پیپلز پارٹی کا پی ڈی ایم سے الگ ہونے کا خدشہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی عارف حمید بھٹی نے پیپلز پارٹی کا پی ڈی ایم سے الگ ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا، انہوں نے کہا کہ اگر میاں نواز شریف کی بات حقائق کے برعکس اور ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ ثابت ہوئی تو پی ڈی ایم سے پیپلز پارٹی اپنا راستہ الگ کر لے گی، انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے جب سے  ادارے کے سربراہ کا نام لینا شروع کیا ہے تب سے

خود کو پیپلز پارٹی پی ڈی ایم سے تھوڑا الگ رکھ رہی ہے۔ معروف صحافی نے دعویٰ کیا کہ کراچی جلسے میں بھی وہ اداروں کے خلاف گفتگو کرنے جا رہے تھے لیکن بلاول بھٹو اور آصف زرداری نے نواز شریف کو ایسا کرنے سے منع کیا۔واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ گوجرانوالہ جلسے میں فوجی قیادت کا نام لینا نواز شریف کا ذاتی فیصلہ تھا، نام سن کر دھچکا لگا ،نوازشریف تین بار ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں ،یقین ٹھوس ثبوت کے بغیر نام نہیں لئے ہونگے ،انتظار ہے وہ کب ثبوت پیش کریں گے،عمران خان کی حکومت لانے کی ذمہ داری کسی شخص پر نہیں ڈالی جا سکتی،نواز شریف اپنے طریقے سے بات کر سکتے ہیں جوانکا حق ہے،میں اپنے طریقے سے بات کروں گا،عمران خان اداروں کو اپنی ٹائیگر فورس کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ادارے بدنام ہوتے ہیں،پاکستان میں ہر ادارہ اپنا کام کرے،تسلیم کرنا ہو گا ترقی پسند جمہوریت ہی واحد راستہ ہے ، کمزور جمہوریت آمریت سے کئی درجے بہتر ہے،پی ڈی ایم کا ایک اتحاد ہے ،ہمارا ایجنڈا ہماری آل پارٹیز کانفرنس میں طے پانے والی قرارداد میں واضح ہے،میں اور میری جماعت اے پی سی کے دوران تشکیل پانے والے ایجنڈے پر مکمل طور پر قائم ہے،پی ڈیم ایم کے پاس ابھی استعفوں کا آپشن بھی موجود ہے ، دھرنے بھی دیے جا سکتے ہیں، کراچی میں کیپٹن ریٹائرڈمحمد

صفدر کی گرفتاری معاملے پر انکوائری چل رہی ہے ، یقین ہے قصوروار افراد کا تعین کر کے سزا دی جائیگی ، پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے لوگوں کے حقِ حکمرانی اور حقِ ملکیت کے لیے کام کر رہی ہے،عمران خان کی جانب سے گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کے اعلان انتخابات سے قبل دھاندلی کے مترادف ہے ، عمران خان یوٹرن لیتے ہیں، پیپلز پارٹی خود

پارلیمان میں گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی آئینی ترمیم لے کر جائے گی۔بلاول بھٹو زرداری نے ’’بی بی سی ‘‘کو دئیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور گلگت بلتستان میں انتخابی مہم سے متعلق بات چیت کی ہے۔بلاول بھٹو زر داری سے پوچھاگیا کہ پی ڈی ایم کی تشکیل کے وقت ہونے والی آل پارٹیز

کانفرنس اور دیگر اجلاسوں میں کیا مسلم لیگ (ن) نے پاکستانی فوج کی قیادت کے سربراہ کا نام لیا تھا، یا اس بارے میں کوئی اشارہ دیا تھا؟اس پر بلاول بھٹو زرداری نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کے ایجنڈے کی تیاری کے وقت نواز لیگ نے فوجی قیادت کا نام نہیں لیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہاں (اے پی سی میں) یہ بحث ضرور ہوئی تھی کہ الزام صرف ایک

ادارے پر لگانا چاہیے یا پوری اسٹیبلیشمنٹ پر لگانا چاہیے اور اس پر اتفاق ہوا تھا کہ کسی ایک ادارے کا نہیں بلکہ اسٹیبلیشمنٹ کہا جائیگابلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب انھوں نے گوجرانوالہ کے جلسے میں میاں نواز شریف کی تقریر میں براہ راست نام سنے تو انھیں ’دھچکا‘ لگا۔

انہوں نے کہاکہ یہ میرے لیے ایک دھچکا تھا کیونکہ عام طور پر ہم جلسوں میں اس طرح کی بات نہیں کرتے مگر میاں نواز شریف کی اپنی جماعت ہے اور میں یہ کنٹرول نہیں کر سکتا کہ وہ کیسے بات کرتے ہیں اور نہ ہی وہ کنٹرول کر سکتے ہیں کہ میں کیسے بات کرتا ہوں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *