اپوزیشن اتحاد میں دراڑ پڑ گئی بلاول بھٹو زرداری نے نواز شریف کو زور دار جھٹکا دیدیا

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ گوجرانوالہ جلسے میں فوجی قیادت کا نام لینا نواز شریف کا ذاتی فیصلہ تھا، نام سن کر دھچکا لگا ،نوازشریف تین بار ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں ،یقین ٹھوس ثبوت کے بغیر نام نہیں لئے ہونگے ،انتظار ہے وہ کب ثبوت پیش کریں گے،عمران خان کی حکومت لانے کی ذمہ داری کسی شخص پر نہیں ڈالی جا سکتی،

نواز شریف اپنے طریقے سے بات کر سکتے ہیں جوانکا حق ہے،میں اپنے طریقے سے بات کروں گا،عمران خان اداروں کو اپنی ٹائیگر فورس کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ادارے بدنام ہوتے ہیں،پاکستان میں ہر ادارہ اپنا کام کرے،تسلیم کرنا ہو گا ترقی پسند جمہوریت ہی واحد راستہ ہے ، کمزور جمہوریت آمریت سے کئی درجے بہتر ہے،پی ڈی ایم کا ایک اتحاد ہے ،ہمارا ایجنڈا ہماری آل پارٹیز کانفرنس میں طے پانے والی قرارداد میں واضح ہے،میں اور میری جماعت اے پی سی کے دوران تشکیل پانے والے ایجنڈے پر مکمل طور پر قائم ہے،پی ڈیم ایم کے پاس ابھی استعفوں کا آپشن بھی موجود ہے ، دھرنے بھی دیے جا سکتے ہیں، کراچی میں کیپٹن ریٹائرڈمحمد صفدر کی گرفتاری معاملے پر انکوائری چل رہی ہے ، یقین ہے قصوروار افراد کا تعین کر کے سزا دی جائیگی ، پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے لوگوں کے حقِ حکمرانی اور حقِ ملکیت کے لیے کام کر رہی ہے،عمران خان کی جانب سے گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کے اعلان انتخابات سے قبل دھاندلی کے مترادف ہے ، عمران خان یوٹرن لیتے ہیں، پیپلز پارٹی خود پارلیمان میں گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی آئینی ترمیم لے کر جائے گی۔بلاول بھٹو زرداری نے ’’بی بی سی ‘‘کو دئیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور

گلگت بلتستان میں انتخابی مہم سے متعلق بات چیت کی ہے۔بلاول بھٹو زر داری سے پوچھاگیا کہ پی ڈی ایم کی تشکیل کے وقت ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس اور دیگر اجلاسوں میں کیا مسلم لیگ (ن) نے پاکستانی فوج کی قیادت کے سربراہ کا نام لیا تھا، یا اس بارے میں کوئی اشارہ دیا تھا؟اس پر بلاول بھٹو زرداری نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کے ایجنڈے کی تیاری کے وقت نواز لیگ نے

فوجی قیادت کا نام نہیں لیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہاں (اے پی سی میں) یہ بحث ضرور ہوئی تھی کہ الزام صرف ایک ادارے پر لگانا چاہیے یا پوری اسٹیبلیشمنٹ پر لگانا چاہیے اور اس پر اتفاق ہوا تھا کہ کسی ایک ادارے کا نہیں بلکہ اسٹیبلیشمنٹ کہا جائیگابلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب انھوں نے گوجرانوالہ کے جلسے میں میاں نواز شریف کی تقریر میں براہ راست نام سنے تو انھیں ’دھچکا‘ لگا۔انہوںنے کہاکہ

یہ میرے لیے ایک دھچکا تھا کیونکہ عام طور پر ہم جلسوں میں اس طرح کی بات نہیں کرتے مگر میاں نواز شریف کی اپنی جماعت ہے اور میں یہ کنٹرول نہیں کر سکتا کہ وہ کیسے بات کرتے ہیں اور نہ ہی وہ کنٹرول کر سکتے ہیں کہ میں کیسے بات کرتا ہوں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ڈی ایم کئی جماعتوں کا یہ یقینا ایک اتحاد ہے اور ہمارا ایجنڈا ہماری آل پارٹیز کانفرنس میں طے پانے والی قرارداد میں واضح ہے۔

بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ کیا اداروں کے سربراہان کے نام لینے سے اپوزیشن جماعتوں کا پلیٹ فارم یہ سمجھتا ہے کہ اس سے اتنا دباؤ بڑھ جائیگا کہ یہ سربراہان اپنے عہدوں سے دستبردار ہو جائیں گے، بلاول بھٹو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا ہرگز یہ مطالبہ نہیں ہے کہ فوجی قیادت عہدے سے دستبردار ہو جائے۔انہوںنے کہاکہ میں یہ واضح کر دوں کہ یہ نہ تو ہماری

قرارداد میں مطالبہ ہے نہ ہی یہ ہماری پوزیشن ہے،جہاں تک بات نام لینے کی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اور یقینا ایسا ہی ہوا گا کہ میاں صاحب نے بغیر ثبوت کے کسی کا نام نہیں لیا ہو گا اور اس قسم کے الزامات ثبوتوں کی بنیاد پر ہی آگے آنے چاہئیں،میں یہ طریقہ کار خود اپنی جماعت کیلئے نہیں اپناتا کہ میں جلسوں میں اس (یعنی براہِ راست الزام لگانا) کو بیان کرتا مگر میاں صاحب کا یہ حق ہے کہ وہ اس قسم کا

موقف لینا چاہیں تو ضرور لیں۔بلاول بھٹو نے کہاکہ جہاں تک میاں نواز شریف کا تعلق ہے تو وہ تین بار وزیر اعظم رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ انھوں نے واضح اور ٹھوس ثبوت کے بغیر نام نہیں لیے ہوں گے، یہ ایسا الزام نہیں ہے کہ آپ ایک جلسے میں کسی پر بھی لگا دیں، ابھی مشکل یہ پیش آئی ہے کہ کووڈ کی وبا کے باعث نواز شریف سے براہِ راست ملاقات کا موقع نہیں ملا جو کہ بہت ضروری ہے تاکہ میں

ان سے ملاقات کروں اور اس معاملے پر تفصیل سے بات کروں مگر مجھے انتظار ہے کہ میاں صاحب ثبوت سامنے لائیں گے یا پیش کرنا چاہیں گے لیکن اے پی سی کے اجلاس کے دوران میں نے ہی یہ شکایت کی تھی کہ جس طرح پولنگ سٹیشنز کے اندر اور باہر فوج کی تعیناتی قابلِ مذمت ہے، بالکل اسی طرح، مثال کے طور پر، ہمارے چیف جسٹس کا ڈیم فنڈ کی مہم پر نکلنا یا ان کی الیکشن کے

دن کچھ سرگرمیاں قابلِ مذمت ہیں اس لیے یہ ایک وسیع معانی رکھنے والا لفظ ہے اور آپ کسی ایک شخص کی طرف اشارہ نہیں کر سکتے مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہو کہ جلسوں میں اس پر بات نہیں کی جائے گی۔بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان کی حکومت لانے کی ذمہ داری کسی شخص پر نہیں ڈالی جا سکتی۔انھوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ حزب اختلاف یعنی پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے

پاکستان پیپلز پارٹی نے کْھل کر اپنے مؤقف کا اظہار نہیں کیا ہے اور براہ راست کسی شخصیت کا نام لینے سے گریز کیا ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ مسلم لیگ نواز نے 2018 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا الزم فوجی قیادت پر عائد کر کے ایک واضح مؤقف اختیار کیا ہے مگر مبصرین کی رائے میں پیپلز پارٹی اس معاملے پر واضح طور پر بات نہیں کر رہی، تو بلاول بھٹو نے اس تاثر کو غلط قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ان کی جماعت کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں وجود میں آئی اور اس کانفرنس کی قرارداد اور دستاویز ہی اس میں شامل تمام جماعتوں کی پالیسی ہے۔بلاول نے کہا کہ نواز شریف اپنے طریقے سے بات کر سکتے ہیں، یہ ان کا حق ہے، جبکہ میں اپنے طریقے سے بات کروں گا۔انہوںنے کہاکہ ہم تین نسلوں سے یہ جدوجہد کر رہے ہیں، میں جانتا ہوں کہ

کیسے لڑا جاتا ہے۔ پہلے دن سے اس پر کام کر رہا ہوں، اور آئندہ بھی بھاگوں گا نہ ہی رکوں گا، بلکہ اس مقصد پر کام جاری رکھوں گا۔انھوں نے کہا کہ وہ اور ان کی جماعت آل پارٹیز کانفرنس کے دوران تشکیل پانے والے ایجنڈے پر مکمل طور پر قائم ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں اپنی تقاریر میں پی ڈی ایم کے پاکستانی فوج کے خلاف بیانیے سے متعلق کہا تھا کہ مسلح افواج کے رینکس اینڈ فائلز میں

تصادم پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا تھا اس بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اداروں کو اپنی ٹائیگر فورس کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ادارے بدنام ہوتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ایسا کوئی نام نہیں لیا گیا تھا بلکہ یہ بات ہوئی تھی کہ فوج یا کسی ایک ادارے کا نام لینے کی بجائے اسٹیبلیشمنٹ کا لفظ استعمال کیا جائیگا، یہ پاکستان مسلم لیگ ن اور

نواز شریف کی اپنی رائے ہے اور وہ اس کے اظہار کا مکمل حق رکھتے ہیں۔اگر عمران خان کے الیکشن میں کسی بھی وجہ سے فوج کو پولنگ سٹیشنز کے اندر اور باہر کھڑا کیا جائے تو دھاندلی نہ بھی ہو تب بھی وہ متنازع بنیں گے۔ اگر عمران خان اپنے مخالفین کے جلسے کے بعد یہ باتیں کریں گے تو پھر وہ مزید متنازع بنیں گے، کم متنازع نہیں ہوں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ریاستی اداروں میں

کام کرنے والے اہلکار اس سوچ کو مثبت انداز میں لیتے ہیں کہ وہ ادارے، جن کے لیے، وہ اپنی جان بھی قربان کر سکتے ہیں، غیرمتنازع ہوں،ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ہر ادارہ اپنا کام کرے۔بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ وہ اور ان کی جماعت پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے ایجنڈے اور قرارداد کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ملک جن مشکل حالات سے گزر رہا ہے اس میں

دو ہی راستے ہیں، ایک تو یہ کہ ہم انتہا پسندانہ رویہ اختیار کریں اور ملک کو مزید مشکلات سے دوچار کر لیں جبکہ دوسرا یہ کہ ہم رکیں اور سوچیں کہ کس طرح آگے بڑھنا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ ترقی پسند جمہوریت ہی واحد راستہ ہے جبکہ کمزور جمہوریت آمریت سے کئی درجے بہتر ہے۔ انھوں نے ’ٹرتھ اینڈ ری کنسلیئیشن کمیشن‘ کے قیام کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی

وہ جماعت ہے جس کے خلاف صرف انتخابات میں ہی دھاندلی نہیں ہوئی بلکہ یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے، ان کی دھاندلی اور سول حکمرانی اور مضبوط جمہوریت کے لیے جدوجہد طویل اور تین نسلوں پر محیط ہے، اور اس کی بحالی کے لیے وہ جمہوری انداز میں کوشش جاری رکھیں گے۔انھوں نے کہا کہ پی ڈیم ایم کے پاس ابھی استعفوں کا آپشن بھی موجود ہے جبکہ دھرنے بھی دیے جا سکتے ہیں۔

اس سوال پر کہ کیا پیپلز پارٹی احتجاجی سیاست کے ذریعے ایک منتخب حکومت گرانے پر یقین رکھتی ہے، بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ جمہوری انداز میں مقصد حاصل کرنے کی حتی الامکان کوشش کی جائے۔انھوں نے کہا کہ حکومت میں رہنے کا جواز عوام کا اعتماد ہوتا ہے اور یہ اعتماد موجودہ حکومت کھو چکی ہے۔ انھوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور گرتی معیشت کا

الزام پی ٹی آئی پر لگاتے ہوئے اسے ایک نااہل حکومت قرار دیا۔پی ڈی ایم کے کراچی میں جلسے کے بعد آئی جی سندھ کے مبینہ اغوا، ایف آئی آر کیلئے دباؤ، مریم نواز شریف کے شوہر کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور مریم نواز کے کمرے کا دروازہ توڑ کر داخل ہونے کی کوشش کے معاملے پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ اس معاملے پر ان کا آرمی چیف سے دوبارہ رابطہ نہیں ہوا مگریہ علم ہے کہ

اس معاملے پر انکوائری چل رہی ہے،مجھے یقین ہے کہ اس پر تحقیقات مکمل کی جائیں گی اور قصوروار افراد کا تعین کر کے انھیں سزا بھی دی جائے گی، میں اس وقت صبر سے انتظار کر رہا ہوں کہ مجھے اس انکوائری سے متعلق آگاہ کیا جائے۔بلاول بھٹو زرداری کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم شروع کیے دو ہفتوں سے زائد وقت ہو چکا ہے اور اس دوران وہ اس خطے دور دراز سرحدی علاقوں میں بھی گئے ہیں،

ان علاقوں میں سفر کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ انھیں بہت جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے اور ان لوگوں نے بھی ان سے ملاقات کی جو ان کے نانا اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور والدہ بینظیر بھٹو سے گہری عقیدت رکھتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم ان علاقوں میں اپنے منشور کے ساتھ گئے ہیں جہاں اس سے پہلے کوئی لیڈر نہیں گیا تھا،میں نے تمام سفر بذریعہ سڑک کیا ہے اور میں ان راستوں پر

چلا ہوں جن سے ان دیہاتوں میں رہنے والے عام لوگ ہر روز گزرتے ہیں اور میں اسی لینڈ سلائیڈنگ میں پھنسا رہا ہوں جن میں یہ لوگ کئی دن اور کئی ہفتے پھنسے رہتے ہیں، یہ سفر اور لوگوں کا خلوص مجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔انھوں نے بتایا کہ ان دور دراز علاقوں میں بھی خواتین میں سیاسی شعور نے انھیں بے حد متاثر کیا ہے، پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے لوگوں کے حقِ حکمرانی اور حقِ ملکیت کے لیے کام کر

رہی ہے اور یہی ان انتخابات میں ان کا نعرہ ہے۔اس سوال پر کہ کیا مسلم لیگ کی طرح انھیں بھی کسی قسم کے دباؤ کا سامنا رہا ہے، انھوں نے جواب دیا کہ یہ ان کا مطالبہ رہا ہے کہ انتخابات صاف اور شفاف ہوں اور فوج پولنگ سٹیشنز کے اندر اور باہر موجود نہ ہو۔انہوںنے کہاکہ مسلم لیگ (ن )کے امیدوار توڑ کر پی ٹی آئی نے اپنی جماعت میں شامل کیے ہیں اور ایسی ہی کوششیں ان کے امیدواروں کے ساتھ بھی کی گئیں

مگر سوائے ایک شخص کے کوئی دوسرا پیپلز پارٹی چھوڑ کر کسی اور جماعت کا حصہ نہیں بنا۔انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کے اعلان کو انتخابات سے قبل دھاندلی کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی تو پہلے ہی گلگت بلتستان کے لیے یہ پوزیشن دے چکی تھی ہم نے گلگت بلتستان کو نام دیا ہے، کمیٹی بٹھائی، اسمبلی دلوائی،

وزیراعلیٰ اور گورنر بھی دیا اور یوں ہم نے تو عبوری درجہ پہلے ہی دے دیا تھا، اب تو ہم اس سے آگے کی بات کر رہے ہیں۔اس سوال پر کہ کیا وہ پی ٹی آئی کی جانب سے یہ معاملہ پارلیمان میں آنے کی صورت میں پی ٹی آئی کی حمایت کریں گے، بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی اور عمران خان پر زیادہ اعتبار نہیں کرتے کیونکہ عمران خان ’یوٹرن‘ لیتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم نے دیکھا ہے کہ عمران اپنے ہر

وعدے سے مکر جاتے ہیں۔ 2018 کے انتخابات سے پہلے انھوں نے جنوبی پنجاب کے لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ سو دن میں انھیں صوبہ بنا دیں گے مگر یہ نہیں کیا تو ہم انتظار کریں گے اور دیکھیں گے کیونکہ اگر وزیراعظم انتخابات سے قبل یوٹرن لے سکتے ہیں تو انتخابات کے بعد بھی لے سکتے ہیںانھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کئی وفاقی وزرا گلگت بلتستان کو علیحدہ صوبہ بنانے کی مخالفت کر چکے ہیں

اور اس ضمن میں ان کی جماعت کی ایک پٹیشن سپریم کورٹ میں موجود ہے اصل بات ہے منشور کی اور اس وقت پیپلز پارٹی ہی وہ واحد جماعت ہے جس کے منشور میں 2018 میں بھی گلگت بلتستان کو اس کے مکمل آئینی حقوق دینے کی بات شامل کی گئی تھی۔انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت خود پارلیمان میں گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی آئینی ترمیم لے کر جائے گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *