سکولوں میں سردیوں کی چھٹیوں کے پیش نظر ہوم ورک دینے کے احکامات، مراسلہ جاری کر دیا گیا

لاہور (آن لائن) صوبائی وزیر تعلیم پنجاب ڈاکٹر مرادراس نے کہا ہے کہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ پنجاب کے تعلیمی ادارے بند نہ کئے جائیں مگر صورتحال سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو سکول بند کرنا پڑیں گے۔ میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی بندش کے حوالے سے آئندہ پیر کو بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرنس منعقد ہونے جا رہی ہے

جس میں ملک کے تمام صوبے ملکر فیصلہ کریں گے کہ تعلیمی اداروں کو بند کیا جانا ہے یا نہیں جبکہ دوسری طرف پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبے بھر کے تمام تعلیمی اداروں میں موسمی تعطیلات قبل از وقت کرنے کے بارے میں سوچ بیچار شروع کردیا ہے۔ امکان ہے کہ پنجاب بھر کے سکولوں کو کرونا وائرس کی وجہ سے ایک ماہ کے لئے بند کیا جائے گا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ محکمہ تعلیم پنجاب نے صوبے کے تمام سکولوں کو ایک ماہ کے سمارٹ سلیبس کے مطابق ہوم ورک کی تیاری کی ہدایات بھی جاری کردی ہیں۔ دوسری جانب فاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ کراچی پیکج پر کوئی ابہام نہیں ہے،اس پر سو فیصد عملدرآمد ہونا چاہیے۔مقامی حکومتوں کے نظام کو بہتر بنائے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔نئے تعلیمی سال میں یکساں تعلیمی نصاب پر عمل درآمد کا آغاز ہوجائے گا۔ریاست کی صلاحیت بہتر بنانے کے لئے چند نہیں ہزاروں اچھے فیصلے کرنا ہونگے۔کورونا وبا کے دوران بچوں کی صحت کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔23نومبر کو اسلام آباد میں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کے اجلاس میں تعلیمی اداروں کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیوچر سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔شفقت محمود نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جسے بوجھ بنانے کے بجائے سودمند بنانا ہوگا۔ملک میں شرح ناخواندگی

ایک بڑا چیلینج ہے جبکہ انصاف کا نظام بھی درست نہیں ہے۔لوگوں کو انصاف ملنے میں بہت وقت لگتا ہے۔ملک میں عدم برداشت کا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں سول سروس کوبہتر بنانا ہوگا۔سینئر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بہت زیادہ جبکہ نجی شعبے کی تنخواہیں بہت کم ہیں۔مسائل سے نمٹنے کے لیے ہمیں حکومتی سطح پر اصلاحات کرنا ہوں گی۔شفقت محمود نے

کہا کہ 18ویں ترمیم سے متعددمعاملات صوبوں کومنتقل ہوگئے ہیں۔فوڈ سکیورٹی جیسے مسائل میں وفاقی حکومت کا کردار محدود ہوگیاہے۔مقامی حکومت کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔لوکل گورنمنٹ سسٹم کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔ولوکل گورنمنٹ کا مسودہ تیار ہے، نوک پلک بہتر کررہے ہیں۔فاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ ملک بھر میں مختلف نظام تعلیم ہے،سرکاری تعلیمی نظام

کو پچھلے 70برسوں میں نظر انداز کیا گیا۔اگر مختلف طریقوں سے پڑھایا جائے گا تومزید بگاڑ پیداہوگا۔حکومت ملک بھر میں یکساں واحد نظام تعلیم متعارف کراکے نافذ کرنے والی ہے۔اسکول نہ جانے والے بچوں کے لیے اسپیشل پروگرام لارہے ہیں۔جلد ریڈیو چینل کے ذریعے پہلی جماعت سے 5ویں جماعت کے طلبا کو تعلیم دی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ گورننس بہتر بنانے کے

لئے انصاف اور قانون کی پاسداری پر توجہ دینا ہوگی۔ہیلتھ سہولت کارڈ سے ایک خاندان 7لاکھ 40ہزار کا علاج ملک کے کسی بھی اسپتال میں کراسکتا ہے۔کم آمدنی کے حامل خاندانوں میں 12ہزار کے حساب سے رقوم فراہم کی گئی ہیں۔حکومت نے کووڈ سے قبل 50ہزار طلبا کو ٹیکنالوجی کے اداروں میں مفت داخلے دئیے۔جدید طرز کے لیکچرز اور تعلیمی نظام پر کام شروع کردیا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *