ایک ماہ کی عدم ادائیگی پر غریب کا کنکشن کاٹ دیاجاتا ہے،طاقتوروں سے گیس کے اربوں نکلوانے مشکل،وزیراعظم کا ٹیکسٹائل مل مافیا کے خلاف فوری کارروائی کا حکم

اسلام آباد(آن لائن) ملک کی طاقتور ٹیکسٹائل مل مافیا نے گیس بلوں کی مد میں اربوں روپے دبا لئے ہیں اور کئی سالوں سے گیس کے بل ادا بھی نہیں کر رہے ہیں۔ لاہور اور کے پی کے کے ٹیکسٹائل مل مافیا کے ذمہ 5ارب روپے سے زائد کے گیس بل واجب الادا ہیں جو گزشتہ کئی سالوں سے ادا نہیں کئے گئے جبکہ ان ملوں کے گیس کنکشن بھی منقطع نہیں کئے گئے ہیں۔ وزیراعظم عمران

خان نے گیس بلوں کی عدا ادائیگی کا نوٹس لے کر گیس کمپنی کو ٹیکسٹائل ملوں سے گیس واجبات فوری طور پر وصول کر نے کا حکم دیا ہے اور قانون کے مطابق کاروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ڈیفالٹر ٹیکسٹائل ملوں کی فہرست میں پہلا نام حنا ربانی کھر کی ملکیتی ٹیکسٹائل مل کا ہے۔ عالم کاٹن مل نے 18کروڑ اورینٹ ٹوئنگ نے 6کروڑ، عائشہ ٹیکسٹائل مل لاہور ساڑھے چار کروڑ جبکہ نثار سپننگ مل رائے ونڈ 44کروڑ روپے سے زائد کی ڈیفالٹر ہے۔ فہرست کے مطابق درج ذیل ٹیکسٹائل ملیں ڈیفالٹرز قرار دی گئی ہیں ان کے نام اور بقایا جات کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔یاد رہے کہ ان مل مالکان کا تعلق ملک کے حکمران اور طاقتور طبقے سے ہے جبکہ غریبوں کے گیس کنکشن ایک ماہ کی عدم ادائیگی پر کاٹ دئیے جاتے ہیں۔ گیس کمپنی نے بل کی ادائیگی کے ئے وسیع پیمانے پر آپریشن کا فیصلہ کیا ہے۔ گلیکسی ٹیکسٹائل ملز جھنگ نے 5سالوں سے گیس بل مبلغ 22کروڑ 35لاکھ روپے ادا نہیں کیا اس کی مالک سابق وزیرخارجہ حنا ربانی کھر ہے۔ عالم کاٹن ملز لاہور نے 177ملین سے گیس بل ادا کرنا ہے۔ گلشن ویونگ ملز شیخٰوپورہ نے مبلٖغ1کروڑ روپے گیس کا بل ادانہیں کیا۔ ایس ایم جی ایم کورئین فیروزوتواں 83ملین روپے ادا نہیں کئے اور 5سال سے ادائیگی نہیں کر رہی۔ بی بی جان کلرز لمٹیڈ فیصل آباد نے بھی 10سال سے بل ادا ہی نہیں کیا۔

گرون ٹیکسٹائل ملز 6کروڑ کی ادائیگی10سال سے نہیں کر رہی ہے۔ ایمنیکس سپننگ ملز فیصل آباد بھی6کروڑ روپے کی ڈیفالٹر ہے۔ شیخ سپننگ ملز رائے ونڈ بھی 55ملین روپے کی ڈیفالٹر ہے۔ اورینٹ کوٹنگ فیصل آباد 54ملین روپے کی ڈیفالٹر ہے۔ عائشہ ٹیکسٹائل مل لاہور نے 4کروڑ 25لاکھ کی نادہندہ ہے۔ سٹی ٹیکسٹائل مل لاہور نے 4کروڑ 80لاکھ روپے کی ڈیفالٹر ہے۔ زینب

ٹیکسٹائل مل ہری پور 4 کروڑ 25لاکھ روپے کی نادہندہ ہے۔ سٹی ٹیکسٹائل مل لاہور بھی 4کروڑ روپے کی ڈیفالٹر ہے۔ ستارہ سپننگ مل فیصل آباد 3کروڑ 98لاکھ روپے کی ڈیفالٹر ہے۔ سرگودھا سپننگ 37ملین روپے، داراسلام ٹیکسٹائل مل 34ملین گلستان ٹیکسٹائل 35ملین روپے، امپیریل ٹیکسٹائل 34ملین،بلال فائبر33ملین، رفیع کاٹن 33ملین روپے، عائشہ ٹیکسٹائل مل 31ملین، حاجرہ

ٹیکسٹائل 30ملین، چناب ٹیکسٹائل 21ملین، گلشن سپننگ 21ملین، چناب لمٹیڈ16ملین، بلوچستان گلاس 11ملین، میاں اقبال صلاح الدین 11ملین، گلشن ٹیکسٹائل 11ملین، پینتھر سپننگ 9ملین روپے، اپالو ٹیکسٹائل 8ملین، جیا ٹیکسٹائل 7ملین، فواد ٹیکسٹائل مل قصور6ملین، بسم اللہ فیبرکس 3ملین، ایمنیکس پرائیویٹ لمٹیڈ نے3 سالوں سے 44کروڑ روپے گیس بل کی مد میں ادا نہیں کئے۔ نثار سپننگ

مل رائے ونڈ سندر 44کروڑ 2سال سے ادا نہیں کئے۔ پلاٹینم سپننگ 24کروڑ کی ڈیفالٹر ہے، چکوال سپننگ 17کروڑ روپے، سلمان نعمان پارو کمپنی 13کروڑ 21لاکھ ڈیفالٹر ہیں۔ ایکرو سپننگ 12کروڑ روپے، طحہ سپننگ 8کروڑ روپے گلشن ویونگ شیخوپورہ 8کروڑ روپے، روبی ٹیکسٹائل مل 7کروڑ، امجد ٹیکسٹائل

5کروڑ 64لاکھ، داؤد سپننگ 5کروڑ 56لاکھ، چناب لمٹیڈ 5کروڑ، پاک پینتھر5کروڑ، سرفراز یعقوب اڑھائی کروڑ، نون ٹیکسٹائل مل بھلوال اڑھائی کروڑ روپے، شاد رائے فیبرکس قصور 2 کروڑ 25لاکھ، میانوالی کا دملیو مینول 54کروڑ روپے، بدر سی این جی بھکر 32کروڑ روپے کی ادائیگی کرنا باقی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *