ادارے پیچھے سے ہٹ جائیں تو عمران خان کی حکومت24 گھنٹے کی مار ہے، ادارے عوام سے نہ ٹکرائیں، مریم نوازکا انتباہ

سوات(آن لائن) پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ اداروں کو کہتی ہوں عمران خان کے پیچھے سے ہٹ جاؤ، ہم اداروں سے نہیں ٹکرانا چاہتے، اداروں کو بھی چاہیے عوام سے نہ ٹکرائیں،پاکستان کی تمام بیماریوں کا ایک ہی علاج ہے، ملک میں فری اینڈ فیئر الیکشن کروائے جائیں، نوازشریف کابیانیہ، دو تقریروں نے تمہیں تباہ کردیا ہے۔انہوں نے عوامی جلسے سے خطاب

کرتے ہوئے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن کے میرے غیور بھائیو، بتاؤ گھٹیازبان بولنے والے آپ کی نمائندگی کے اہل ہیں؟ خیبرپختونخواہ کا ایک ہی مقام ہے، اس کا نام ہے امیر مقام ہے۔ایک بچے کے ساتھ اتنا ظلم ہوا کہ اس کا ذہبی توازن بگڑ گیا، شرم آنی چاہیے، جو اتنا کم ظرف ہے کہہ سیاسی لڑائیاں گھروں تک لے جائے اس کو کے پی سے باہر پھینک دو، انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس وقار سیٹھ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، اس بہاد ر جج نے مشرف جیسے شخص کوغداری کیس میں سزا سنائی، ایسے جج تاریخ میں زندہ رہیں گے، ہم ان کے خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہیں ہم دہشتگردی کا شکار ہونے والے خاندانوں سے بھی اظہار تعزیت کرتے ہیں، یاد ہے جب اے پی سی پر حملہ ہوا تھا، بازار تھانے کچہریاں کچھ بھی محفوظ نہیں تھا، لیکن شہیدوں نے قربانیاں دے کرپاکستان کا امن قائم کیا،مجھے اندازہ ہے کہ شہیدوں کی ماؤں پر کیا گزر رہی ہے۔آپ کے لیڈر نے سیاسی دشمنیاں بھلا کر سب کو ایک پلیٹ فورم پر اکٹھا کیا اور دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔ لیکن آج ہمارے سروں پر ایسا نالائق اور سلیکٹڈ شخص مسلط ہے، جس کو احساس تک نہیں کہ ان کے کندھوں پر 22کروڑ عوام کی ذمہ داری ہے۔آج جب پاکستان دہشتگردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے تو وزیرداخلہ دھمکیاں دیتا ہے، شہیدوں میں بلورخاندان بھی شامل ہے، الفاظ سے دہشتگردی کرنے والا وزیرداخلہ اس کو شرم آنی چاہیے۔دنیا کیا پیغام دے رہے ہو؟

سات سال سے کے پی میں نااہل حکومت مسلط ہے، کیا کے پی میں کوئی تبدیلی آئی؟ ایک بھی نیا ہسپتال بنا؟ یہاں کے فنکار تھے، مجھے کہا کہ بی بی میرا علاج کرواؤ، الحمداللہ میں نے علاج کروایا۔ لیکن یہاں آپریشن تھیٹر کی چھتیں ٹپکتی ہیں، جب کوئی حادثہ ہوتا ہے یہاں ایک لیبارٹری بھی نہیں بنا سکے؟ کیا نیا سکول، کالج، یونیورسٹی بنی؟ جب کے پی احتساب شروع ہوا تو احتساب کمیشن

کو تالا لگا دیا گیا، احتساب کا سامنا کرنے کیلئے نوازشریف جیسا جگر چاہیے۔بلین ٹری کہیں نظر آرہے ہیں؟ آڈیٹر جنرل نے لکھا کہ درختوں اور پودوں میں اربوں روپے کھا گئے۔مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف اور شہبازشریف کی نقل کرتے ہوئے بس بنائی، لیکن ایسی بس چلائی جو ان کی طرح بے بس ہے، سلیکٹڈ اور جعلی حکومت کی طرح چلنے سے بھی عاری ہے، کبھی بسوں میں آگ

لگتی ہے، کبھی دروازے الٹی طرف کھلتے ہیں، کہتا تھا بی آر ٹی کی ٹکٹ 10روپے ہوگا لیکن اس کا کرایہ 100سے 250کردیا گیا،وہ کون تھا جو کہتا تھا کہ 200ارب آئی ایم ایف کے منہ پر ماریں گے؟ مجھے بتاؤ کہ 50لاکھ گھروں میں ایک گھر ملا، ایک کروڑ نوکریوں میں کسی کو ایک بھی نوکری ملی؟بجلی، گیس، چینی، ادویات، ڈالر، غیرملکی قرض کنٹرول سے باہر ہے،

18ارب کا روزانہ قرض لیا جارہا ہے، مہنگائی کنٹرول سے باہر ہے۔عوام کے مسائل پر بس نہیں چلتا، بس چلتا ہے مسلم لیگ اور شیروں کو کنٹرول میں میری ایک تقریر ہوتی ہے ان کے مشیر وزیر24گھنٹے ٹی وی پر آکر ہلقان ہوتے رہتے ہیں، پھر کہتے ہیں نوازشریف کا بیانیہ کیا ہے؟ نوازشریف کابیانیہ یہ ہے جس کی دو تقریروں نے تمہیں تباہ کردیا ہے۔ ان کا زور آپ کی بہن کے کمرے کے

باتھ رومز میں کیمرے لگانے پر چلتا ہے، کیمرے لگانے کا اتنا شوق ہے تو نیب کی عدالتوں میں کیمرے لگاؤ کہ تمہارا اصل چہرہ کیا ہے؟ کس طرح تم جھوٹے الزامات لگاتے ہو، اس کا ایک ہی علاج ہے،عمران خان اور جعلی حکومت کو گھر بھیجا جائے، ملک میں فری اینڈ فیئر الیکشن کرواؤ، عوام کو ان کا مینڈیٹ واپس کرو۔میں اداروں کو کہتی ہوں عمران خان کے پیچھے سے ہٹ جاؤ، ہم

اداروں سے نہیں ٹکرانا چاہتے، اداروں کو چاہیے عوام سے نہ ٹکرائیں،یقین دلاتی ہوں جب ادارے عمران خان کے پیچھے سے ہٹ جائیں گے تو عمران خان کی جعلی حکومت 24گھنٹے کی مار نہیں ہے۔ سلیکٹڈ عمرا ن خان کا کردار خواہ مخواہ کا کردار ہے، جب کراچی میرے کمرے کا دروازہ توڑا گیا، کیٹن صفدر کو گرفتار کیا گیا تو اس

کو کسی نے بتانا بھی گوارہ نہیں سمجھا، اگر اس کی جگہ میں ہوتی تو میں استعفیٰ منہ پر مارتی، کیونکہ میرے والد نے مجھے سکھایا ہے، اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی، میر ادل کہتا ہے کہ اس بار خیبرپختونخواہ کے لوگ مسلم لیگ ن کو ووٹ دیں۔ انشاء اللہ 18نومبر کو مانسہرہ میں جلسہ کروں گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *