اشتہاریوں کونظام پر اعتماد نہیں تو ان کو ریلیف کیسے دے دیں؟ نوازشریف کی تقاریر پر پابندی ہٹانے کیلئے صحافیوں کی درخواست پرچیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس کے اہم ریمارکس

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اشتہاریوں کونظام پر اعتماد نہیں تو ان کو ریلیف کیسے دے دیں،اشتہاریوں کے لئے الگ قانون نہیں ہو سکتا ،عدالت نے پہلے ہی مشرف کیس میں واضح کر دیا ہے ،اشتہاریوں کی

تقریر ٹی وی پر نشر کرنے کی اجازت کیسے دے دیں ؟پیمرا نے ٹی وی پر تقریر نشر کرنے پر پابندی لگائی ہے لیکن خبر شائع کرنے پر کوئی پابندی نہیں لگائی ۔جمعرات کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اورسابق وفاقی وزیر اسحاق ڈار کی تقاریر ٹی وی پر نشر کرنے پر پابندی کیخلاف درخواست کی سماعت کی ۔درخواست گزار صحافیوں کی جانب سے وکیل سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے،چیف جسٹس نے سماعت کے آغاز میں ہی استفسارکیاکہ آپ کس کیلئے ریلیف مانگ رہے ہیں؟ جس پر وکیل نے کہاکہ ہم عوامی مفاد کیلئے ریلیف مانگ رہے ہیں،چیف جسٹس نے کہاکہ اس عدالت نے پرویز مشرف کیس میں واضح کیا،یہ عدالت کسی بھی ایگزیکٹو معاملات میں مداخلت نہیں کرتی،سیاسی مسائل کی وجہ سے لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد اٹھ چکا ہے ،پرویز مشرف بھی اشتہاری تھا تو کیا درخواست گزار چاہتے ہیں کہ اس کی تقریر نشر کرنیکی اجازت دے دیں؟پیمرا نے آرڈر کیا، سیکشن 31

کے تحت پیمرا میں اپیل کرسکتے ہیں؟پیمرا میں کس نے اپیل کی،اس سے کون متاثر ہوا ہے؟عام لوگوں کیلئے جو قانون ہے اس عدالت میں وہ سب کے لیے ہوگا،اگرکسی نے کوئی اپیل ہی دائر نہیں کی تو اس کامطلب ہے کہ کوئی اس آرڈر سے متاثر ہی نہیں،یہاں پر دو نام ہیں جو

کہ عدالتی اشتہاری ہے؟کیا یہ دو افراد متاثر ہوئے ہیں یا میڈیا چینل متاثر ہوا ہے؟جو لوگ متاثر ہوئے ہیں وہ پیمرا میں اپیل کریں،جس پر وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ دو نہیں ہزاروں افرادمفرورہیں، پٹشنر چاہتے ہیں کہ انہی عوام تک معلومات پہنچانے سے نہ روکا جائے۔

درخواست گزار متاثر ہوئے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19کے تحت ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی ہے، مفرور شخص کی تو شہریت اور شناختی کارڈ بلاک ہوجاتے ہیں، درخواست گزار کیسے متاثر ہوئے ہیں؟کیا آپ چاہتے ہیں کہ پرویز مشرف کی تقریر بھی

نشر کی جائے،کیا درخواست گزار چاہتے ہیں کہ عدالتی اشتہاری کی تقاریر کو ٹی وی پر دکھانا چاہیے؟جب ایک شخص اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے، عدالتی اشتہاری کا قومی شناختی کارڈ بلاک ہوچکا،کیا آپ چاہتے ہیں کہ اشتہاری کے لئے قانون الگ الگ ہو ،کیا درخواست گزار

چاہتے ہیں کہ پرویز مشرف ٹی وی پر تقریر کرے،درخواست گزار میں سے کوئی بھی متاثر نہیں ہوا،عدالتی اشتہاری نے اس عدالت سے رجوع نہیں کیا ،آپ کیسے کرسکتے ہیں؟پیمرا آرڈر نے عدالتی اشتہاری کے تقریر کو چلانے سے منع کیا، اس کے بارے میں خبر چلانے سے منع نہیں کیا۔

اشتہاری ہونا ایک سیریس مسئلہ ہے، مفرور ملزمان کو روزانہ ڈسکس کیاجاتاہے، صرف انہیں ایئرٹائم دینے سے روکا گیاہے، عدالت کو مطمئن کریں کہ کیا اگر اشتہاری عدالت آجائے تو ہی ریلیف مل سکتا ہے،جو بھی اشتہاری ہے، وہ متاثر ہوگا تو عدالت سے رجوع خود ہی کرے گا۔

حکومت نے اشتہاری کو چھوڑ دیا اور اس عدالت پر الزام لگایا گیا، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ اس عدالت کو مطمئن کریں کہ اشتہاری کو عدالت میں پیش ہونے سے ریلیف مل سکتا ہے،کیا آپ یہ تمام اشتہاریوں کے لیے کرنا چاہتے ہیں؟ درخواست گزار وکیل نے کہاکہ پیمرا کا

آرڈر صحافیوں اور میڈیا پرسنز کیلئے ہے اس لیے وہ متاثرہ فریق ہیں، میں اپنے کلائنٹس سے بات کرکے ہی عدالت کو آگاہ کروں گا، چیف جسٹس نے کہاکہ آزادی اظہار رائے، رائٹس ٹو انفارمیشن سب کا بنیادی حق ہے،اشتہاری کے لئے پوری دنیا میں قانون موجود ہے،یہ عدالت کسی اشتہاری

کو ان ڈائریکٹ ریلیف نہیں دے سکتی،یہاں پر ہزاروں اشتہاری ہیں، اگر انکو عدالتی نظام پر اعتماد نہیں تو انکو کیسے ریلیف دے،پوری جوڈیشل سسٹم کا امتحان ہے، آپ چاہتے ہیں کہ تمام مفرورملزمان کو ریلیف دیاجائے،کسی مفرور کو ریلیف دینا مفاد عامہ میں نہیں،اظہار رائے

کی آزادی بہت ضروری ہے مگر یہاں پر سوال کچھ مختلف ہے،وکیل نے کہاکہ پیمرا کے پاس کوئی اختیار نہیں، یہ پارلیمنٹ کی اختیار میں ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ کسی بھی غیر قانونی آرڈر کو بھی کوئی اشتہاری چیلنج نہیں کرسکتا،پرویز مشرف اشتہاری تھے انکو اس نظام پر اور عدالتِ پر اعتماد نہیں تھا،عدالت نے وکیل سلمان اکرم راجہ کو تیاری کیلئے مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 16 دسمبر تک کے لئے ملتوی کردی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *