عمران خان کا ظہرا نہ، حکومت میں شامل جماعتیں وعدے پورے نہ کرنے پر پھٹ پڑیں ،وزیر اعظم کیا یقین دہانیاں کراتے رہے ؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی

اسلام آباد (آن لائن)وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے اتحادی جماعتوں کے اعزاز میں دئیے جانے والے ظہرانے میں حکومت میں شامل جماعتیں وعدے پورے نہ کرنے پر پھٹ پڑیں جبکہ مسلم لیگ ق نے وزیر اعظم کے ظہرانے کا بائیکاٹ کیا ۔اتحادیوں کا کہناتھاکہ تحریک انصاف

کی حکومت کے وعدے پورے نہ کرنے کے باوجود ہم ان کے ساتھ چل رہے ہیں جبکہ وزیر اعظم نے یقین دلایا کہ وہ اتحادیوں سے کئے گئے تمام وعدے پورے کرینگے۔اس وقت اپوزیشن ملک کو نقصان پہنچانے کیلئے تلی ہوئی ہے مگر میں ان سے کسی صورت بلیک میل نہیں ہونگا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے جمعرا ت کو حکومتی اتحادیوں کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق ظہرانے میں اتحادیوں کے شکایات کے انبار لگا دیئے۔ ظہرانے میں چئیرمین سینیٹ،وزیراعلی پنجاب،وزیراعلی بلوچستان اور وزیراعلی کے پی کے بھی شریک ہوئے ۔ظہرانے میں وزیراعظم ، وزیراعلی بلوچستان، وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا، ڈاکٹر خالد مقبول اور اسد عمر نے گفتگو کی۔اتحادیوں نے ترقیاتی فنڈز، میگا پراجیکٹ نہ دینے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق اتحادیوں کی جانب سے وزیراعظم کے سامنے حلقے کے عوام کے مسائل حل نہ ہونے پر احتجاج کیا ۔ایم کیو ایم نے کراچی سے کیے گئے وعدے پورے

کرنے کا مطالبہ کیا ۔ کراچی میں مسائل بہت ہیں حل کیے جائیں۔ ایم کیوایم نے شکوہ کیا کہ کراچی کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہورہا ۔ جی ڈی اے رہنماء فہمیدہ مرزا نے شکوہ کیا سندھ حکومت ہمارے ساتھ نا انصافی کر رہی ہے۔فہمیدہ مرزا نے کہا ایسی ملاقاتوں کی اشد ضرورت ہے ہوتی رہنا چاہیے۔

انہوں نے نے اندرون سندھ کو نظرانداز کرنے پر تحفظات ظاہرکیے اور کہا اندرون سندھ میں وفاقی یا صوبائی حکومتوں نے کوئی میگا پراجیکٹ یا ترقیاتی کام نہیں کیے۔اندرون سندھ کی عوام کے ساتھ سوتیلے جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔وزیراعظم صاحب اندرون سندھ کے عوام

کے مسائل پر توجہ دیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے وفاقی حکومت کی جانب سے وعدوں کی تکمیل نہ ہونے پر شکایت کی اور اپنے صوبے کے مسائل سے وزیر اعظم کو آ گاہ کیا ا انہوں نے کہا کہا بلوچستان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پرحل ہونے چاہئیں۔ اندرون سندھ کے عوام کو نطر اندار

کرنے پر مسلم لیگ فنکشنل کی جانب سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ۔پیرصدر الدین راشدی نے کہا حلقوں کے مسائل حل کیے جائیں۔ ہم آپ کے اتحادی ہیں لیکن حکومت اس کا ثبوت نہیں دے رہی ۔ خالد مقبول نے لا پتہ کارکنوں،کراچی کے مقدمات اور اپنی پارٹی کے تحفظات پیش کئے۔

وفاقی وزیر وزیر ا سد عمر نے ملکی معیشت اور معاشی اصلاحات پر بریفنگ دی۔ اسد عمر کا کہناتھا ملکی معاشی صورتحال بہت بہتر ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اتحادیوں کو مسائل کے حل کی یقین دہائی کروائی اور کہا اتحادیوں سے کیے گئے تمام وعدوں کو پورا

کیا جائے گا۔وزیر اعظم کا کہناتھا میں نے آپ کے تحفظات سن لیے ہیں، جلد عملدرامد ہوتا نظر آئے گا۔ہم تمام لوگ پاکستان کو بہتر بنانے کے لیے یکجا ہیں۔آپ کو نظر آرہا ہے کہ اپوزیشن ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے تلی ہوئی ہے۔اپوزیشن مجھے بلیک میل کرنے کی پوری کوشش

کررہی ہے۔آپ سب کو معلوم ہے کہ میں بلیک میل نہیں ہونے والا۔ وزیراعظم نے آئندہ ڈھائی سالوں کو صرف کارکردگی کے سال قرار دے دیا انہوں نے کہا آئندہ ڈھائی سال حکومت اور اتحادی بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔اگلا الیکشن کارکردگی کی بنیاد پر جیتیں گے۔

اگلے عام انتخابات تاریخ کے شفاف ترین انتخابات ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا اپوزیشن سے نیشنل ڈائیلاگ کرنا چاہتے تھے مگر اپوزیشن درمیان میں این آر او مانگنا شروع ہو جاتی ہے ۔اگر نیب کیسز میں رعایت دینی ہے تو ڈائیلاگ کاکیا فائدہ ؟ وزیر اعظم نے کہا ذاتی مفاد کی شرائط

پر ڈائیلاگ بے معنی ہوں گے ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے مہنگائی کے معاملے پر اتحادیوں سے رائے لی ۔اتحادی ارکان نے مہنگائی سے نمٹنے پر زور دیا اورمشورہ دیا کہ مہنگائی بہت ہوگئی. سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔ عمران خان کا کہناتھاکہ مہنگائی کے معاملے پر سخت اقدامات اٹھانے سے متفق ہوں ۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لئے مستقل بنیادوں پر کام کررہے ہیں ۔ معاشی اعشارئئے تیزی سے بہتر ہورہے ہیں ایکسپورٹ بھی بڑھ گئی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *