وزیر اعظم کا جگری یارٹرمپ چلاگیا،اب عمران خان کو بھی جانا ہوگا

بونیر /لاہور (آن لائن)امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا ہی تحفہ ہے۔سابقہ حکمران پارٹیوں اور مشرف کے بھگوڑوں کوجمع کرکے پی ٹی آئی بنائی اور پھر عوام پر مسلط کردی گئی۔عمران خان کہتے تھے جس دن میرے خلاف چند ہزار لوگ نکل آئے میں استعفیٰ دیکر گھر چلاجاؤں گا اب ان کی غیرت کا امتحان ہے،پورے ملک کے عوام ان کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔پہاڑوں میں جمع ہونے والے لاکھوں لو گ جب اسلام آباد کا رخ کریں گے تو بڑے بڑے محل بھی حکمرانوں کو پناہ نہیں دے

سکیں گے۔وزیر اعظم بڑے فخر سے ٹرمپ کو اپنا دوست کہتے تھے،ٹرمپ چلاگیا اب انہیں بھی جانا ہوگا۔بے حس حکمران عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھین کر کہتے ہیں ملک ترقی کررہا ہے۔ہر وعدے پر یوٹرن لینے والے وزیر اعظم کے کسی وعدے پر اب عوام کو اعتماد نہیں رہا۔سابقہ اور موجودہ حکمران پارٹیوں کو ایک دوسرے کی مخالف سمجھنے والے خود فریبی سے نکلیں۔حکومت اور اپوزیشن ایک ہی نظریے اور کلچر کے لوگ ہیں۔ان کی پالیسیوں میں کوئی اختلاف نہیں،اختلاف صرف مفادات میں ہے۔دونوں اپنے اپنے مفادات کیلئے لڑ رہے ہیں،عوام کی پریشانیوں اور مسائل سے ان کو کوئی سروکار نہیں۔اصل اپوزیشن جماعت اسلامی ہے،ہم عوام کو ظلم و جبر کے اس استحصالی نظام سے نجات دلانے کیلئے میدان میں نکلے ہیں۔عوام کی پریشانیوں اور مصیبتوں کو دور کئے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کالج گراؤنڈ بونیر میں بڑے عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جلسہ سے خیبرپختونخواہ کے امیر سینیٹر مشتاق احمد،سابق صوبائی وزیر حبیب الرحمن،ضلعی امیر باچا خان نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر صوبائی جنرل سیکرٹری عبد الواسع اور سیکرٹری اطلاعات قیصرشریف بھی موجود تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نئی حکومت نہیں بلکہ سابقہ حکومتوں کا تسلسل ہے۔حکومت کو چلانے والے لوگ پہلے پیپلز پارٹی،مسلم لیگ اور مشرف کے ساتھ تھے اور اب پی ٹی آئی میں جمع ہوگئے ہیں۔73سال سے ملک پر مسلط یہی جاگیر دار اور سرمایہ دار عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں۔اس حکومت نے بھی آٹھ سو دنوں میں عوام کی گردن مروڑنے اور خون نچوڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو تعلیم اور روز گار سے محروم کیا۔پاکستان کے اسلامی تشخص کو مذاق بنایا،ہماری تہذیب اور نظریے کا مذاق اڑایا اور ہمارا حال اور مستقبل تباہ کیا۔کشمیر کو بھارت کے لئے ترنوالا بنایا،ایک کروڑ نوجوانوں کو نوکریاں دینے اور پچاس لاکھ بے گھروں کو گھر دینے کا اعلان کرنے والوں نے کوئی ایک گھر بنایا نہ کسی ایک بے روزگار کو روز گار دیا۔حکمرانوں نے اپنے دواڑھائی سال میں چالیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو روزگار اور ہزاروں کو چھت سے محروم کیا۔موجودہ حکومت کے مختصر دور میں آٹے چینی اور گھی کی قیمتیں دواور تین گنا بڑھ گئی ہیں۔اشیائے خورد ونوش عوام کی پہنچ سے باہر ہوگئی ہیں۔مزدور اور کسان فاقہ کشی پر مجبور ہیں اور وزیر اعظم دعوے کررہے ہیں کہ ملک ترقی کررہا ہے۔ سینٹر سراج الحق نے کہا کہ عمران خان کہتے تھے کہ دنیا کو میرے اور ٹرمپ جیسی قیادت کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ ہار گیا اب عمران کی باری ہے۔جھوٹ کا عالمی ورلڈ کپ ہوا تو ہمارے وزیر اعظم جیت جائیں گے۔پی ٹی آئی کو ووٹ اور سپورٹ دینے والے شرمندہ ہیں اور عوام کا سامنا کرنے سے گھبرا رہے ہیں۔وزراء ایک دوسرے کو نااہلی اور نالائقی کے طعنے دیتے اور نکموں کے القابات سے نوازتے ہیں۔ تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں سے جب تبدیلی کے بارے پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے فلاں افسرکو چار بار اور فلاں کو پانچ بار تبدیل کیا اور تبدیلی کیا ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حقیقی تبدیلی صرف جماعت اسلامی لاسکتی ہے۔ہمیں نیب سے کوئی مسئلہ ہے نہ کسی عدالت میں ہمارے خلاف کوئی مقدمہ ہے۔ہمارا مسئلہ ملک کے پسے ہوئے عوام،مزدور اور کسان ہیں۔ ہمارا مسئلہ ملک کے وہ کروڑوں بچے ہیں جو تعلیم سے محروم ہیں،وہ کروڑوں نوجوان ہیں جنہیں نوکریاں نہیں مل رہیں وہ کروڑوں مظلوم ہیں جو انصاف کیلئے عدالتوں اور کچریوں میں دھکے کھا رہے ہیں اور وہ ہزاروں بیمار ہیں جنہیں علاج کی سہولت نہیں مل رہی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کیلئے کراچی سے چترال تک قوم کو متحد کرے گی۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے قرضے لینے کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے ہیں،جتنے قرضے سابقہ حکومتیں اپنے پانچ سالہ دور میں لیتی تھیں موجودہ حکومت نے دوسال میں لے لئے ہیں،عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی تمام آمدن قرضوں کا سود اتارنے میں جارہی ہے۔یہ حکومت رہی تو ملک کو دیوالیہ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی عوام کی جنگ لڑرہی ہے۔ملک و قوم کوان ظالم حکمرانوں سے نجات دلانے کیلئے آخری حد تک جائیں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *