آئی جی سندھ کیس پاک فوج کے کس رینک کے افسران کو ہٹایا گیا؟ تہلکہ خیز دعویٰ

اسلام آباد،راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی )معروف اینکر پرسن ندیم ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی جی سندھ کے اغوا کے معاملے میں آئی ایس آئی اور رینجرز کے 4 افسران کو معطل کیا گیا ہے۔نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ندیم ملک نے کہا کہ آئی جی سندھ اغوا

کیس میں بورڈ آف انکوائری کی رپورٹ پر 4 افسران کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔ ان میں آئی ایس آئی اور رینجرز کے سیکٹر کمانڈرز بھی شامل ہیں۔ یہ دونوں بریگیڈیئر رینک کے افسران تھے جنہیں عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔دوسری جانب مسلم لیگ ن برطانیہ کے میڈیا سیکرٹری راشد ہاشمی نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر حبیب اور رینجرز کے 3 کرنلوں کو فارغ کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا ہے کہ کراچی مزارِ قائد کی بے حرمتی کے پس منظر میں رونما ہونے والے واقعہ پرآئی جی سندھ کے تحفظات کے معاملے کی انکوائری مکمل کرکے متعلقہ افسران کو ذمہ داریوں سے ہٹادیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مزارِ قائد کی بے حرمتی کے پس منظر میں رونما ہونے والے واقعہ پر آئی جی سندھ کے تحفظات کے حوالے سے فوج کی کورٹ آف انکوائری مکمل ہوگئی ، واقعہ کی انکوائری آرمی چیف کے حکم پر کی گئی۔کورٹ آف انکوائری کی تحقیقات کے مطابق18/19اکتوبر کی درمیانی شب

پاکستان رینجرز سندھ اورسیکٹر ہیڈ کوارٹرز آئی ایس آئی کراچی کے آفیسرز مزار ِ قائد کی بے حرمتی کے نتیجے میں شدید عوامی ردِ عمل سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے میں مصروف تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان رینجرز اور سیکٹر ہیڈ کوارٹرز آئی ایس آئی

کراچی کے آفیسرز پر مزارِ قائد کی بے حرمتی پر قانون کے مطابق بروقت کارروائی کیلئے عوام کا شدید دبائو تھا۔ ان آفیسرز نے شدید عوامی ردِ عمل اور تیزی سے بدلتی ہوئی کشیدہ صورتحال کے مدِ نظر سندھ پولیس کے طرزِ عمل کو اپنی دانست میں ناکافی اور سست روی کا شکار پایا۔

بیان کے مطابق اس کشیدہ مگر پر اشتعال صورتحال پر قابو پانے کیلئے اِن آفیسرز نے اپنی حیثیت میں کسی قدر جذباتی ردِ عمل کا مظاہرہ کیا۔ اعلامیہ کے مطابق ذمہ دار اور تجربہ کار آفیسرز کے طور پر انہیں ایسی ناپسندیدہ صورتحال سے گریزکرنا چاہیے تھا جس سے ریاست کے دو اداروں

میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔اعلامیہ کے مطابق کورٹ آف انکوائری کی سفارشات کی روشنی میں متعلقہ آفیسرز کو اپنی موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے،ضابطہ کی خلاف ورزی پر ان آفیسرز کے خلاف کارروائی جی ایچ کیو میں عمل میں لائی جائے گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *