روس پاکستان میں اربوں ڈالرز کے منصوبے پر کام شروع کرنے کیلئے تیار ہو گیا

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کی وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) اور روسی فیڈریشن کی وزارت توانائی کی مشترکہ پاک۔روس تکنیکی کمیٹی کا پہلا باضابطہ 3 روزہ اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ 16 سے 18 نومبر تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سہ روزہ اجلاس میں شمالی گیس پائپ لائن منصوبے میں پیشرفت پر تفصیلی مشاورت کی

گئی۔ گیس پائپ لائن منصوبہ دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان فلیگ شپ سٹرٹیجک منصوبہ ہے جس سے طویل المدتی پاک۔روس دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ عوامی رابطوں کو فروغ دینے میں تقویت کا باعث بنے گا۔ روس نے کراچی سے قصور تک 1100 کلومیٹر طویل پائپ لائن کی تعمیر کیلئے پاکستان کے ساتھ اتفاق کر لیاہے، اس منصوبے پر 2 ارب ڈالرز سے زائد کی لاگت آئے گی۔ روس کی جانب سے کراچی سے قصور تک 1100 کلومیٹر طویل پائپ لائن تعمیر کی جائے گی، جس سے آر ایل این جی گیس کی سپلائی ممکن ہو پائے گی۔یہ منصوبہ 2 فیز میں مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پہلا فیز 2022 تک جبکہ دوسرا فیز 2023 تک مکمل ہو گا۔ اعلامیے کے مطابق تکنیکی کمیٹی کے سہ روزہ اجلاس شرکت کرنے والا وفد روسی وزارت توانائی کے نمائندوں، پاکستان میں روسی سفارتخانے کے اعلی حکام کے ساتھ روسی کمپنیوں اور کارپوریشنز کے اعلی عہدیدار شریک تھے جبکہ پاکستانی وفد میں وزارت توانائی (پٹرولیم ڈویڑن) کے نمائندوں کے علاوہ وزارت خارجہ، وزارت لاء اینڈ جسٹس ڈویڑن اور انٹرسٹیٹ گیس سسٹمز پرائیویٹ لمیٹڈ کے نمائندے شامل تھے۔ وفاقی وزیر توانائی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم بھی بات چیت میں شریک تھے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اعلی سطح پر ہونے والی بات چیت کا مقصد پورٹ قاسم کراچی سے پنجاب کے علاقے

قصور تک ہائی پریشر گیس پائپ لائن کے توسیعی منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے تمام امور کو حتمی شکل دینا تھا تاکہ ملک کے شمالی علاقوں کی صنعتوں اور شہریوں کو درپیش گیس کی قلت اور گیس کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لئے آر این ایل جی کو ان علاقوں تک بڑھایا جا سکے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب خان نے شمال۔ جنوب

گیس پائپ لائن منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد کے لئے بین الحکومتی معاہدے کو دستاویزی شکل دینے کے حوالے سے تکنیکی کمیٹی کے شرکاء کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان،روس کے ساتھ باہمی اور سٹرٹیجک تعلقات کو مضبوط ومستحکم بنانے کے لئے یہ منصوبہ پہلا اقدام ہے۔ وفاقی وزیر عمر ایوب نے توقع ظاہر کی کہ اس منصوبے کی تکمیل سے

نہ صرف دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا بلکہ آنے والے دنوں میں بھی اس منصوبے کے دوطرفہ تعلقات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اپنے اختتامی خطاب میں وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر کا کہنا تھا کہ شمال۔جنوب گیس پائپ لائن منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اس منصوبے کی جلد ازجلد تکمیل کے لئے روس کے ساتھ

موثر انداز کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہے۔ اس موقع پر ندیم بابر نے شرکاء کو گیس پائپ لائن منصوبے کی جلد کامیابی کے لئے وزیراعظم عمران خان کے جذبات سے بھی آگاہ کیا۔ اجلاس میں گیس انفرانسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس(جی آئی ڈی سی) کے حوالے سے عدالت عظمی کے فیصلے اور جی آئی ڈی سی کے لئے دستیاب فنڈز کے حوالے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ  منصوبہ

پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات او مزید مضبوط و مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس منصوبے کا نام ”نارتھ گیس پائپ لائن پراجیکٹ“ سے تبدیل کرکے ”پاکستان سٹریم گیس پائپ لائن پراجیکٹ“ رکھا گیا ہے۔ منصوبے کے ذریعے پورٹ قاسم کراچی کے موجودہ ایل این جی ٹرمینل اور نئے ٹرمینل کے ذریعے گیس حاصل کی جائے گی۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور

روس مذکورہ گیس منصوبے کی بروقت تکمیل، موثر لاگت اور کامیابی سے عملدرآمد کے لئے سرمایہ کاری کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں جس کا مقصد گیس کا زیادہ سے زیادہ وزوں نرخوں پر پاکستانی شہریوں تک رسائی یقینی بنانا ہے۔ اجلاس میں شرکاء نے اس بات کا اعادہ کیا کہ منصوبے کے لئے درکار سازوسامان، وسائل ذرائع کی دستیابی کے لئے دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ

زیادہ سے زیادہ تعاون یقینی بنائیں گے جس کا مقصد باہمی ورکنگ اور تربیتی عمل کے ذریعے پاکستانی کمپنیوں کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ اور درکار انسانی وسائل کی قوت استعداد میں بہتری لانا ہے۔ فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود 2015ء میں ہونے والے معاہدے میں ترمیم کے لئے ایک دستاویزی معاہدے پر دستخط بھی کئے۔

معاہدے میں ترمیم لانے کا مقصد گیس پائپ لائن منصوبے پر نظرثانی شدہ ڈھانچے کی دونوں حکومتوں کی جانب سے متفقہ منظوری لینا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق شرکاء نے اس بات پر اصولی اتفاق کیا کہ منصوبے کی تکمیل ایک روس کی ایک خصوصی کمپنی کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی جس میں پاکستان کی زیادہ سے زیادہ شراکت داری ہوگی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *