دھرنے کے دوران ڈاکٹرز نے علامہ خادم حسین رضوی کوکیا ہدایات کی تھیں جو انہوں نے نظر انداز کردی تھیں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن)علامہ خادم حسین رضوی گزشتہ چند روز سے سخت بیمار تھے تاہم بیماری کی حالت میں ہی وہ تین دن تک گستاخانہ خاکوں اور فرانس کے خلاف فیض آباد میں ہونے والے دھرنے کی نہ صرف قیادت کرتے رہے بلکہ 103 بخار ہونے کے باوجود

سخت سردی میں ہی دھرنے کے شرکا کے ساتھ مسلسل موجود رہے،علامہ خادم حسین رضوی کو فیض آباد دھرنے کے دوران وہیل چیئر پر ہی ڈاکٹرز نے ڈرپیں بھی لگائیں،ڈاکٹرز نے علامہ خادم حسین رضوی کو ہسپتال منتقل ہونے کا مشورہ بھی دیا تاہم انہوں نے دھرنے کی جگہ سے جانے سے انکار کر دیا تھا ۔دریں اثناتحریک لبیک کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد ان کے انتقال کی خبر سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئی، لاکھوں افراد تعزیت کرتے ہوئے ان کے بارے میں کمنٹس سوشل میڈیا پر دیے ،تحریک لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ مولانا خادم رضوی کے وفات کی خبر جیسے ھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو سوشل میڈیا پر ہر طرف ٹویٹر یوٹیوب فیس بک دیگر اکاؤنٹس پر یہ خبر لمحوں ہی میں اتنی شیئر اور وائرل ہوئی کہ سوشل میڈیا پر ہر طرف ان کی انتقال کی خبر ہی زیر بحث رہی ،وزیراعظم وزیر اعلیٰ اور وزرا سمیت ملک کے نامور اینکرز صحافیوں نے بھی اپنے فیس بک پیج پر مولانا

رضوی کی وفات کے حوالے سے ان کی زندگی کے بارے میں اور عالمی میڈیا بی بی سی سمیت دیگر پر شائع اور نشر ہونے والی ان کے دھرنوں کی خبروں کو لگا دیا ،اسی طرح مولانا رضوی کی وفات کے بعد بعد الیکٹرونک میڈیا نے بھی ان کی وفات کی خبر بریکنگ نیوز کے طور پر

چلائیں ،سوشل میڈیا پر علامہ رضوی کی وفات اور پھر سانس بحال ہونے کی خبریں بھی یکے بعد دیگرے سامنے آتی رھیں اور بڑے بڑے صحافیوں نامور کالم نگاروں نے بھی ان کی وفات اور دوبارہ سانس بحالی کو معجزہ بھی قرار دیا تاہم ضلع سرگودھا سمیت دیگر اضلاع میں ان کی

جماعت سے وابستہ افراد نے ان کی وفات کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات کو صدیوں یاد رکھا جائے گا، تحریک لبیک کے سربراہ مولانا علامہ خادم رضوی نے ختم نبوت کے معاملہ پر اور گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج

کر کے انٹرنیشنل سطح پر شہرت حاصل کی اور میڈیا کی زینت بنے رہے اور ان کی وفات کے بعد ان کی سابقہ تقریروں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہی اور لوگ اس کو بڑی تعداد میں دیکھتے سنتے رہے اور میڈیا پر وائرل ہوتی رہی ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *