تین جادوئی عادتیں

میں رک گیا اور دیر تک ٹیرس کو دیکھتا رہا‘ پورا ٹیرس پھولوں اور پودوں سے بھرا ہوا تھا‘ بیلیں لٹک رہی تھیں‘ پھول سڑک کی طرف جھک کر مسکرا رہے تھے اور پتے ہوا کے ساتھ تالیاں بجا رہے تھے‘ وہ کنکریٹ کے بے ہنگم جنگل میں جنت کا چھوٹا سا ٹکڑا محسوس ہو رہا تھا‘ میں بے اختیار گیٹ کی طرف چل پڑا‘ چوکی دار کرسی پر اونگھ رہا تھا‘ میں نے اس سے صاحب کا پوچھا‘ پتا چلا وہ گھر پر نہیں ہیں‘ میں نے چوکی دار سے کہا‘صاحب کو بتانا میں یہاں سے گزر رہا تھا‘ میں نے آپ کا ٹیرس دیکھا‘ ایسا ٹیرس پورے اسلام آباد میں نہیں‘ میں صرف آپ کی تعریف کرنا چاہتا ہوں‘ میں ہر جمعے کو رات گیارہ بجے یہاں سے واک کرتا ہوا گزرتا ہوں‘ میں اگلے جمعے پھر آؤں گا اور آپ اگر گھر پر ہوئے تو بس مبارک باد پیش کر کے آگے نکل جاؤں گا۔

چوکی دار حیرت سے میری طرف دیکھتا رہا اور پھر اس نے ہاں میں سر ہلایا اور میں آگے نکل گیا‘ میں نے اگلے جمعہ واک کے لیے جانا تھا لیکن میں مری چلا گیا‘ اس سے اگلے جمعے میں بلیو ایریا نکل گیا اور یوں وہ گھر اور اس کا ٹیرس میرے ذہن سے محو ہوگیا‘ میں شاید تیسرے یا چوتھے جمعے کو اس جگہ سے گزرااور وہ گھر دیکھ کر مجھے میرا وعدہ یاد آ گیا‘ میں رک گیا‘چوکی دار مجھے دیکھ کر کھڑا ہوا اور ٹیرس کی طرف دیکھ کر اونچی آواز میں بولا ”سر وہ مبارک والا صاحب آ گیا ہے“ ٹیرس پر سرسراہٹ ہوئی‘ کرسی کھسکی‘ پہلے گنجا سر ظاہر ہوا اور اس کے بعد درمیانی عمر کا جذباتی سا انسان سامنے آ گیا‘ اس نے غصے سے چلا کر کہا ”آپ نے اگلے جمعے کا کہا تھا‘ میں تین جمعے سے آپ کا انتظار کر رہا ہوں‘ میں شام کو گھر سے باہر نہیں جاتا تھا“ میں نے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور وہ صاحب سلیپر گھسیٹتے ہوئے نیچے آ گئے‘ میں نے سینی ٹائزر سے ہاتھ صاف کیے‘ کورونا کے باوجود ان سے ہاتھ ملایا اور دل کھول کر ان کے ٹیرس کی تعریف کی‘ وہ مسکرائے اور مجھے پہچان کر بولے ”چودھری صاحب مجھے پھولوں اور پودوں کا جنون ہے‘ میں یورپ میں تھا تو مجھے گوروں کی بالکونیاں اور ٹیرس پاگل کر دیتے تھے‘ ٹیورن سے لے کر سالسبرگ تک الپس کے تمام دیہات اور شہروں کے لوگ اپنے ٹیرس‘ بالکونیوں اور کھڑکیوں میں گملے رکھتے ہیں لہٰذا ہر گھر سے پھول اور بیلیں گلیوں میں لٹک کر لوگوں کا استقبال کرتی ہیں۔

میں پاکستان آیا‘ اسلام آباد میں گھر خریدا اور ٹیرس کو پھولوں اور بیلوں سے بھر دیا‘ اس پورے سیکٹر میں اس نوعیت کا کوئی ٹیرس نہیں‘ میں دن رات یہاں بیٹھا رہتا ہوں‘ پھولوں سے باتیں کرتا ہوں‘ ان پر ہاتھ پھیرتا ہوں اور خوش ہوتا ہوں“ وہ صاحب رکے‘ لمبی سانس لی اور ذرا سے دکھی ہو کر بولے ”مجھے یہ ٹیرس بنائے چار سال ہو گئے ہیں‘ آپ یقین کریں آپ پہلے شخص ہیں جو یہ دیکھ کر رکے اور اس کی تعریف کی‘ پورا محلہ اس کے خلاف ہے۔

میری بیوی بھی میرے ساتھ لڑتی رہتی ہے‘ یہ مجھے کہتی ہے آپ یہاں روز گند ڈال دیتے ہیں‘ فرش گیلا ہو جاتا ہے جب کہ ہمسائے کا کہنا ہے آپ کے پھولوں اور بیلوں کی وجہ سے ہمارے گھر مکھیاں اور مچھر آتے ہیں یہاں تک کہ مجھے ڈینگی کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے بھی نوٹس آ چکا ہے‘ آپ پہلے شخص ہیں جس نے میری تعریف کی چناں چہ میں پورے مہینے سے آپ کا انتظار کر رہا تھا“ میں نے اسے سینے سے لگا لیا۔وہ تعریف کو ترسا ہوا شخص تھا‘ ہم سب کی طرح ترسا ہوا شخص۔

آپ اگر کبھی اس معاشرے کی خامیوں کی فہرست بنائیں توآپ بھی میری طرح واہ‘ شکریہ اور معافی کو پہلے تین نمبر دیں گے‘ ہم من حیث القوم دوسروں کی تعریف کے خلاف ہیں‘ ہم سچے دل سے کسی کی تعریف نہیں کرتے اور اگر کرتے ہیں تو یہ خوشامد ہوتی ہے یا پھر منافقت‘ ہم ہمیشہ اپنا کوئی اچھا یا برا کام نکلوانے کے لیے دوسروں کی تعریف کریں گے یا پھر ہم دوسروں کا مذاق اڑانے یا انہیں بے وقوف بنانے کے لیے ان کی تعریف کریں گے۔

آپ کو اکثر لوگ دوسروں کی تعریف کرنے سے پہلے دائیں بائیں موجود لوگوں کو آنکھ مارتے نظر آئیں گے یا پھر کسی کے سامنے کھڑے ہوتے ہی سر کیا بات ہے آپ کی‘ ماشاء اللہ‘ ماشاء اللہ‘ واہ واہ کہیں گے اور جب وہ صاحب اچھی طرح خوش ہو جائے گا تو یہ اپنا کام اس کے سامنے رکھ دیں گے اور پھر کام کروا کر باہر نکل کر سینہ پھلا کر کہیں گے ”کیوں پھر“ اور ایک لمبا شیطانی قہقہہ لگائیں گے‘ اس منافقت اور اس خوشامد نے ہم سب میں اصلی‘ سچی‘ خالص اور بے لوث تعریف کی حس ختم کر دی ہے۔

ہم سب وٹامن واہ واہ کی کمی کا شکار ہیں اور ہمیں جب کسی طرف سے واہ واہ کی آواز آتی ہے تو ہم غور سے اس کی طرف دیکھتے ہیں اور اس کی بات پر یقین نہیں کرتے‘آپ نے اکثر لوگوں کے منہ سے سنا ہوگا میں منہ پر کسی کی تعریف نہیں کرتا یعنی ہم تعریف بھی غیرموجودگی میں کرتے ہیں تاکہ سننے والا خوش نہ ہوجائے‘ دوسرا ہم دوسروں کا شکریہ بھی ادا نہیں کرتے‘ آپ کسی دن دوسروں کی باتیں ریکارڈ کریں اور شام کو سنیں‘ آپ کو صبح سے شام تک شکوے ہی شکوے سنائی دیں گے۔

آپ کو کسی طرف سے شکریہ اور تھینک یو کی آواز نہیں آئے گی اور پیچھے رہ گئی معافی تو جناب ہم معافی مانگنے والی قوم ہی نہیں ہیں‘ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں پنجابی دنیا کی واحد زبان ہے جس میں شکریہ اور معافی کے الفاظ نہیں‘ ہم نے سوری اور تھینک یو کے تمام الفاظ عربی‘ فارسی‘ ترکی اور سنسکرت سے ادھار لیے ہیں‘ ہمارا اپنا پنجابی کا کوئی لفظ نہیں اور لفظوں کی یہ کمی ہمارے مزاج اور ہماری ثقافت کی خامی کا ثبوت ہے‘ ہم پنجابی مر جائیں گے مگر کسی کا شکریہ ادا کریں گے اورنہ معافی مانگیں گے۔

اللہ تعالیٰ دنیا کے ہر تقاضے سے بالاتر ہے‘ اس کا کوئی عزیز اور رشتے دار بھی نہیں‘یہ ہمارا ایمان ہے لیکن دو چیزوں کا اللہ بھی طلب گار ہے‘ ایک گھر اور دوسری تعریف‘ اللہ تعالیٰ دنیا کے ہر مذہب‘ ہر دینی کتاب میں لوگوں کو حکم دیتا ہے ”میری تعریف کرو‘ میں تمہارا خدا ہوں اور میں نے تمہیں زندگی کی ہر نعمت سے نواز رکھا ہے“ دوسرا دنیا کے ہر مذہب میں اللہ تعالیٰ کا گھر (عبادت گاہ) ہے لیکن ہم دوسروں کی تعریف کرتے ہیں اور نہ دوسروں کے گھروں (عبادت گاہوں) کا احترام۔

دوسرا دنیا کے سارے مذاہب دو ستونوں پر کھڑے ہیں‘ توبہ اور شکر‘ انسان اللہ کے سامنے بیٹھ کر اپنی غلطیوں‘ اپنی کوتاہیوں اور اپنے گناہوں پر توبہ کرتا ہے اور پھر اس کی عنایت کردہ نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتا ہے اور بس مذہب مکمل ہو جاتا ہے‘ آپ اگر کسی مذہب سے توبہ یعنی معافی اور شکر یعنی شکریہ نکال دیں تو وہ مذہب پھر مذہب نہیں رہتا‘ وہ فلسفہ بن جاتا ہے‘ مذہب اور فلسفے میں صرف توبہ اور شکر کا فرق ہے‘ دنیا کا کوئی فلسفہ انسان کو شکر اور معافی نہیں سکھاتا۔

میری زندگی میں یہ تینوں چیزیں بڑی لیٹ آئیں‘ میں نے بہت لیٹ دوسروں کی کھل کر تعریف کرنا سیکھا اور میں شکریہ اور معافی کے جادو سے بھی بہت تاخیر سے متعارف ہوا لیکن آپ یقین کریں یہ تینوں عادتیں جب سے میری زندگی میں آئی ہیں میں اس دن سے جنت میں آ گیا ہوں‘ میں دوسروں کی دل کھول کر جینوئن تعریف کرتا ہوں‘ میرا دشمن بھی ہو تومیں اس کی اچیومنٹ پر دل کی گہرائیوں سے اسے مبارک باد پیش کرتا ہوں لہٰذا لوگ میری عزت کرتے ہیں۔

میں ہر شخص خواہ وہ کوئی بھی ہو اس کا شکریہ بھی ادا کرتا ہوں اور پیچھے رہ گئی معافی تو وہ میں نے روزانہ کا کوٹہ طے کر رکھا ہے‘ میں جب تک دن میں ساٹھ ستر بار معافی نہ مانگ لوں ہیروئن کے مریض کی طرح مجھے آرام نہیں آتا‘ میں اگر ہزار فیصد بھی سچاہوں میں تب بھی اعتراض پر فوراً دوسروں سے معافی مانگ لیتا ہوں‘ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ معذرت سے گفتگو سٹارٹ کرتا ہوں‘ دوسرے اگر میری بات سن یا مان لیں تو شکریہ ادا کرتا ہوں۔

اور اگر نہ مانیں یا وضاحت کریں یا دلیل دینا شروع کر دیں تو میں فوراً ان سے معافی مانگ لیتا ہوں اور یہ معافی بھی صرف سوری یا معذرت تک محدود نہیں ہوتی‘ سیدھی سادی معافی ہوتی ہے اور آپ یقین کریں غصے سے پاگل لوگ بھی جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں‘ معافی کے اس سفر میں بڑے بڑے دل چسپ واقعات پیش آئے‘ میں یہ واقعات ان شاء اللہ جلد لکھوں گا مگر آپ یقین کریں ان تین عادتوں نے میری زندگی بدل کر رکھ دی‘ میں آج سے پانچ سات سال پہلے تک ٹینشن اور اینگزائٹی کا مریض تھا۔

مگر آج ان دونوں سے مکمل طور پر پاک ہوں‘ میرے لوگوں کے ساتھ تعلقات بھی بہت اچھے ہو گئے ہیں‘ آپ بھی آزما کر دیکھ لیں‘ آپ بھی نتائج دیکھ کر حیران رہ جائیں گے چناں چہ دل کھول کر دوسروں کی تعریف کریں‘ شکریہ کو اپنی عادت بنائیں اور دوسروں سے معافی مانگتے رہیں‘ آپ سلگتی ہوئی زندگی سے جنت میں آ جائیں گے۔


Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *