پی ٹی آئی حکومت کے 800 روز مکمل، مہنگائی 8 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی‎‎

اسلام آباد (آن لائن )تحریک انصاف حکومت کے ابتدائی 800 روز مکمل سالانہ اوسط مہنگائی 8 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی کی اوسط شرح 10.74 فیصد رہی ہے تفصیلات کے مطابق ادارہ شماریات نے اشیائے ضرور یہ کی قیمتوں کے اعدادو شمار جاری کر دئیے ہیں جس کے مطابق حکومت کے آٹھ سو دنوں میں چینی

اوسط 45 روپے 88 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی جبکہ اگست 2018 میں چینی کی اوسط قیمت 55.59 روپے فی کلو تھی،چینی کی اوسط قیمت اب 101 روپے 47 پیسے فی کلو ہوگئی۔دستاویزات کے مطابق اگست 2018 تا نومبر 2020 دال ماش 102 روپے فی کلو مہنگی ہوئی جبکہ دال مسور 47 روپے,دال مونگ 119 روپے فی کلو مہنگی ہوئی۔اگست 2018 تا نومبر 2020 دال چنا 26 روپے فی کلو مہنگی ہوئی ہے موجودہ دور میں آٹے کا 20 کلو تھیلا اوسط 2018 روپے مہنگا ہوا۔ اگست 2018 تا نومبر 2020 بکرے کا گوشت 203 روپے فی کلو مہنگا ہوا جبکہ اسی عرصے میں گائے کا گوشت 98 روپے فی کلو مہنگا ہوا۔موجودہ حکومت کے دور میں تازہ دودھ 20 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا۔اسی عرصے کے دوران دہی 19 روپے فی کلو مہنگا ہوا جبکہ ٹماٹر 79 روپے فی کلو مہنگے ہوئے۔آلو 40 روپے,پیاز 37 روپے فی کلو مہنگے ہوئے ہیں موجودہ دور حکومت میں لہسن 114 روپے فی کلو مہنگا ہوا۔مرغی زندہ براہلر 89 روپے فی کلو مہنگی ہوئی۔انڈے 72 روپے فی درجن مہنگے ہوئے۔چاول 15 روپے فی کلو مہنگے ہوئے۔اگست 2018 تا نومبر 2020 ڈھائی کلو گھی کا ٹن 160 روپے مہنگا ہوا جبکہ دوسری جانب موجودہ دور میں بجلی 3 روپے 85 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی۔گیس کے نرخوں میں 334 فیصد تک اضافہ کیا گیا۔ بجلی اور گیس صارفین پر 550 ارب روپے سے زائد کا

اضافی بوجھ ڈالا گیاجبکہ سالانہ اوسط مہنگائی 8 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔مالی سال 2019-20 میں مہنگائی کی اوسط شرح 10.74 فیصد رہی ہے مالی سال 2017-18 میں مہنگائی کی اوسط شرح 4.68 فیصد تھی۔ سالانہ اوسط مہنگائی 8 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *