔شیخ رشید نے کہا کہ

دوسال میں ٹریک بنے گا، یہ ایک دو دن کی بات نہیں ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت جدید اربن ٹرانسپورٹ مکمل کریں گے جس میں عوام کو ساری سہولت دیں گے۔وزیر ریلوے نے کہا کہ قبضہ مافیا کو سندھ حکومت نے ہٹانا ہے، اس حوالے سے ہمیں کراچی میں کسی سیاسی

جماعت کی سپورٹ نہیں، سندھ حکومت کا کام ہے قبضہ کیے ہوئے اسٹیشن خالی کرائے اور ہم خالی کرائیں گے بہت بڑا قبضہ ہے، ریلوے کی زمین پر اتنا قبضہ ہے کہ ایک پلاٹ بیچیں تو ریلویکا سارا خسارہ ختم ہوسکتاہے۔وزیر ریلوے شیخ رشید نے اعلان کیا کہ سرکلر ریلوے کا کرایہ 30 روپے ہوگا اور 750 روپے کا پاس بنے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *