چینی اور آٹے کے بعد مرغی اور انڈوں کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ، گوشت کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

کراچی(این این آئی) چینی اور آٹے کے بعد مرغی اور انڈوں کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ کردیاگیاہے، شہرقائد میں زندہ مرغی کی قیمت 260سے270روپے فی جبکہ بغیرکلیجی پوٹے کے مرغی کا گوشت420 سے 430 روپے فی کلوکی بلندترین سطح پر پہنچ گیاہے۔ریٹیلرزکے مطابق سندھ میں کئی چکن فارمرز نے مون سون کے دوران چوزے نہیں خریدے تھے جو موجودہ رسد کے

بحران کی وجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ چکن کی فراہمی کو اس وقت پنجاب سے پورا کیا جارہا ہے جبکہ وہاں بھی مرغی اور انڈوں کی قیمتیں زیادہ ہیں۔ریٹیلرزنے کہاکہ قیمتوں میں اضافے پر گاہکوں کو دکانوں پر غصہ نکالتے ہویے دیکھا گیا ہے جبکہ زیادہ تر لوگ صرف مرغی کی قیمت پوچھتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ زائد قیمتوں نے گھریلو خریداروں کو متاثر کیا ہے اور ریٹیلرز فروخت کم ہونے کے خدشے ہر کم اسٹاک رکھنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جب قیمت کم تھی تو میں 10 کریٹ (10سے 12 مرغی پر مشتمل ہر کریٹ)رکھتا تھا لیکن اب یہ تعداد 5 سے 6 تک کردی ہے، مزید یہ کہ کیٹررز اور آن لائن فوڈ آؤٹ لیٹ مرغیوں کی زیادہ تعداد خرید رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت کو بڑے پولٹری فامز اور ڈیلرز پر مرغیوں کے اسٹاک کو دیکھنا چاہیے کہ کون منافع بنانے کے لیے فراہمی کو روک رہا ہے۔مرغی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے انہوں نے بتایاکہ شادی کی تقریبات میں اضافے کے باعث طلب بڑھنے پر گزشتہ کچھ روز میں مرغی کی قیمتوں میں 50 روپے کلو اضافہ ہوا ہے، تاہم ان کے بقول فراہمی میں کمی ہوئی ہے کیونکہ گزشتہ 3 ماہ میں کئی فارمرز کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس کے ساتھ ساتھ کووڈ 19 سے متعلق غیریقینی صورتحال بھی ہے، کسی کو نہیں معلوم کہ شادی ہالز کتنے دن تک کھلے رہیں گے اور آیا فارمرز کو اچھی قیمت مل سکتی ہے،

اگر کووڈ کے باعث دوبارہ پابندی لگی تو یہ ان کے لیے مشکل کا باعث ہوگا اور اسی وجہ سے اس وقت کوئی رسک نہیں لے رہا۔دوسری جانب انڈوں کی قیمتیں بھی بہت سے لوگوں کی پہنچ سے دور ہوگئی ہیں اور ایک ماہ قبل 10 سے 11 روپے کے مقابلے میں دکاندار 15سے 18 روپے کا ایک انڈہ فروخت کر رہے ہیں، اس وقت دکانوں پر ایک درجن انڈیں کی قیتمیں 170 سے 195 روپے کے درمیان ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *