مولانا خادم حسین رضوی کی تدفین کا عمل جمعہ کی شام سے ہفتہ کے روز صبح گیارہ بجے کیوں منتقل کیا گیا ؟ اہم انکشاف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )مولانا خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد ان کے چاہنے والوں کا ہجوم ان کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہونا شروع ہو گیا ، تعداد وقفے وقفے سے بڑھنا شروع ہو چکی ہے ۔ مولانا خادم حسین رضوی گزشتہ شب جمعرات کو بیماری کی وجہ سے انتقال کرگئے تھے جس کی تصدیق ان کے اہلخانہ کی جانب سے کی گئی تھی ۔گزشتہ رات انتقال کی خبر کےبعد

یہ خبر سامنے آئی تھی کہ مولاناکا نمازجنازہ جمعہ کے بعد ہونا طے پایا تھا جبکہ گھر والوں اور انتظامیہ کی جانب سے تدفین کا عمل موخر کیا گیا ۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ تدفین کا عمل اس لیے موخر کیا گیا ہے تاکہ مولانا خادم حسین کے چاہنے والے ان کا آخری دیدار کر لیں جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ان کا نمازہ جنازہ جمعہ کے بعد نہیں بلکہ ہفتہ کی صبح گیارہ بجے ادا کی جائے گی ۔ تاہم اس حوالے سے کوئی بھی خبر ان کے گھر والوں اور انتظامیہ کی طرف سے سامنے نہیں آسکی ہے ۔ دوسری جانب تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی انتقال کرگئے ا،ن کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے مختلف شہروں سے تحریک لبیک کے کارکنان جی ٹی روڈ اور موٹروے کے ذریعے لاہور کی طرف چل پڑے ہیں۔لاہور کےانتظامی حکام نے کہا ہے کہ اب سے یتیم خانہ چوک اور لاہور کے تمام داخلی مقامات پر ٹریفک جام ہونے کا خدشہ ہے اور لاہور میں سفر کرتے ہوئے اپنے شیڈول کا خیال رکھیں یا پھر متبادل روٹ اختیار کریں۔دریں اثنادنی ائے فانی سے کوچ کرنے والے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کا اپنی موت سے متعلق ایک بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں خادم حسین رضوی اپنی موت کے حوالے سے بات کر رہے ہیں۔ویڈیو میں خادم حسین رضوی نے کہا کہ ایک دن اعلان ہو گا کہ مولوی خادم مر گیا، تو دو ہی باتیں ہیں یا تو لوگ کہیں گے یہ اچھا بندہ تھا یا یہ برا بندہ تھا، درمیان میں تو کچھ نہیں ہو سکتا کہ سَر اچھا ہو اور ٹانگیں بری ہوں۔وائرل ہونے والی ویڈیو میں خادم حسین رضوی نے کہا کہ کسی کے بارے میں دو ہی باتیں ہیں یا تو وہ اچھا یا برا ہے، آپ کہہ دیں گے کہ ٹھیک تھا مگر بہت سخت تھا، بچو آج ہمارے ساتھ کھڑے ہو جاؤ، بعد میں میرے جیسا بھی نہیں ملے گا۔واضح رہے کہ خادم حسین رضوی کا تعلق ضلع اٹک سے تھا، وہ 22 جون 1966 کو ‘نکہ توت’ میں پیدا ہوئے۔خادم حسین رضوی نے جہلم ودینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجویدکی تعلیم حاصل کی اور جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور سے درس نظامی کی تکمیل کی۔خادم حسین رضوی نے گزشتہ دنوں فیض آباد میں ہونے والے ٹی ایل پی کے دھرنے کی بھی قیادت کی تھی اور اسی دوران انہیں بخار ہوا تھا۔طبیعت بگڑنے پر خادم حسین رضوی کو شیخ زاید ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کا انتقال ہوگیا تھا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *