نیشنل بینک میں اربوں روپے کی بدعنوانی کا نیا سکینڈل سامنے آگیا، وزیراعظم کو وزارت خزانہ اور نیشنل بینک انتظامیہ بے وقوف بنا نے میں کامیاب

اسلام آباد(آن لائن) نیشنل بینک آف پاکستان میں اربوں روپے کی کرپشن بدیانتی اور بدعنوانی کا نیا سکینڈل سامنے آگیا ہے۔ بنک انتظامیہ نے اپنے پیاروں کو نوازنے کے لئے قومی خزانہ کا منہ کھول کر ان پر نچھاور کر دیا ہے۔ صرف لیگل کنسلٹنٹ کو 998ملین روپے دے کر

کرپشن کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو وزارت خزانہ اور نیشنل بنک کی انتظامیہ بے وقوف بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق امریکہ میں نیشنل بینک انتظامیہ نے اپنے 90قریبی عزیزوں کو تعینات کیا ہے جبکہ امریکہ میں بنک کے صارفین صرف 100پاکستانی ہیں اور امریکہ میں تعینات ہونے والے افراد کو بھاری معاوضہ بھی دئیے جا رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ تحریک انصاف حکومت میں بنک انتظامیہ نے 200لوگ گریڈ 18میں بھرتی کئے ہیں ان 200میں نئے بھرتی کئے گئے افسروں پر سالانہ اڑھائی ارب روپے کے اخراجات کئے جا رہے ہیں اور یہ پوری کرپشن مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی آشیر باد سے کیا جا رہا ہے۔ بنک کے سربراہ نے اپنے انتہائی قریبی دوست لیگل آفیسر کو کورونا الاؤنس کی مد میں 20ہزار روپے یومیہ الاؤنس ادا کیا گیا ہے جس سے قومی خزانہ کو بھاری مالی نقصان ہو رہا ہے جبکہ لیگل شعبہ کے سربراہ کو 350 لیٹر ماہانہ پٹرول کی عنایت بھی جاری ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وزارت قانون کی ہدایات کے برعکس فیصل غنی نامی وکیل کو 20کروڑ روپے سے زائد کی اداگئی کی گئی ہے اس حوالے سے بنک کا ترجمان وضاحت دینے پر راضی نہیں ہوا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *