میں بتاﺅں پھر مجھے فیض آباد دھرنا دینے کے لیے کس نے کہا تھا،مولانا خادم رضوی کی دھمکی‎‎

اسلام آباد،سرگودھا(مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن، این این آئی ) تحریک لبیک یا رسول اللہ نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں دھرنا دینے کی کوشش کی اور وہاں خطاب کرتے ہوئے کہا مولانا خادم رضوی نے کہاکہ میں بتائوں پھر مجھے فیض آباد دھرنا دینے کے لیے کس نے کہا تھا۔

مولاناخادم رضوی نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی جمعہ والے دن اپنے کارکنان سے کہہ دیا تھا کہ میں بھی پھر بتادوں گا کہ مجھے کس نے کہا تھا کہ فیض آباد جا۔دوسری جانب وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کی کوششیں کامیاب ہوگئیں ، وزیر مذہبی امور نے تحریک لبیک کو منا لیا ہے ۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے تحریک لبیک سے مذاکرات کئے۔وزیر داخلہ سید اعجاز شاہ ، کمشنر اسلام آباد عامر احمد اور مشیر داخلہ شہزاد اکبر اور سیکرٹری داخلہ بھی مذاکراتی ٹیم میں شامل تھے۔ مذاکرات کامیاب ہونے پر تحریک لبیک فیض آباد دھرنا ختم کرنے پر آمادہ ہوگئی۔مذاکرات کی کامیابی کا اعلان ہوتے ہی موبائل فون سروس بحال کردی گئی ۔ یادر ہے تحریک لبیک پاکستان ( ٹی ایل پی) نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد کے مقام پر دھرنا دے رکھا تھا ۔مظاہرین نے اتوار کو ناموس رسالت ریلی نکالی اور وہ فرانس میں سرکاری سرپرستی میں توہین رسالت کیے جانے پر

فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کررہے تھے ۔مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جس کے نتیجے میں علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے اور آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے شدید شیلنگ کی گئی اور ربڑ کی گولیاں

بھی چلائی گئیں جس کے جواب میں ٹی ایل پی کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ اس کے نتیجے میں دونوں اطراف کے بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے رکاوٹیں، کنٹینر اور خاردار تاریں لگاکر سڑکوں کو بند کر رکھا تھا جس کے نتیجے میں

جڑواں شہروں میں ٹریفک جام ہے اور ٹریفک کو متبادل راستوں کی جانب موڑا جارہا ہے جبکہ میٹرو بس سروس بھی بند رہی ۔کشیدہ صورتحال کے باعث فیض آباد کے آس پاس تمام اسکولز اور دکانیں بند رہیں ۔ دھرنے کی وجہ سے موبائل اور انٹرنیٹ سروس اتوار کی صبح 5 بجے

سے بند کردی گئی تھی ۔صورتحال کے باعث عدالتی کارروائی بھی متاثر ہوئی اور کئی مقدمات کی سماعت نہیں ہوئی۔ دریں اثنا تحریک لبیک اور حکومتی نمائندہ وفد کے درمیان مذاکرات کے نتیجہ میں تمام اسیران کو رہا کرنے کے احکامات پر سرگودھا ریجن میں نظر بند

سمیت گرفتار کارکنان کو رہا کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق تحریک لیبک کے فیض آباد احتجاجی پروگرام میں شرکت سے روکنے کی حکمت عملی کے تحت سرگودھا ریجن سمیت اضلاع میں پکڑ دھکڑ جاری رہی اور ریجن کے علاقہ بھکر سمیت کئی مقامات پر گرفتار علماء

اور کارکنان کو نظر بند کر دیا گیا تھا گزشتہ روز ڈسٹرکٹ جیل بھکر میں نظر بند 28 کارکنان کی رہائی کا عمل جاری رہا جن کو ڈپٹی کمشنر بھکر کے احکامات پر ایک ماہ کیلئے نظر بند کیا گیا اور ایک روز تحریک لبیک کی قیادت اور حکومتی وفد کے درمیان مذاکرات کے

نتیجہ میں گرفتار تمام کارکنان کی رہائی کے احکامات جاری ہوئے تو بھکر میں نظر بندی کے احکامات کے پانچ دن بعد ڈپٹی کمشنر نے دوبارہ رہائی کے احکامات جاری کئے جس پر 28 اسیران کی ڈسٹرکٹ جیل بھکر سے رہائی کا عمل جاری رہا جبکہ ریجن پکڑ میں پکڑ دھکڑ کے اسیران کو بھی پولیس حراست سے چھوڑ دیا گیا جن کو ریجن بھر کے مختلف مقامات سے فیض آباد احتجاجی پروگرام میں شرکت سے روکنے کی حکمت عملی پرگرفتار کیا تھا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *