میں سیٹ پر بیٹھی تھی کہ اچانک مجھے پیچھے سے محسوس ہوا کہ ۔۔۔ سماجی کارکن ماریہ اقبال ایوان صدر میں اپنے ساتھ پیش آئے واقعے پر پھٹ پڑیں ، پروٹوکول آفیسر پر سنگین الزامات عائد

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) ویمن کمیشن آف پاکستان آزاد کشمیر کی سابق سربراہ اور ایگزیکٹیو ڈائریکٹر یوتھ فورم فار کشمیر ماریہ اقبال ترانہ نے گزشتہ روز ایوان صدر میں ہونے والی تقریب میں خود کو پروٹوکول آفیسر کی جانب سے ہراساں کئے جانے کا الزام لگادیا۔

ماریہ اقبال ترانہ نے ٹویٹر پر ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں ان کا کہناتھا کہ انہیں گزشتہ روز ایوان صدر ایک تقریب میں مدعو کیا گیا تھا جہاں صدر مملکت علوی ، وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ و گورنر سٹیٹ بنک رضا باقر صاحب موجود تھے۔تقریب شروع ہونے سے پہلے جب ہم سیٹ پر بیٹھے تھے اور ہال میں خاموشی تھی تو مجھے پیچھے سے محسوس ہوا کہ جیسے کوئی ساتھ آ کر کان کے پاس سرگوشی کرنے لگا ہے اور کچھ پوچھ رہاہے ،پہلے تو میرے لیے یہ احساس ہی بہت عجیب تھا کہ یہ اچانک سے کون اتنا قریب آ کر بات کرنے کی کوشش کر رہاہے ، مجھے اس کی کوئی بات سمجھ نہیں آرہی تھی ، میں نے کہا کہ آپ تھوڑا سا فا صلہ رکھیں ، اس نے پھر کچھ پوچھا تو مجھے یہی سمجھ آئی کہ وہ کہہ رہا تھاکہ آپ کی آرگنائزیشن کیاہے ، میں نے کہا کہ آپ لسٹ میں چیک کر لیں اور پھر بتا بھی دیا کہ میں کہاں سے تعلق رکھتی ہوں ، میں نے انہیں دو تین دفعہ کہا کہ آپ اپنی انکوائری کریں اور مہربانی فرما کر پیچھے ہٹ جائیں

،تقریب ختم ہو گئی تو میں اپنے دو تین ساتھیوں کے ساتھ نکلنے لگی تو وہاں پر وہ شخص موجود تھا میں نے پوچھا کہ آپ کیا بات کرنے کی کوشش کر رہے تھے ، کوئی بات کرنے کی بجائے وہ فوراً سے کہتا چلا گیا کہ آپ کو یہاں کوئی نہیں جانتا تھا ، آپ یہاں پر جھوٹ بول کر داخل

ہوئیں اور ایوان صدر میں بیٹھ گئیں ۔ ماریہ اقبال کا کہناتھا کہ میں نے کہا کہ میں چار پروٹوکول سے گزر کر آئی ہوں ، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مجھے کوئی جانتا نہیں اور میں ایوان صدر میں بیٹھ جائوں ، یہ آپ کیسی بات کر رہے ہیں ، وہ اچانک سے کہنے لگا کہ آپ جھوٹی ہیں ، یہاں

پر کرسیاں خالی تھیں تو ہم نے آپ کو بیٹھنے کی اجازت دی ، میں حیران رہ گئی ، میں نے وہیں سے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے ، میں کہاں پر شکایت کروں ، یہ بہت بدتمیزی کر رہاہے ، اس نے آگے آ کر اپنا تعارف کروایا کہ میرا نام آفاق احمد ہے اور میں پروٹوکول آفیسر ہوں۔

آپ یہاں سے نکل جائیں ۔ ماریہ اقبال ترانہ نے اسے ہراسانی قرار دیتے ہوئے معاملے کی انکوائری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنے ویڈیو پیغام کے آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے ادارے کے افسر کو اگر یہ نہیں معلوم کہ خواتین سے کس طرح پیش آنا ہے تو باقیوں سے ہم کیا امید لگا سکتے ہیں؟

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *